جیون ریڈی کے وعدے جو وفا نہ ہوئے

ترقیاتی کام برفدان کے نذر ، جگتیال کے مسلمانوں میں بے چینی
جگتیال /21 مئی ( سیاست ڈسٹرکٹ نیوز ) مسلم شادی خانہ جدید عیدگاہ تاٹ پلی اراضی اقلیتی اقامتی اسکول وغیرہ سے متعلق رکن اسمبلی ٹی جیون ریڈی کے تین اہم وعدے وفا نہ ہوئے ۔ مسلم شادی خانہ اور کمیونٹی ہال جگتیال کو لے کر شہر کے مسلمانوں میں بے چینی کی کیفیت ہے ۔ رکن اسمبلی ٹی جیون ریڈی نے چند ماہ قبل اپنے گھٹنوں کا حیدرآباد میں آپریشن کیلئے جانے سے قبل ابوالکلام یوتھ کی جانب سے منعقدہ ابوالکلام بیاٹ منٹن چیمپین شپ تقسیم انعامات کے موقع پر یہ وعدہ کیا تھا کہ ایک ماہ میں مسلم شادی خانے کو مسلمانوں کے حوالے کردوں گا لیکن آج تک یہ وعدہ وفا نہیں ہوا ۔ یہی نہیں اسکا نام بھی ابوالکلام آزاد سے موسوم کرنے کا بھی اعلان کیا تھا اور ابوالکلام یوتھ کی جانب سے مسلم علاقے میں مسلم نوجوانوں میں اسپورٹس کے فروغ کیلئے انڈور اسٹیڈیم کی تعمیر کی نمائندگی پر انہوںنے مسلم شادی خانے میں ہی ایک شیڈ کو انڈور اسٹیڈیم بنانے کا وعدہ کرتے ہوئے پروگرام کے اختتام پر نوجوانوں کے ہمراہ شادی خانہ پہونچ کر معائنہ کیا اور بلدیہ انجینئیر کو طلب کرتے ہوئے اس سلسلہ میں پیشرفت کرنے کی ہدایت دی تھی لیکن یہاں قابل ذکر بات یہ ہے کہ مسلم شادی خانہ اور کمیونٹی ہال عرصہ دراز سے تعمیرات کے نام پر کنٹراکٹر اور ٹھیکہ داروں کے قبضے میں ہے آج تک مسلمانوں کے ا ستعمال میں نہیں آیا سوائے دو چار غریب لڑکیوں کی شادی کے ، وہ بھی مجبوری کی حالت میں جہاں پر برقی سربراہی بھی نہیں ہے ۔ لاکھوں روپئے صرف کئے گئے لیکن یہاں خالی جگہ نظر آئی ۔ لاکھوں روپئے برباد کردئے گئے باوجود اس کے مسلمانوں کے حوالے نہیں کیا جارہا ہے ۔ جس سے مسلمانوں میں بے چینی پائی جارہی ہے ۔ یہی نہیں 2009 کے انتخابات سے قبل رکن اسمبلی ٹی جیون ریڈی اس وقت وزیر عمارات و شوارع تھے ۔ انہوں نے اپنی خصوصی دلچسپی سے جگتیال کے مسلمانوں کیلئے ایک جدید عیدگاہ کیلئے موضع تاٹپلی میں 10 ایکر اراضی کی پروسیڈنگ کاپی حوالے کی تھی اور مسلم طلباء کیلئے انگلش میڈیم ریسیڈنشیل اسکول کی منظوری دلوائی تھی ۔ جس کیلئے موضع ٹی آر نگر کالونی میں دس ایکر اراضی کی منطوری کا بھی اعلان کیا تھا ۔ اس انتخابات میں ان کی ناکامی کے بعد اس طرف اپنی توجہ ہٹالی جس کی وجہ سے یہ آج تک برفدان ہوگئے ۔