نئی دہلی۔ 15 اپریل (سیاست ڈاٹ کام) کانگریس نے آج کہا کہ جنتا دل میں شامل 6 سابق پارٹیوں کا ایک نئی پارٹی کی شکل میں انضمام زیادہ اہم تبدیلی نہیں ہے اور اس سے کانگریس کے امکانات متاثر نہیں ہوں گے۔ پارٹی کے ترجمان پی سی چاکو نے کہا کہ نئی پارٹی کے ساتھ بہار اسمبلی انتخابات میں اتحاد کے مسئلہ پر فیصلہ جلد ہی کیا جائے گا۔ بہار اسمبلی انتخابات کے جاریہ سال کے اواخر میں انعقاد کا ہنوز اعلان نہیں ہوا ہے۔ یہ ان کا داخلی معاملہ ہے۔ 1991ء اور 1996ء میں ایسے کئی اتحاد کے تجربے کئے گئے تھے، لیکن بعد میں پھوٹ پیدا ہوگئی۔ انہوں نے اشارہ دیا ہے کہ جو کچھ آج ہوا ہے، ایسا ہی تجربہ ہے۔ انہوں نے جنتا پریوار کے ساتھ اتحاد سے کانگریس پارٹی پر منفی اثر مرتب ہونے کے امکانات کو مسترد کردیا۔ نتیش کمار زیرقیادت نئی پارٹی کی بہار اسمبلی انتخابات میں تائید کے بارے میں انہوں نے کہا کہ فی الحال ہم بہار حکومت کی تائید کررہے ہیں۔ سینئر قائد اے کے انٹونی کی زیرقیادت کمیٹی اتحاد کے مسئلہ کا فیصلہ کرے گی۔ ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ انٹونی کمیٹی کے کارآمد ہونے کے بارے میں انہوں نے کہا کہ جب تک مخلوط سیاست پر عمل ہوتا رہے گا یہ کمیٹی کارآمد برقرار رہے گی۔ انہوں نے کہا کہ ریاست میں اتحاد کے مسئلہ پر علیحدہ طور پر فیصلہ کیا جائے گا کیونکہ ہر ریاست میں صورتحال مختلف ہوتی ہے۔ جنتا پریوار میں آج 6 پارٹیوں کا انضمام عمل میں آیا اور ایک نئی پارٹی تشکیل پائی جس کا مقصد مبینہ طور پر بی جے پی کا مقابلہ کرنا ہے۔ خاص طور پر بہار کے آئندہ انتخابات میں ایسا کیا جائے گا۔ پٹنہ سے موصولہ اطلاع کے بموجب سابق چیف منسٹر بہار جتن رام مانجھی نے آج جنتا پریوار کی پارٹیوں کے انضمام کو ’’مہا پرلے‘‘ (عظیم تباہی) قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ اور دیگر 17 بہار ارکان اسمبلی جے ڈی (یو) میں برقرار رہیں گے اور الیکشن کمیشن سے درخواست کریں گے کہ جنتا دل (یو) کا انتخابی نشان انہیں عطا کیا جائے۔ سابق جنتا پریوار کی 6 پارٹیوں جنتا دل (یونائٹیڈ) ، جنتادل (سیکولر) ، راشٹریہ جنتا دل ، سماج وادی جنتا پارٹی، انڈین نیشنل لوک دل اور سماج وادی پارٹی کا نئی پارٹی میں انضمام جتن رام مانجھی کے بموجب عظیم انضمام نہیں بلکہ عظیم تباہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جس لمحہ جے ڈی (یو) کا انتخابی نشان انضمام کے بعد منجمد کیا گیا اسی وقت ہم نے الیکشن کمیشن سے ربط پیدا کرکے جے ڈی (یو) میں برقرار رہنے اور پارٹی کا پرچم اور انتخابی نشان ہمیں عطا کرنے کی خواہش کی تھی۔