جموں۔28 اکتوبر (سیاست ڈاٹ کام) بیشتر سیاسی پارٹیاں بشمول بی جے پی، برسراقتدار نیشنل کانفرنس، اپوزیشن پی ڈی پی اور جے کے این پی پی تمام پانچ مرحلے پر مشتمل انتخابی جنگ میں جو جموں و کشمیر اسمبلی کی 27 نشستوں کیلئے ہوگی، اپنے بل بوتے پر مقابلہ کرنے کی تیاری کررہی ہیں۔ الیکشن کمیشن نے آج ریاست میں پہلے مرحلے کے انتخابات کا اعلامیہ جاری کردیا، لیکن سیاسی پارٹیوں نے ہنوز اپنے انتخابی منشور کا اور امیدواروں کی فہرست کا اعلان نہیں کیا ہے۔ قومی پارٹیاں جیسے بی جے پی، بی ایس پی، این سی پی نے اشارہ دیا ہے کہ وہ تمام 87 نشستوں کیلئے مقابلہ کریں گی، لیکن برسراقتدار نیشنل کانفرنس کی حلیف کانگریس ماقبل انتخابات اتحاد کے سلسلے میں مہربہ لب ہے۔ دوسری طرف علاقائی پارٹیاں جیسے نیشنل کانفرنس، پی ڈی پی، جے کے این پی ٹی نے بھی اپنے بل بوتے پر مقابلہ کا فیصلہ کیا ہے۔ بی جے پی نے کل کہا تھا کہ تمام 87 انتخابی حلقوں میں تن تنہا مقابلہ کیا جائے گا اور پارٹی کو اعتماد ہے کہ 44 سے زیادہ نشستوں پر کامیابی حاصل ہوگی۔ بی جے پی رکن پارلیمان انچارج جموں و کشمیر اویناش رائے کھنہ نے ماقبل انتخابات کسی بھی انتخابی اتحاد کو مسترد کردیا۔ بی ایس پی نے بھی ایسا ہی احساس ظاہر کیا۔ صدر ریاستی بی ایس پی تلسی داس لنگیہ نے کہا کہ ماقبل انتخابی اتحاد نہیں کیا جائے گا۔ تمام 87 نشستوں پر مقابلہ کیا جائے گا۔ سابق یو پی اے حکومت کی حلیف این سی پی نے بھی اپنے بل بوتے پر مقابلہ کرنے کا اعلان کیا ہے۔ اس کے ریاستی صدر ٹھاکر رنبیر سنگھ نے آج پی ٹی آئی کو انٹرویو دیتے ہوئے اس کا انکشاف کیا۔ کانگریس کے ریاستی صدر پروفیسر سیف الدین سوز نے اس سوال کا کوئی جواب نہیں دیا۔ اس سوال پر کہ کیا اپنے بل بوتے پر کانگریس ریاست میں اکثریت حاصل کرسکتی ہے، نیشنل کانفرنس کے جموں علاقہ کے صدر دیویندر سنگھ رانا نے کہا کہ یہ بالکل واضح ہے کہ پی ڈی پی نے بھی تن تنہا مقابلہ کا فیصلہ کیا۔ اس کے ترجمان نعیم اختر نے کہا کہ ماقبل انتخابات اتحاد نہیں کیا جائے گا۔ جے کے این پی پی جو 2002ء سے 2007ء تک مخلوط حکومت میں پی ڈی پی اور کانگریس کے ساتھ شریک تھی، اپنے بل بوتے پر انتخابات میں حصہ لینے کا فیصلہ کیا۔