لاہور، 21 مئی ( سیاست ڈاٹ کام) پاکستان اور زمبابوے کے درمیان کل جمعہ کو یہاں منعقد شدنی ٹی 20 میچ کے ساتھ ہی پاکستان میں انٹرنیشنل کرکٹ نہ ہونے کا چھ سالہ جمود ٹوٹنے والا ہے۔ زمبابوے ٹسٹ رکنیت رکھنے والی پہلی ٹیم ہے جو 3 مارچ 2009 ء کو لاہور میں سری لنکن کرکٹ ٹیم پر پیش آئے دہشت گرد حملے کے بعد پاکستان کے دورے پر آئی ہے۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ یہ قذافی اسٹیڈیم لاہور کی تاریخ کا پہلا ٹی 20 انٹرنیشنل بھی ہے۔ اس سے قبل اس میدان میں اب تک 40 ٹسٹ اور 58 ونڈے انٹرنیشنل میچز کھیلے جا چکے ہیں۔ پاکستانی سرزمین پر کھیلا یہ دوسرا ٹی 20 انٹرنیشنل ہے۔اس سے قبل 20 اپریل 2008ء کو پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان نیشنل اسٹیڈیم کراچی میں ٹی 20 انٹرنیشنل کھیلا گیا تھا، جس میں پاکستان نے مصباح الحق کے ناقابل شکست 87 رنز کی بدولت دو رنز سے کامیابی حاصل کی تھی۔ اِس بار سیریز کیلئے انتہائی سخت حفاظتی انتظامات کئے گئے ہیں لیکن اس کے باوجود شائقین کا جوش وخروش بھی غیرمعمولی ہے جنھیں چھ سال کے صبر آزما انتظار کے بعد بین الاقوامی کرکٹ دیکھنے کو مل رہی ہے۔ قذافی اسٹیڈیم میں 27 ہزار تماشائیوں کی گنجائش ہے اور پاکستان کرکٹ بورڈ کا کہنا ہے کہ پہلے ٹی 20 انٹرنیشنل کے تمام ٹکٹ فروخت ہوچکے ہیں۔ پاکستان کے 16 رکنی اسکواڈ میں صرف چھ کھلاڑی ایسے ہیں جو اس سے قبل پاکستان میں بین الاقوامی میچ کھیل چکے ہیں۔ ان کھلاڑیوں میں کپتان شاہد آفریدی، سرفراز احمد، محمد حفیظ، شعیب ملک ،
وہاب ریاض اور محمد سمیع شامل ہیں۔ عمراکمل جو 111 ونڈے اور 59 ٹی20 انٹرنیشنل کھیل چکے ہیں، ابھی تک اپنے ملک میں انٹرنیشنل کرکٹ نہیں کھیل سکے ہیں۔ کچھ یہی صورتحال 65 ونڈے اور 29 ٹی20 انٹرنیشنل کھیلنے والے احمد شہزاد کے ساتھ بھی ہے۔ دونوں کھلاڑیوں نے بین الاقوامی کرکٹ کی ابتدا ایسے وقت کی جب پاکستانی ٹیم اپنی تمام تر انٹرنیشنل کرکٹ ملک سے باہر کھیلتی آئی ہے۔ پاکستان اور زمبابوے کے درمیان پہلے ٹوئنٹی 20 انٹرنیشنل کے امپائر احسن رضا اور شاہ ذیب رضا ہوں گے۔ احسن رضا وہی امپائر ہیں جو 3 مارچ 2009ء کو سری لنکن ٹیم پر حملے کے دوران آئی سی سی میچ ریفری کرس براڈ کو بچاتے ہوئے شدید زخمی ہوگئے تھے۔ پاکستانی ٹیم اگر زمبابوے کو سیریز کے دونوں ٹی 20 انٹرنیشنل میچوں میں شکست دینے میں کامیاب ہو گئی تو وہ آئی سی سی کی عالمی ٹی 20 رینکنگ میں اپنی پانچویں پوزیشن برقرار رکھے گی، لیکن اگر زمبابوے نے ایک میچ بھی جیت لیا تو پاکستانی ٹیم کی رینکنگ ساتویں نمبر پر چلی جائے گی۔ زمبابوے کی ٹیم 2-0 کی جیت کی صورت میں 12ویں سے نویں اور 1-0 کی جیت کی صورت میں 11ویں نمبر پر آ جائے گی۔