جرمنی : سلفی اسلام کیخلاف مظاہرہ پُر تشدد صورت اختیار کر گیا

کولون ، 27 اکٹوبر (سیاست ڈاٹ کام) جرمن شہر کولون میں انتہائی دائیں بازو سے تعلق رکھنے والے قریب ڈھائی ہزار افراد نے ملک میں انتہا پسند سلفیوں کے خلاف مظاہرہ کیا، جو بعد ازاں پر تشدد رنگ اختیارکر گیا اور پولیس کے تیرہ ملازمین کے زخمی ہونے کا سبب بنا۔ جرمنی کے مغربی شہر کولون کی پولیس کے ایک ترجمان نے بتایا کہ دائیں بازو سے تعلق رکھنے والوں اور پولیس کے مابین تصادم کے نتیجے میں تیرہ پولیس اہلکار زخمی ہو گئے، جن میں سے ایک کی حالت نازک ہے۔ اس دوران پولیس نے کم از کم چھ افراد کو حراست میں لے لیا ہے جبکہ ترجمان آندرے فاسبینڈر کے بقول واقعے کی ویڈیو کے جائزے کے بعد مزید افراد کو حراست میں لیا جا سکتا ہے۔ پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کیلئے لاٹھی چارج کے علاوہ پانی کی تیز دھار اور مرچوں والے اسپرے بھی استعمال کیے۔ اطلاعات ہیں کہ ایک احتجاجی شخص بھی زخمی ہوا ہے۔ احتجاجی مظاہرین نے پولیس کی ایک گاڑی کو بھی الٹ دیا تھا۔ نیوز ایجنسی اے ایف پی کی دارالحکومت برلن سے موصولہ رپورٹوں کے مطابق قریب ڈھائی ہزار انتہائی دائیں بازو سے تعلق رکھنے والے فٹبال کے مداحوں نے ’ہولیگنز اگینسٹ سلافسٹس‘ کے بینر تلے یہ مظاہرہ کیا۔ ’ہولیگن‘ کا لفظ کسی ایسے شخص کیلئے استعمال کیا جاتا ہے، جو گرم مزاج ہو اور جس کا رویہ ایسا ہو کہ جیسے وہ لڑائی جھگڑے کیلئے تیار ہو۔ عام طور پر اس لفظ کو فٹبال کے کافی گرم جوش اور جارحانہ مداحوں کیلئے استعمال کیا جاتا ہے۔ جرمن نیوز ایجنسی ڈی پی اے اور ٹوئٹر پر چند عینی شاہدین کے پیغامات کے مطابق کشیدگی اس وقت بڑھی جب انتہائی دائیں بازو سے تعلق رکھنے والے ’غیر ملکی باہر‘ کے نعرے مسلسل لگاتے رہے۔ یہ امر اہم ہے کہ نیوز ایجنسی اسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق اس مظاہرے کی منتظم جرمنی کی انتہائی دائیں بازو کی جماعت ’نیو نازی‘ کے گروپوں نے فٹبال کے ’ہولیگن‘ گروپوں کے ہمراہ کیا تھا۔ اتوار کے روز اس مظاہرے کی مخالفت میں بائیں بازو سے تعلق رکھنے والے اور فاشسٹ مخالف خیالات کے حامل قریب پانچ سو افراد نے بھی مظاہرہ کیا۔