جموں کشمیر میں صدر راج نافذ ، اعلامیہ جاری

ریاست کے تمام اختیارات پارلیمنٹ کے تفویض، گورنر کو کسی فیصلہ کا اختیار نہیں
نئی دہلی ۔ 19 ڈسمبر (سیاست ڈاٹ کام) جموں کشمیر میں گورنر راج کے 6 ماہ مکمل ہونے کے فوری بعد آج رات نصف شب سے صدر راج کا اطلاق عمل میں آیا ہے۔ مرکزی کابینہ نے دہشت گردی سے متاثرہ اس ریاست میں تمام پالیسی فیصلے کرتے ہوئے صدر راج کیلئے راہ ہموار کردی۔ صدرجمہوریہ رامناتھ کووند نے ریاست میں صدر راج کے نفاذ کے اعلامیہ پر دستخط کردیئے۔ محبوبہ مفتی زیرقیادت مخلوط حکومت سے بی جے پی کے 25 ارکان اسمبلی کی تائید واپس لئے جانے کے بعد حکومت اقلیت میں آ گئی تھی۔ جون میں یہاں سیاسی بحران پیدا ہوا تھا۔ گزٹ اعلامیہ کو آج جاری کردیا گیا ہے۔ صدر جمہوریہ کو گورنر جموں کشمیر ستیہ پال ملک سے ریاستی صورتحال پر رپورٹ وصول ہوئی اس پر غوروخوض کے بعد ہی ریاست میں صدر راج نافذ کرنے کی ضرورت محسوس کرتے ہوئے اطمینان بخش طریقہ سے حالات سے نمٹنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ دستور ہند کے آرٹیکل 356 کے تحت اس اعلامیہ کو جاری کیا گیا۔ اعلامیہ میں کہا گیا کہ صدرجمہوریہ نے ریاست جموں کشمیر کی حکومت کے تمام کام کاج اور تمام اختیارات کو سوخت کیا جائے اور اس ریاست پر مکمل صدر جمہوریہ کا کنٹرول ہوگا۔ وزیراعظم نریندر مودی کی زیرقیادت مرکزی کابینہ نے گورنر جموں کشمیر ستیہ پال ملک کی رپورٹ کے بعد پیر کو فیصلہ کیا تھا کہ ریاست میں صدر راج نافذ کیا جائے۔ اب گورنر کوئی بھی فیصلہ خود نہیں لے سکیں گے۔ کوئی بھی فیصلہ لینے سے پہلے انہیں مرکز کی اجازت لینے ہوگی۔ جموں و کشمیر میں گورنر راج کی میعاد آج 19 ڈسمبر کو ختم ہوگئی حالانکہ اس دوران نیشنل کانفرنس اور کانگریس کے ساتھ مل کر حکومت بنانے کیلئے پی ڈی پی نے کوشش کی تھی لیکن اس میں اسے کامیابی نہیں ملی۔ گورنر ستیہ پال نے اسمبلی تحلیل کرنے کا اعلان کردیا تھا۔