جموں و کشمیر میں انتخابات کے اعلان کا خیرمقدم

سرینگر ۔ 26 اکتوبر (سیاست ڈاٹ کام) جموں و کشمیر میں حکمراں نیشنل کانفرنس کا یہ احساس ہے کہ گزشتہ ماہ سیلاب سے ہوئی تباہ کاریوں کے باعث یہاں انتخابات کے انعقاد کیلئے حالات سازگار نہیں لیکن اس کی حلیف کانگریس اور اپوزیشن جماعتوں نے الیکشن کمیشن کی جانب سے انتخابی شیڈول کے اعلان کا خیرمقدم کیا ہے۔ نیشنل کانفرنس جنرل سکریٹری علی محمد ساگر نے بتایا کہ پارٹی ہائی کمان کا یہ احساس ہے کہ عوام کو سیلاب کی وجہ سے جن مصائب و دشواریوں کا سامنا ہے، ایسے میں انتخابات کا انعقاد مناسب نہیں، تاہم پارٹی ہمیشہ جمہوریت اور جمہوری اقدار کو مستحکم کرنے کی پالیسی پر عمل پیرا رہی ہے چنانچہ ہم انتخابات میں حصہ لیں گے۔ انہوں نے توقع ظاہر کی کہ ریاست میں گزشتہ چھ سال کے دوران حکومت کی مجموعی کارکردگی کو دیکھتے ہوئے عوام نیشنل کانفرنس کے حق میں ووٹ دیں گے۔

اس کے برعکس عوام ایسی جماعتوں کا ساتھ نہیں دیں گے جنہوں نے صرف اپنی سیاسی بازآبادکاری پر توجہ دی تھی۔ اس دوران کانگریس نے کہا کہ انتخابات کے انعقاد کے بارے میں فیصلہ کے لئے الیکشن کمیشن ہی قطعی اتھاریٹی ہے۔ پارٹی اس فیصلہ کو قبول کرتی ہے۔ جموں و کشمیر پردیش کانگریس کمیٹی صدر سیف الدین سوز نے کہا کہ موجودہ حکومت نے اپنی میعاد پوری کرلی ہے اور انتخابات کا انعقاد نہ کرانے کا مطلب ریاست میں صدر راج کا نفاذ ہوگا اور عوام ایسا نہیں چاہتے۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس کا یہ موقف ہے کہ عوام ریاست میں صدر راج کے خلاف ہیں اور وہ نئی حکومت چاہتے ہیں جو سیلاب متاثرین کی موثر راحت کاری اور بازآبادکاری یقینی بناسکے۔سیف الدین سوز نے کہا کہ ریاست میں منتخبہ حکومت جلد از جلد قائم ہونی چاہئے اور ساتھ ہی ساتھ راحت کاری اقدامات یقینی بنائے جانے چاہئیں۔