جرمنی آج چوتھے اور ارجنٹینا تیسرے ورلڈ کپ کیلئے کوشاں

ریوڈی جنیرو۔12 جولائی ( سیاست ڈاٹ کام ) برازیل میں رواں فیفا ورلڈ کپ 2014ء کے ایک ماہ طویل ٹورنمنٹ کا کل جرمنی اور ارجنٹینا کے درمیان یہاں کھیلے جانے والے فائنل کے ساتھ اختتام ہوجائے گا جہاں ریکارڈ کامیابی کیلئے پُرعزم جرمنی لیونل میسی کے خوابوں کو چکناچور کرنے کیلئے کوشاں ہے ۔ رواں ٹورنمنٹ کے 64 ویں مقابلے میں یورپ اور جنوبی امریکہ کی دو ٹیموں کے درمیان فٹبال کا سوپر پاؤر مقابلہ ہوگا اور اس طرح 24برسوں کے بعد پھر ایک مرتبہ فٹبال کے خطابی مقابلے میں دو سوپر پاؤر ٹیموں کا ٹکراؤ ہورہا ہے ۔ جرمنی اور ارجنٹینا 1986ء کے خطابی مقابلے میں میراڈونا کی زیرقیادت ٹیم نے اس وقت مغربی جرمنی کو خطابی مقابلہ میں 3-2 سے شکست دے کر عالمی چمپئن ہونے کا اعزاز حاصل کیا تھا جس کے 4سال بعد جرمنی نے فائنل میں 1-0 کی کامیابی حاصل کرتے ہوئے ارجنٹینا سے حساب برابر کرلیا تھا ۔ جرمنی اور ارجنٹینا کے درمیان تاحال 20مقابلے کھیلے جاچکے ہیں جس میں ارجنٹینا نے 9مقابلوں میں کامیابی حاصل کی جبکہ جرمنی کے نام 6فتوحات درج ہیں ۔ دونوں ٹیموں کے درمیان 5 ایسے مقابلے بھی رہے ہیں جن کا کوئی نتیجہ اخذ نہیں ہوا ۔ ورلڈ کپ کے دوران ان دو ٹیموں کے درمیان 6 مقابلے کھیلے گئے ہیں جن میں جرمنی نے 3فتوحات حاصل کی ہیں جبکہ ارجنٹینا صرف ایک مرتبہ فاتح رہی جبکہ 2مقابلے بغیر کسی نتیجہ کے ختم ہوئے جبکہ 1974ء کا مقابلہ مشرقی جرمنی کے ساتھ 1-1 سے برابری پر رہا تھا ۔ دونوں ٹیموں کے درمیان حالیہ مقابلہ 15اگست 2012ء کو ایک دوستانہ مقابلہ تھا جہاں ارجنٹینا نے اپنی حریف ٹیم کو 3-1 گول سے شکست دی ہے ۔

ریکارڈ جرمنی کے حق میں ہے کیونکہ اس ٹیم نے ریکارڈ 8مرتبہ فائنل مقابلوں میں شرکت کی ہے جبکہ 1954 ‘ 1974 اور 1990ء میں بالترتیب سوئٹزرلینڈ مغربی جرمنی اور اٹلی میں خطابات حاصل کئے ہیں جبکہ ارجنٹینا نے 5 فائنل مقابلے کھیلے ہیں جہاں اس نے 1978ء میں ارجنٹینا اور 1986ء میں میکسیکو میں خطابات حاصل کئے ہیں ۔ لیونل میسی ارجنٹینا کیلئے اسٹار کھلاڑی ہیں تاہم کوارٹر فائنل سے وہ گول اسکور کرنے میں ناکام ہیں حالانکہ انہوں نے گروپ مرحلے کے مقابلوں میں 4گول اسکور کئے ہیں ۔ دوسری جانب جرمنی کیلئے تھامس میولر ٹیم کامیابی میں اہم رول ادا کرسکتیہ یں ۔ فائنل کیلئے جرمنی کو موجودہ فام اور سیمی فائنل میں برازیل کے خلاف 7-1 سے کامیابی کی بنیاد پر پسندیدہ قرار دیا جارہا ہے جبکہ دوسری جانب ارجنٹینا کو دوسرے سیمی فائنل میں ہالینڈ کو شکست دینے کیلئے مقررہ اور اضافی وقت میں سخت جدوجہد کرنی پڑی اور پنالٹی شوت کا سہارالینا پڑا۔ علاوہ ازیں ارجنٹینا کا حد سے زیادہ انحصار میسی پر ہے جو کہ کوارٹر فائنل اور سیمی فائنل میں گول اسکور نہیں کرپائے ہیں ۔

جرمنی کیلئے میروسلوکلوس نے ورلڈ کپ میں سب سے زیادہ 16گول بنانے کا ریکارڈ قائم کردیا ہے اور وہ ایک مظاہرہ کے ذریعہ اپنی ٹیم کو ورلڈ چمپئن بنانے کے خواہاں ہیں ۔ ان کے علاوہ میائس ہیوبلس اور میانیول نیویر‘ سمیع قدیرا اور ٹونیکروس کی موجودگی جرمنی کو طاقتور بناچکی ہے ۔ 28سال قبل ارجنٹینا نے میرا ڈونا کے کاندھوںپر خطاب حاصل کیا تھا اور اب27 سالہ میسی اپنے کاندھوں پر ارجنٹینا کو اٹھارہے ہیں تاہم ان کے لئے خطابی مقابلے میںجرمنی کو شکست دینا آسان نہیں ہوگا کیونکہ جرمنی میںموجود ہیں جو کامیابی میں اہم ردل ادا کرسکتے ہیںجبکہ ارجنٹینا کی تمام امیدیں میسی ہی ہیں‘یہ ہی وجہ ہے کہ فائنل کے متعلق عوامی تبصروں میں یہ تبصرہ کافی مقبولیت حاصل کرچکا ہے کہ ’’برازیل کے پاس نیمر ہے‘پرتگال کے پاس رونالڈو ہے‘ارجنٹینا کے پاس میسی ہے اور جرمنی کے پاس ٹیم ہے۔‘‘