رام پنیانی
جمہوریت میں انتخابات کو بجاطور پر ’عوام کا تہوار‘ کہا جاسکتا ہے۔ وہ طے کرتے ہیں کہ آنے والے وقت میں ملک کی ڈگر کیا ہونی چاہئے۔ یہ بالعموم معاملہ ہے اور ہندوستانی جمہوریت ابھی تک اسی راہ پر گامزن رہی، اور جمہوری عمل میں گیرائی پیدا کرتی رہی ہے۔ ایسا نہیں کہ کوئی مسائل ہی نہیں ہیں۔ جمہوری عمل کی افادیت کو پیسے کی طاقت، دھونس جمانے کی طاقت، ای وی ایم مشینوں پر اعتبار سے متعلق کئی مسائل نے متاثر کردیا ہے۔ بامعنی جمہوری سماج کی سمت پیش رفت میں رکاوٹ کا ایک نیا پہلو گزشتہ لگ بھگ پانچ برسوں کے دوران شدت اختیار کرگیا ہے۔ وہ عنصر سوسائٹی کو مذہبی خطوط پر تقسیم کرنے، مذہبی اقلیتوں کو ڈرانے دھمکانے کیلئے اقتدار کے صریح بیجا استعمال کے ذریعے جمہوری عمل کی قدر کو گھٹا دینے سے متعلق ہے۔
سرپرست ِجمہوریت ’ہندوستانی دستور‘ کو چیلنج کیا گیا ہے اور اس کی کھلی مخالفت وہ قوتیں کررہی ہیں جو مذہب کی شناخت کے نام پر سیاست کرتی ہیں، یعنی ہندومت سے متعلق شناختی مسائل کا استعمال کرتی ہیں۔ گزشتہ پانچ سال کی تبدیلیوں میں مودی حکومت نے سماج کے مختلف طبقات کو مختلف وجوہات کی بناء متنبہ کیا، خوفزدہ کیا اور متزلزل کیا ہے۔ ان کو آبادی کے قابل لحاظ حصہ نے ’اچھے دن‘ ، ہر شہری کے اکاؤنٹ میں 15 لاکھ روپئے جمع کرانے، کرپشن کے خاتمہ، قیمتوں میں اضافہ پر کنٹرول، ڈالر کے مقابل روپیہ کی قدر کو مضبوط کرنے، روزگار پیدا کرنے اور کسانوں کیلئے اقل ترین امدادی قیمت کی امید میں ووٹ دے کر اقتدار تک پہنچایا، لیکن یہ امید بالکلیہ مایوسی میں بدل گئی اور عوام بیروزگاری اور زرعی بحران کی سخت پریشانیوں سے دوچار ہیں۔ بڑھتی قیمتوں نے سماج کے اوسط طبقات کی کمر توڑ رکھی ہے۔ بکھری اپوزیشن نے عدم اتحاد کی غلطی کو سمجھ لیا اور اپوزیشن اتحاد کو عمل شکل دینے کیلئے کوششیں جاری ہیں جو ابھی تک سنجیدہ سہی مگر پوری طرح کامیاب نہیں ہوپائی ہیں۔ اپوزیشن نے جان لیا کہ مودی کی کامیابی کی بڑی وجہ زبردست پروپگنڈہ اور کارپوریٹ فنڈنگ کے علاوہ بکھری اپوزیشن رہی ہے۔ یوں تو اپوزیشن کو اقل ترین پروگرام بنانے کیلئے ابھی بہت کچھ کرنا باقی ہے لیکن عوام کے مسائل پر توجہ مرکوز کرنے کیلئے تاحال جو کچھ بھی کوشش ہوئی وہ عین ممکن ہے انتخابات کے قریب آتے آتے مضبوط تر ہوتی جائے گی۔
مودی اینڈ کمپنی نے ملک کی یکجہتی میں سنگین دراڑ پیدا کی ہے۔ رام مندر، گھر واپسی، لوو جہاد اور پھر گائے۔بیف جیسے مسائل نے ہندوستانیوں کے بھائی چارہ کو کاری ضرب لگائی، جو سکیولر ڈیموکریسی کی بنیاد ہوتی ہے۔ تکثیریت جو ہندوستانی جدوجہد آزادی کی اصل طاقت رہی اور ہمارے دستور کا بنیادی نکتہ رہا، اُسے موجودہ حکومت نے لگاتار نشانہ بنایا ہے۔ جہاں بی جے پی نے اپنے ایجنڈے کو شدت سے آگے بڑھایا، وہیں اس کے حلیفوں نے اقتدار کا فائدہ اٹھاتے ہوئے بی جے پی ایجنڈے میں خاموشی سے مدد کی ہے۔
مودی کا سیاسی اثر و رسوخ یا یوں کہہ لیں کہ مودی کی سیاسی طاقت میں اضافہ گودھرا ٹرین آتشزدگی معاملہ کو سیاسی رنگ دینے، فرقہ وارانہ بنانے اور متعلقہ ریاست میں قتل عام کی وجہ بنانے کے بعد دیکھنے میں آیا۔ سماج میں اس انتشار کا مابعد انتخابات میں بی جے پی کو بڑا انتخابی فائدہ پہنچا۔ اس کے بعد مودی نے اپنی باتوں میں تبدیلی لائی اور وکاس (ترقی) پر بولنا شروع کردیا۔ اُن کی دانست میں وکاس اپنے سرمایہ دار دوستوں کو کوری چٹھیاں تھما دینا ہے۔ سرمایہ داروں کو بہت فائدہ معلوم ہوا اور زور دینے لگے کہ مودی کو اگلا وزیراعظم ہونا چاہئے۔ بی جے پی کی مادر تنظیم آر ایس ایس نے اپنا رول ہوشیاری سے ادا کیا اور اپنے لاکھوں سویم سیوکوں؍ پرچارکوں کو عملی میدان میں اتارتے ہوئے مودی کی جیت کو یقینی بنایا۔ ایسا پہلی مرتبہ ہوا کہ بی جے پی نے سادہ اکثریت کا جادوئی ہندسہ کو عبور کرلیا اور اقتدار کے بھوکے ’دَل بدلو‘ حلیفوں کے ساتھ مل کر آر ایس ایس پریوار کا ایجنڈہ چھیڑ دیا جو دراصل ہندو قوم پرستی کا ایجنڈہ ہے۔ کشمیر کچھ ایسا ’ریئل اسٹیٹ‘ مسئلہ بن گیا کہ اتنی شدت سے پہلے کبھی نہیں ہوا تھا۔
آر ایس ایس پریوار کے نام نہاد محاذی عناصر جو سنگھ پریوار کی اپنی افرادی ترکیب کا لازمی جزو ہے، اُس نے سڑکوں کو اپنی جاگیر سمجھ لیا اور لنچنگ یا ہجومی تشدد مودی حکومت کی سیاست کا غالب حصہ بن گیا۔ مذہبی اقلیتوں کو دھمکانے کے ساتھ دلتوں پر حملے ہونے لگے اور خواتین میں عدم سلامتی کا احساس بڑھنے لگا۔ بی جے پی کی کارپوریٹ اداروں کے مفادات پر مبنی سیاست کی وجہ سے بالکلیہ نظرانداز کسانوں نے بار بار احتجاج کا راستہ اپنایا، مگر کچھ فائدہ نہیں ہوا۔ اُن کی بے اطمینانی سنسنی پیدا کررہی ہے اور سماج کے دیگر طبقات میں پریشانی و بے چینی میں ایک اور اضافہ بن گئی ہے۔ ان تمام پہلوؤں کے مدنظر مختلف انتخابی سروے میں بی جے پی کی شکست کا انکشاف شروع ہوگیا۔
تاہم، یکایک پلوامہ میں دہشت گردانہ حملہ ہوتا ہے، جسے حکومت انتخابی فائدہ حاصل کرنے کیلئے استعمال کررہی ہے۔ بی جے پی آرمی کی کارروائیوں کو مودی۔ بی جے پی کا کارنامہ بتارہی ہے۔ بی جے پی جو ’اچھے دن‘ کے نعرہ پر اقتدار تک پہنچی، اب مودی کو مضبوط لیڈر کے طور پر پیش کرنے سرگرم ہے۔اس دوران میڈیا کا بڑا حصہ منظر پر چھانے کوشاں ہے۔ اپوزیشن جس نے حکومت کے دعوؤں کے تعلق سے سوالات اٹھائے، اُسے کچھ اس طرح بدنام کیا جارہا ہے جیسے کہ وہ آرمی کے دعوے پر شبہ کررہے ہوں! کیسا موڑ آگیا اور اپوزیشن پارٹیوں کو تنقید کا نشانہ بنانے کا کیا پیچ دار طریقہ ہے! کیا اس سے مودی کے انتخابی امکانات روشن ہوں گے؟ بہرحال آج ملک کے شہریوں کو دو نظریات میں کسی کو منتخب کرنے کی صورتحال کا سامنا ہے۔ آیا وہ ’آئیڈیا آف انڈیا‘ چاہتے ہیں جو تحریک آزادی سے اُبھرا، ایسا آئیڈیا جس نے تمام مذاہب کے لوگوں کو قوم کی تعمیر کے عمل میں مساوی شراکت دار بنایا، قانون کی نظر میں مساوی قرار دیا اور شہریت کے تمام امور میں بھی مساوی مانا۔ اس کے برخلاف مودی۔ بی جے پی کا حریف نظریہ ہے، جہاں اعلیٰ طبقۂ ہندو سیاست کا محور ہے، جہاں اوسط لوگوں کے مسائل طاق پر رکھ دیئے جاتے ہیں، جہاں دلتوں کو اُناؤ نوعیت کی زدوکوبی یا روہت ویمولا طرز کے ادارہ جاتی قتل سے دوچار کیا جاتا ہے، جہاں خواتین کو کٹھوعہ اور اُناؤ جیسی صورتحال کا سامنا ہے، اور مذہبی اقلیتیں دوسرے درجہ کے شہری تک گھٹا دیئے گئے ہیں۔
مودی کی طاقتور پروپگنڈہ مشنری کے باوجود واضح ہے کہ آپ عوام کو ہمیشہ بے وقوف نہیں بناسکتے۔ ’اچھے دن‘ لوگوں کو ایک مرتبہ جھانسہ دے سکتے ہیں۔ جنونی حب الوطنی، جبر کے ساتھ قوم پرستی ہوسکتا ہے لوگوں کو عارضی طور پر غفلت کی نیند سلادے لیکن یہ کیفیت کچھ عرصہ بعد برقرار نہیں رہ سکتی۔ مسائل کی دردناک ٹیسیں اِس مرتبہ یقینا انھیں اپنی جمہوری اہمیت ثابت کرنے کی تحریک دے گی اور اپوزیشن کی اعتدال پسند زبان، مسائل کی یکسوئی پر زور بلاشبہ غالب آئیں گے اور مہاتما گاندھی، نہرو اور سردار پٹیل کے نظریۂ ہندوستان کی حمایت میں ڈٹ جانے والوں کو اِس بار یقینا کامیابی ملے گی۔ امید یہی ہے کہ عوام کی سوجھ بوجھ سمجھا دے گی کہ آنے والے وقت میں ملک کیلئے کیا بہترین ہے، اور یہی پہلو ہندوستانی جمہوریت کا بچاؤ کرے گا، یہی پہلو فرقہ وارانہ قوم پرستی کے خطرے کو ناکام بنائے گا۔
ram.puniyani@gmail.com