سرینگر 21 اپریل (سیاست ڈاٹ کام )جموں و کشمیر حکومت کی نئی روزگار پالیسی کو ’’نوجوان دشمن اور غیر معتدل ‘‘قرار دیتے ہوئے سی پی آئی ایم لیڈر محمد یوسف تاریگامی نے آج کہا کہ یہ غیر منصفانہ ہے اور اس سے ہمارے تعلیم یافتہ بیروزگار نوجوانوں میں عدم سلامتی کا احساس پیدا ہوگا ۔ تاریگامی نے ایک بیان میں کہا کہ حکومت کی نئی تقررات کی پالیسی سب سے بڑا مذاق ہے ۔ تعلیم یافتہ بیروزگار نوجوانوں کے ساتھ ریاستی حکومت مذاق کررہی ہے اور ان کے لئے کوئی نئی پیشکش نہیں کی گئی ہے ۔ انہو ںنے کہا کہ تقررات کی پالیسی کو تمام سرکاری محکموں میں مختلف زمروں کے تحت روزگار اور ملازتیں پیدا کرنے کے لئے دفعات مروج کئے جانے چاہئے ۔ ریاست کی پبلک سکیٹر یونٹوں کیلئے بھی پالیسی بنائی جائے ریاست میں وقت بہ وقت بیروزگاری کے مسئلہ سے نمٹنے کیلئے اقدامات ہوتے ہیں لیکن بروقت یہ پالیسی ناکام ہوجاتی ہے اب حکوم تنے جو نئی پالیسی بناتی ہے اس میں کئی خامیاں ہیں انہو ںنے حکومت سے کہا کہ وہ اپنی نئی تقررات کی پالیسی پر نظر ثانی کرے اور اس سے ہونے والے نقصانات و اندیشوں کو دور کرے ۔