سڈنی ۔ 6 ۔ جنوری (سیاست ڈاٹ کام) انگلینڈ کے خلاف ایشز سیریز میں 5-0 کی کامیابی حاصل کرنے کے بعد آسٹریلیائی کرکٹ ٹیم کے کپتان مائیکل کلارک نے ساتھی کھلاڑیوں کی کافی ستائش کی اور کہا کہ گھریلو میدانوں پر انگلینڈ کے خلاف کھیلے جانے والی ایک اہم سیریز میں غیر معمولی کامیابی کے بعد کھلاڑیوں کے حوصلے بلند ہیں لیکن آئندہ ماہ دورہ جنوبی افریقہ پر کھیلی جانے والی سیریز مسابقتی ہوگی ۔ مائیکل کلارک کے بموجب ایشز سیریز کی فتوحات نے آسٹریلیائی کھلاڑیوں کے حوصلے بلند کرنے کے علاوہ ان کے لئے ایک مقصد ظاہر کردیا ہے لیکن بیرون ممالک کھیلی جانے والی سیریز ہمیشہ ہی ایک بڑا چیلنج ہوتی ہے جبکہ جنوبی افریقی ٹیم اس وقت ٹسٹ کی نمبر ایک ٹیم ہے اور اس کے خلاف اسی کے گھریلو میدانوں میں کھیلی جانے والی سیریز آسان نہیں ہوگی۔
آسٹریلیائی ٹیم آئندہ ماہ جنوبی افریقہ کا دورہ کر رہی ہے جہاں وہ تین ٹسٹ اور تین ٹوئینٹی 20 مقابلوں میں میزبان ٹیم کا مقابلہ کرے گی جبکہ دونوں ٹیموں کے درمیان پہلے ٹسٹ کا 12 فروری کو سنچورین میں آغاز ہورہا ہے۔ آسٹریلیائی ٹیم جس نے گھریلو میدانوں میں انگلینڈ کے خلاف ایشز سیریز میں 5-0 کی شاندار کامیابی حاصل کی ہے تو دوسری جانب جنوبی افریقی ٹیم نے ونڈے کی عالمی چمپین ہندوستان کے خلاف ونڈے سیریز 2-0 اور دو ٹسٹ مقابلوں کی سیریز 1-0 سے اپنے نام کی ہے۔ اس ضمن میں مائیکل کلارک کا کہنا ہے کہ دونوں ہی ٹیمیں گھریلو سیریز میں کامیابی حاصل کی ہیں جبکہ جنوبی افریقی ٹیم ٹسٹ کی نمبر ایک ٹیم ہونے کے علاوہ اپنے گھریلو میدانوں پر ہمیشہ ہی سخت ترین حریف ثابت ہوتی ہے لیکن ایشز سیریز میں جس طرح خصوصاً بولروں نے جو مظاہرے کئے ہیں، اس سے آسٹریلیائی ٹیم پرعزم ہے کہ جنوبی افریقہ کے خلاف فتوحات حاصل کرے گی۔ مائیکل کلارک نے ایشز سیریز کے کامیاب ترین بولر میچل جانسن کی ستائش کرتے ہوئے کہا کہ انگلینڈ کے خلاف غیر معمولی کارکردگی کی بدولت جانسن نے خود کو عظیم فاسٹ بولروں کی فہرست میں شامل کرلیا ہے اور جنوبی افریقہ کے خلاف بھی وہ ٹیم کی فتوحات میں اہم رول ادا کرسکتے ہیں۔ دریں اثناء آسٹریلیائی آل راؤنڈر شین واٹسن نے انگلینڈ کو ایشز سیریز میں چاروں شانے چت کرنے کے بعد اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ ٹیم کے یہ شاندار مظاہرے نئے کوچ ڈیرن لیہمن کی قیادت میں کھلاڑیوں کے مظاہروں میں بہتری کا ایک بہترین ثبوت ہے کیونکہ ٹیم گزشتہ کوچ مکی آرتھر کے دور میں کامیابی حاصل کرنا ہی بھول گئی تھی ۔ واٹسن اور آرتھر کے تنازعات کسی سے پوشیدہ نہیں لیکن آج انہوں نے نئے کوچ ڈیرن کی ستائش کرتے ہوئے کہا کہ ان کی قیادت میں آسٹریلیائی ٹیم کیلئے بین الاقوامی کرکٹ ایک تفریح کا سامان بن چکا ہے ۔ انہوں نے مزید کہا کہ میری شخصی رائے ہے کہ کامیابی ہمارے لئے مزید خوبصورت ہوچکی ہے ۔ انہوں نے مزید کہا کہ ڈیرن کی آمد اور چند دنوں میں ہی ٹیم کے مظاہروں میں غیر معمولی بہتری ٹیم کی کامیابی کے سمت گامزن ایک سفر ہے۔ آرتھر کے بعد ایشز سیریز 2013 ء جو کہ انگلینڈ میں کھیلی گئی تھی ،
اس سے چند دن قبل ڈیرن نے ٹیم کے کوچ کا عہدہ سنبھالا تھا لیکن چند ماہ کے دوران ہی انہوں نے کھلاڑیوں کے مظاہروں میں بہتری اور ٹیم کو فتوحات کی ڈگر پر گامزن کردیا ہے ۔ انگلینڈ کے خلاف ایشز سیریز میں 5-0 کی کامیابی کے بعد آسٹریلیائی میڈیا نے اپنے کھلاڑیوں اور ٹیم کے مظاہروں کی بھرپور ستائش کی ہے۔ سڈنی کے روزنامہ ٹیلیگراف کے مالکم کون نے لکھا ہے کہ 137 سالہ ٹسٹ تاریخ میں یہ ایسا پہلا موقع رہا کہ آسٹریلیا نے مکمل سیریز میں انگلینڈ کے خلاف غیر معمولی دبدبہ رکھا اور ہر مقابلہ میں اندرون تین دن انگلش ٹیم کے کھلاڑیوں کو آؤٹ کرتے ہوئے مکمل 100 وکٹیں حاصل کی ہیں۔ میچل جانسن اور براڈ ہاڈین کو سیریز میں کامیابی حاصل ہوجانے کے باوجود قطعی 11 کھلاڑیوں میں آرام نہیں دیا گیا جو کہ سلیکٹروں کا ایک بہتر فیصلہ تھا ۔ آسٹریلیائی اخبار کیلئے تحریر کردہ ایک مضمون میں پیٹر لالور نے لکھا ہے کہ کلارک کی ٹیم کو ہندوستان میں 4-0 اور پھر انگلینڈ کے خلاف بیرون ملک کھیلی گئی ایشز سیریز میں 3-0 کی شکست ہوئی تھی اور اس کے بعد گھریلو ایشز سیریز میں 5-0 کی کامیابی حاصل کرنا غیر معمولی مظاہرے کا نتیجہ ہے۔