جموں و کشمیر انتخابات پر مفتی سعیدکے بیان سے حکومت کا اختلاف : راج ناتھ سنگھ

نئی دہلی 3 مارچ (سیاست ڈاٹ کام) حکومت نے آج کہاکہ وہ جموں و کشمیر کے چیف منسٹر مفتی محمد سعید کے ریاستی اسمبلی انتخابات کے بارے میں متنازعہ بیان سے متفق نہیں ہیں۔ جبکہ اپوزیشن نے لوک سبھا میں پرشور احتجاج کیا اور وزیراعظم سے وضاحت طلب کی۔ اپوزیشن کے مطالبہ کا جواب دیتے ہوئے مرکزی وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ نے کہاکہ ایسے تبصروں کا خیرمقدم کرنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ چیف منسٹر کے بیان کی حکومت کی جانب سے توثیق خارج از امکان ہے۔ مرکزی وزیر برائے پارلیمانی اُمور ایم وینکیا نائیڈو نے کہاکہ جب وزیرداخلہ ایوان میں اظہار خیال کرچکے ہیں تو ہمیں اب پیشرفت کرنی چاہئے۔ اِس کے بعد اِس مسئلہ پر اپوزیشن کی بے چینی ختم ہوگئی۔ مرکزی وزیرداخلہ نے کہاکہ وہ پہلے ہی واضح کرچکے ہیں کہ حکومت اور بی جے پی مکمل طور پر مفتی سعید کے بیان سے لاتعلق ہے۔ اُنھوں نے کہاکہ اسمبلی انتخابات کا بلا رکاوٹ انعقاد الیکشن کمیشن، فوج، نیم فوجی فورسیس اور ریاستی عوام کی وجہ سے ممکن ہوسکا۔ اپوزیشن نے قبل ازیں بھی پرشور احتجاج کرتے ہوئے مفتی سعید کے بیان پر وزیراعظم سے وضاحت طلب کی تھی۔ اپوزیشن نے متحدہ طور پر وقفۂ سوالات کے دوران کارروائی میں خلل اندازی کی اور اسپیکر سمترا مہاجن کو کارروائی مسلسل دو مرتبہ ملتوی کرنی پڑی۔

اجلاس کا دوبارہ آغاز ہونے پر اسپیکر نے ترنمول کانگریس کے سوگٹ رائے اور کانگریس کے بپندر ہوڈا کو جنھوں نے اِس مسئلہ پر تحریک التواء پیش کی تھی، اپنے نکات نظر مختصر طور پر واضح کرنے کی اجازت دی۔ سوگٹ رائے نے کہاکہ وزیراعظم، مفتی سعید کے نظریات سے اگر واقف نہیں تھے تو چیف منسٹر نے یہ دعویٰ کیسے کیا ہے کہ اُنھوں نے وزیراعظم کو اِس سے واقف کروادیا تھا۔ بعدازاں کانگریسی قائد ملکارجن کھرگے نے بھی کہاکہ وزیراعظم کا بیان ضروری ہے۔ عوام اِس سلسلہ میں حکومت کے موقف سے واقف ہونا چاہتے ہیں۔ اسپیکر نے کہاکہ مرکزی وزیرداخلہ کا بیان کافی ہے۔ وہ حکومت کی جانب سے بیان دینے کا اختیار رکھتے ہیں۔ اِس پر غیر مطمئن اپوزیشن ارکان کانگریس، ترنمول کانگریس، بایاں بازو، جنتادل (یو) اور آر جے ڈی ایوان کے وسط کی طرف لپکے، وہ پردھان منتری بیان دو اور نندا پرستاؤ لانا ہوگا جیسے نعرے لگارہے تھے۔ مرکزی وزیرداخلہ اور وینکیا نائیڈو کے بیانات کے بعد ایوان 15 منٹ کے لئے ملتوی کردیا گیا ۔