نئی دہلی 17 اکٹوبر ( سیاست ڈاٹ کام ) الیکشن کمیشن نے آج کہا کہ وہ سیلاب سے متاثرہ ریاست جموں وک شمیر میں اسمبلی انتخابات کروانے کے تعلق سے کھلا ذہن رکھتا ہے جبکہ چیف منسٹر عمر عبداللہ نے اس پر شدید اعتراض ظاہر کیا ہے اور کہا کہ ریاست میں صورتحال ابھی بھی انتخابات کے انعقاد کیلئے سازگار نہیں ہے ۔ مکمل الیکشن کمیشن کے کل دورہ جموں و کشمیر سے قبل چیف الیکشن کمشنر وی ایس سمپت نے کہا کہ ریاستی حکومت اور سیاسی جماعتوں کے ساتھ مشاورت کے بعد انتخابات کے تعلق سے قطعی فیصلہ کیا جائیگا ۔ انہوں نے یہ اشارہ دیا کہ جاریہ ماہ کے اواخر تک اس تعلق سے کوئی فیصلہ کیا جاسکتا ہے ۔ ریاست میں خطرناک اور ہلاکت خیز سیلاب کی وجہ سے جو تباہی ہوئی ہے ان حالات میں ریاست میں انتخابات کے انعقاد کی موزونیت پر سوالات اٹھائے گئے ہیں ۔ ہزاروں افراد سیلاب کی وجہ سے نہ صرف سرینگر بلکہ وادی کے کئی اور علاقوں میں بے گھر ہوگئے ہیں جہاں انتظامیہ عوام کی باز آبادکاری میں مصروف ہے ۔ مسٹر وی ایس سمپت نے پی ٹی آئی سے کہا کہ آپ سب جانتے ہیں کہ جب کبھی کمیشن نے ایسے حالات کو دیکھا ہے اس نے اپنا ذہن بند نہیں کیا ہے ۔ ہم کھلے ذہن کے ساتھ جاتے ہیں۔ ہم تمام حالات معلوم کرینگے اور اس کے بعد ہی کوئی فیصلہ کیا جائیگا ۔ اس سوال پر کہ آیا الیکشن کمیشن ریاست میں بہرصورت انتخابات کے انعقاد پر بضد ہے مسٹر سمپت نے کہا کہ کمیشن نے ایسا کوئی موقف اختیار نہیں کیا ہے ۔ حالانکہ چیف الیکشن کمشنر نے ریاست میں انتخابات کے تعلق سے فیصلے پر کوئی وقت مقرر نہیں کیا ہے
لیکن انہوں نے کہا کہ اس تعلق سے مکمل معلومات حاصل کرنے بشمول وہاں کے حقائق اور ریاستی انتخابی حکام کی رپورٹس ملنے کے علاوہ مختلف سیاسی جماعتوںکی رائے حاصل کرنے کے بعد ہی کوئی فیصلہ کیا جائیگا ۔ انہوں نے کہا کہ ریاست کا دورہ کرنے کے بعد بھی کمیشن کو مزید اطلاعات کی ضرورت ہوسکتی ہے ۔ ہم ان تمام اطلاعات کا جائزہ لینے کے بعد ہی کوئی فیصلہ کرینگے ۔ جموں وکشمیر کی 87 رکنی اسمبلی کی چھ سالہ معیاد 19 جنوری کو ختم ہو رہی ہے ۔ ریاست کا دورہ کرچکے ڈپٹی الیکشن کمشنر اور دوسرے ریاستی الیکٹورل عہدیداروں کی رپورٹس سے متعلق سوال پر انہوں نے کہا کہ ان تمام امور کو جب تک ہم ریاست کا دورہ نہیں کرلیتے قطعیت نہیں دی جاسکتی ۔ کمیشن خود دورہ کرنے کے بعد ہی کسی نتیجہ پر پہونچ سکتا ہے ۔
چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ الیکشن کمیشن کو 19 جنوری کی مقررہ معیاد سے قبل انتخابات کروانے کا حق حاصل ہے جب ریاست کی اسمبلی کی معیاد ختم ہوجائیگی ۔ مسٹر سمپت نے کہا کہ کمیشن نے ریاست میں انتخابات کے انعقاد کیلئے حالات سازگار ہونے کیلئے انتظار کیا ہے ۔ سیلاب سے ریاست کے کچھ حصے متاثر ہوئے ہیں جس کے نتیجہ میں بڑے پیمانے پر تباہی آئی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ انتخابات کے انعقاد کیلئے حالات سازگار ہونے سے متعلق رپورٹس کیلئے بھی انتظار کیا ہے اور قطعی فیصلہ کرتے ہوئے تمام عوامل کو ذہن میں رکھا جائیگا ۔ مکمل الیکشن کمیشن کے دورہ کشمیر کے تعلق سے انہوں نے کہا کہ خود وہ اور دو الیکشن کمشنران ایچ ایس برہما اور ایس این اے زیدی ریاست کا دورہ کرینگے اور وہاں سیول و پولیس عہدیداروں کے علاوہ مختلف سیاسی جماعتوں کے قائدین سے بھی ملاقات کرتے ہوئے تیاریوں کا جائزہ لیں گے ۔ انہوں نے کہا کہ شیڈول کے مطابق کمیشن کو 19 جنوری سے قبل انتخابات کروانے ہیں ۔ تاہم چونکہ ریاست میں سیلاب آیا تھا اور بڑے پیمانے پر تباہی آئی تھی اس لئے ہم انتخابات کے انعقاد کی موزونیت کا جائزہ لے رہے ہیں اس کے بعد ہی کوئی قطعی فیصلہ کیا جائیگا۔الیکشن کمیشن کھلے ذہن کے ساتھ ریاست کا دورہ کرے گا اور کوئی فیصلہ کیا جائیگا ۔