جس کو ٹکٹ نہ ملے اسے رٹرن ٹکٹ … !

تلنگانہ / اے پی ڈائری خیر اللہ بیگ
شہر حیدرآباد کے اوراقِ زندگی کو پلٹ کر دیکھیں تو یہاں ہر گھر میں اخبارات پڑھے جاتے تھے ۔ آپ بھی اخبار پڑھتے ہوں گے ۔ شہر میں ہر شخص کوئی نہ کوئی اخبار ضرور پڑھتا ہوگا اور ہر گھر میں اخبار نہیں آتا ہے تو ٹی وی ضرور دیکھتے ہوں گے ۔ شہر کی آبادی ماضی میں چند لاکھ افراد پر مشتمل تھی تو ہر گھر میں اخبار شوق و دلچسپی سے پڑھنے کی عادت بنائی جاتی اب ایسا نہیں ہے کیوں کہ جب گھر کے بڑے ہی اخبار پڑھنا چھوڑ دیں تو بچوں کے بارے میں یہ شکایت کرنا بے کار ہے کہ بچوں نے پڑھنا چھوڑ دیا ہے ۔ ماضی میں ہم دیکھتے تھے کہ گھر کے بڑے افراد اخبار اس طرح پڑھتے کہ یہ شوق ان کی رگوں میں شامل ہوجاتا تھا ۔ بعض لوگ اخبار کی خبریں پڑھتے تو بعض اشتہارات پر نظر دوڑاتے تھے ۔ کسی کو ضرورت ہے کہ اشتہارات پڑھنے کی عادت ہوتی تو کسی کو حکیم صاحب کے نسخوں اور طاقت کے معجون کے اشتہارات دیکھنے کا شوق ہوتا ، ازدواجی رشتہ داریوں کے اشتہار پڑھنے والوں کی تعداد بھی زیادہ تھی آج بھی یہ تعداد برقرار ہے ۔ رشتوں کے اشتہارات پڑھ کر کئی خاندانوں کو بسایا گیا ہے ۔ بعض لوگوں کو پرانی کتابیں سڑک سے اٹھا کر خریدنے اور پڑھنے کا شوق ہوتا ہر اتوار کو شہر کے مخصوص حصوں میں پرانی کتابوں کے ڈھیر سجائے کتب فروش ہفتہ میں ایک دن اتنی آمدنی حاصل کرلیتے کہ انہیں سارا ہفتہ روزگار کی ضرورت نہیں ہوتی لیکن آج یہ شوق بہت کم ہوگیا ہے ۔ عابڈس کی سڑکیں ، ہر اتوار کو پرانے کتابوں میں بیش قیمت تحریروں کا ذخیرہ پایا جاتا تھا ۔ پتھر گٹی ، لاڈ بازار بھی پرانی کتابوں سے سجی ہوتی تھیں لیکن یہاں پرانے سامان کا راج ہے ۔ ہم میں سے کسی نہ کسی کی مخصوص عادتیں ہوا کرتی ہیں ۔ کوئی ڈاک ٹکٹ جمع کرتا ہے اور اس کا البم بناتا ہے ۔ کسی کو ہندوستانی اور غیر ملکی کرنسیوں کو جمع کرنے کا شوق ہوتا۔ الغرض یہ عادتیں ایک خوشگوار زندگی کی عکاسی کرتی ہیں ۔ عادت جب پرانی ہوجاتی تو یہ فطرت بن کر آپ کی شخصیت کی ہمرکاب ہوتی ہے ۔ جھوٹ بولنا بھی ایک فطرت ہے خاص کر اس شخص کا جھوٹ جو سیاستداں کہلاتا ہے ۔ اپنی اس انوکھی فطرت سے عوام کو بے وقوف بناتا ہے ۔ تلنگانہ کے عوام 2014 میں جس جھوٹ کا شکار ہو کر بے وقوف بنے تھے اب یہی جھوٹ کا عادی لیڈر دوبارہ آپ کے دلوں کو گرمانے اور جھوٹے خواب دکھا کر آپ میں سے کئی گھروں کے کھانا پکانے کی ہانڈیوں میں لگی ہوئی کھرچن کھانے کی عادت کو بھی عزیز رکھے گا ۔ آپ کا قائد بریانی کھانے کا شوقین ہے تو وہ کھرچن بھی نہیں چھوڑے گا ۔ کیوں کہ بریانی کے کھرچن کھانے کی عادت اسے بچپن سے ہی پڑی ہوئی ہے ۔ بعض لوگوں کو گھر کے سامنے رکھی موٹر سیکلوں ، کاروں حتی کہ سیکلوں کی ہوا نکالنے کی بھی عادت ہوتی ہے ۔ یہ عادت والے لوگ جب سیاستداں بنتے ہیں تو وہ اچھے اچھوں کی ہوا نکالنے کے بھی عادی ہوتے ہیں ۔ یہ عادت والے لوگ جب سیاستداں بنتے ہیں تو وہ اچھے اچھوں کی ہوا نکالتے پھرتے ہیں ۔ سانپوں اور بچھوؤں کے بلوں میں ہاتھ ڈالنے کی عادت بھی کچھ لوگوں کو ہوتی ہے یہ لوگ اپنی انوکھی عادت سے دوسروں کا نقصان ضرور کرتے رہتے ہیں ۔ بہت کم لیڈر ایسے ہوتے ہیں جو اپنی مخصوص عادتوں سے عوام کو واقف کرواتے ہیں ۔ اس کے باوجود عوام ان کی عادتوں کا شکار ہوجاتے ہیں ۔ تلنگانہ کے عوام کو معلوم ہوچکا ہے کہ کے سی آر کی عادت کیسی ہے ۔ گذشتہ چار پانچ سال کے دوران انہوں نے عوام کے سامنے اپنی بائیں یا پھر دائیں کی ٹانگیں ہی ہلاتے رہے ہیں ۔ عوام بھی اتنے سادہ مزاج ہیں کہ ان سے کسی نے نہیں پوچھا کہ آخر وہ ان کے سامنے یہ ٹانگیں کیوں ہلا رہے ہیں ۔ ہماری عقل ان دنوں ہم سے بھی بچ کر چل رہی ہے ۔ اس لیے ہم تلنگانہ کی موجودہ سیاست کے بارے میں بیگانوں کی طرح اجنبیت رکھتے ہیں ۔ انتخابات کے بارے میں قیاس آرائیاں کرنے والوں نے تو بہت کچھ کہنا شروع کیا ہے گویا ان لوگوں نے سیاسی پارٹیوں کے ساتھ اپنی عشق کی ضمانت دے رہے ہیں ۔ قائد نے کہہ دیا کہ کے سی آر ہی دوبارہ اقتدار پر آئیں گے تو اب ان کی بات پتھر کی لکیر بن چکی ہے ۔ یہ ان کے عشق کی انتہا ہے اور انہیں ووٹ دینے والے رائے دہندوں کے غیرت عشق کی اہانت ہے ۔ اندر کی مزید خبریں جو کچھ آرہی ہیں وہ ریاست کی سیاسی تبدیلی کی نوید بھی دے رہی ہیں ۔ آپ بھی اگر تبدیلی محسوس کررہے ہیں تو آپ اس تبدیلی کا حصہ بنیں گے ۔ کیوں کہ سنا ہے پرانے شہر کے حلقہ سے ’ شہزادی نے پچھلے تمام قصے تمام کرنے کا عہد کرلیا ہے ۔ نئی کھلاڑی ہونے کے ناطے اس شہزادی کو پرانے شہر کی ہوا پانی راس آنا اور اس کی عادت ہوجانا بھی بڑی بات ہوگی ۔ سیاسی گھیرا ڈالنے والوں میں چیدہ چیدہ پارٹیاں بھی اس شہر کے مخصوص حصہ کے قریب ڈیرہ ڈالنے کی کوشش کررہے ہیں ۔ جب انتخابات کا اعلان ہوچکا ہے اور شیڈول بھی سامنے آچکا ہے تو بعض پارٹیوں نے ابھی تک ٹکٹ ہی تقسیم نہیں کیا ہے ۔ انتخابات کا موسم اور ٹکٹوں کے حصول کے لیے دوڑ دھوپ بھی کسی لیڈر کے لیے جوئے شیر لانے سے کم نہیں ، جن کو ٹکٹ نہیں ملتا وہ ریٹرن ٹکٹ لے کر واپس چلے جاتے ہیں ۔ کے سی آر نے تو ٹی آر ایس کے تمام موجودہ ارکان کو ٹکٹ دیا ہے ۔ ان کی دوست جماعت نے بھی ان کی تقلید کی ہے لیکن اپوزیشن نے ہی ہنوز ٹکٹ نہیں پھاڑے ہیں ۔ یہ سیاسی موسم ہی ایسا ہے کہ اس میں بے سرے بھی سر میں راگ الاپنے لگتے ہیں ۔ ٹکٹ تقسیم کرنے کا مرحلہ اس وقت کانگریس کے لیے سب سے بڑا مشکل کام ہے ۔ اتحادی پارٹیوں کو ناراض بھی نہیں کرسکتی اور اپنی ساکھ کو مزید ملیامیٹ بھی نہیں کرنا چاہتی ایسے میں وہ نالائق اور لائق لیڈروں کی پرکھ سے محروم ہوجائے گی تو پھر دھڑا دھڑا ٹکٹوں کو تقسیم عمل میں آئے گی ۔ نتیجہ میں اسمبلی کے اندر اپنی طاقت بڑھانے سے قاصر ہوجائے گی ۔ آپ اب یہ بھی جانتے ہیں کہ تلگو دیشم لیڈر نائیڈو بڑا ہی ہونہار اور با صلاحیت حکمراں ہے جب وہ تنہا تھا تب بھی با صلاحیت تھا آج وہ اتحادی گروپ کا حصہ ہے تو چالاکیاں اس میں موجود ہیں ۔ اس کی صلاحیتوں سے استفادہ کرنے کے لیے ہی کچھ لوگ اس کے آگے پیچھے گھوم رہے ہیں ۔ مرکز کی وزارت عظمیٰ پر نظر ہے تو تلنگانہ میں حکومت سازی کی آرزو بھی ہے گویا دو تلگو ریاستوں کا ایک ہی چیف منسٹر بن جانے کی بھی آرزو اور ارمان دل میں لڈو کی طرح پھوٹ رہے ہیں ۔ کانگریس کی نادانی اور حالات کی مہربانی ہوئی تو نائیڈو کو دو تلگو ریاستوں کے چیف منسٹر ہونے کا بھی اعزاز مل سکتا ہے ۔ اس لیڈر کے اندر کم از کم لوگوں کو سہانے سپنے دکھانے کی عادت نہیں ۔ بھوکوں کو خیالی پلاؤ کے بجائے خالی بریانی بھی کھلانے سے وہ گریز کرتا ہے ۔ بے گھر لوگوں کے لیے زمین پر ہوائی بستیاں بھی وہ نہیں بناتا ۔ جھوٹ بولنے میں جس لیڈر کا نام گینیز بک آف ورلڈ ریکارڈ میں لکھا جاتا ہے اس لیڈر کے قریب بھی وہ نہیں جاتا ۔ سیاسی سفید جھوٹ کو اس نے سات رنگ دینے کے بجائے صرف ایک رنگ زرد دے رکھا ہے ۔ بہر حال عوام اپنی عادتوں کو جاری رکھیں ۔ سیاستدانوں کی عادتوں کو نظر انداز کردیں ۔ آپ کی ایک عادت یہ بھی ہے کہ آپ اپنے چہیتے امیدوار کو ہی ووٹ دیتے آرہے ہیں ہوسکتا ہے کہ آپ کا چہیتا امیدوار اس بار نا امید ہوسکتا ہے اور ایک ووٹ سے الیکشن ہار سکتا ہے ۔ ہر امیدوار کے لیے ووٹر انمول ہوتا ہے ۔ مگر جب ان کا چہیتا امیدوار کامیاب ہوتا ہے تو وہ اپنے ووٹروں کے لیے دمڑیوں کے مول والی پالیسی بھی نہیں بناتا ۔ اسے ووٹ دینے والے آئندہ پانچ سال تک اپنی عادتوں اور بیماریوں جسے بدہضمی ، خون کے خلفشار ، سینے میں جلن ، جلاب ، پتے اور جگر کے عارضہ یا ذیابیطس کے مسئلے سے نمٹنے میں ہی مصروف ہوجاتے ہیں ان کا زیادہ وقت لیڈروں کے انتخابی وعدوں کا تعاقب کرنے کے بجائے ڈاکٹروں کے ساتھ دوا سازی اور تشخیص کروانے میں کھپ جاتا ہے اور کسی کو حجامہ کیمپ کے چکر کاٹ کر اپنے فاسد خون کو نکالنے کی فکر لگی رہتی ہے ۔ ادھر ان کا چہیتا لیڈر ان کے ووٹ لوٹ کر پانچ برس تک دل کھول کر دعوتیں کھاتے ، مرغی ، مچھلی ، کباب انڈے ، قورمہ بریانی ، مندی ، رس گلے ، گلاب جامن ، قوبانی ، فروٹ سلاد کے مزے لوٹ کر فارم ہاوز میں میٹھی نیند لیتا رہتا ہے اور یہ سب کچھ کھانے اور آرام کرنے کے بعد وہ ہاضمہ کا چورن کھانا نہیں بھولتا ۔ اس طرح عیش و آرام مہیا کرنے والے ووٹروں سے تھینک یو بھی نہیں کہتا ۔۔
kbaig92@gmail.com