جتنے تھے بیکار سب کاروں کے مالک ہوگئے

آرمی چیف بپن راوت … سرحد کی فکر کریں، مسلم پارٹی کی نہیں
چوکیدار سوگیا … لٹیرے ملک سے فرار

رشیدالدین
ہندوستان میں فوج واحد شعبہ ہے جو سیاسی آلودگی سے پاک ہے۔ فوج نے ملک کے سیاسی معاملات میں کبھی مداخلت نہیں کی اور سرحدوں کی حفاظت کے ذریعہ عوام کے جان و مال کے تحفظ کی ضامن رہی ہے لیکن ان دنوں فوج کو سیاسی مقصد براری کیلئے استعمال کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ آر ایس ایس سربراہ موہن بھاگوت نے فوج کی صلاحیتوں پر سوال کھڑے کردیئے تو دوسری طرف فوج کے سربراہ جنرل بپن راوت نے بی جے پی اور سنگھ پریوار کی زبان میں سیاسی نوعیت کا بیان دیا ۔ فوج کا سیاسی معاملات سے کبھی کوئی تعلق نہیں رہا لیکن فوج کے سربراہ نے آسام میں مسلمانوںکی شہریت پر سوال کھڑے کردیئے ۔ بی جے پی ہمیشہ آسام کے مسلمانوں کو بنگلہ دیشی قرار دیتی رہی ہے اور اب جنرل راوت نے اس مسئلہ کو بنیاد بناکر آسام کی مسلم سیاسی جماعت آل انڈیا یونائٹیڈ ڈیموکریٹک فرنٹ کی تیزی سے ترقی کو بنگلہ دیشی مسلمانوں کے ذریعہ کی گئی سازش قرار دیا۔ فوجی سربراہ نے بی جے پی سے تقابل کرتے ہوئے 1983 ء میں دو ارکان پارلیمنٹ سے آج تک کی ترقی سے کہیں زیادہ تیز یونائٹیڈ فرنٹ کے فروغ کا الزام عائد کیا۔ جنرل راوت کا یہ بیان خالص سیاسی نوعیت کا ہے اور اس معاملہ کا ان کے فرائض منصبی سے کوئی تعلق نہیں۔ بپن راوت اس وقت خاموش رہے جب موہن بھاگوت نے فوج کی صلاحیت پر سوال اٹھایا تھا ۔ فوجی سربراہ کی حیثیت سے وہ بھاگوت کا جواب دینے کا حق رکھتے تھے، حالانکہ وہ فوج کے حوصلوں کو پست کرنے اور اس کے امیج کا مسئلہ تھا۔ جہاں کہنا ضروری تھا اور اظہار خیال کا حق تھا، وہاں تو فوجی سربراہ خاموش رہے لیکن آسام کے ایک حساس مسئلہ کو لیکر بدرالدین اجمل کی پارٹی کو نشانہ بنایا۔ ایسا محسوس ہورہا تھا جیسے بپن راوت نہیں بلکہ بی جے پی کا کوئی ترجمان بات کر رہا ہے ۔ فوجی سربراہ کے منہ میں بی جے پی کی زبان نے نہ صرف فوج کے صاف ستھرے اور بے داغ امیج کو متاثر کیا بلکہ اس ادارہ کی غیر جانبداری کو مشکوک کردیا۔ جنرل راوت دراصل اس طرح کے متنازعہ بیانات کے عادی ہوچکے ہیں۔ کشمیر میں لاء اینڈ آرڈر کے حوالہ سے انہوں نے حال ہی میں اسی طرح کا متنازعہ بیان دیا تھا۔ جنرل راوت پر ملک و قوم میں جو ذمہ داری عائد کی ہے، اسے بخوبی نبھانا چاہئے، یہی ملک کی سچی خدمت ہوگی۔ سرحدوں کی حفاظت اور دشمنوں کو مداخلت سے روکنا فوج کی ذمہ داری ہے۔ کشمیر میں تقریباً روزانہ دراندازی اور فوجی ٹھکانوں پر حملے کے واقعات پیش آرہے ہیں۔ بی ایس ایف جوانوں سے مداخلت کاروں کی جھڑپیں روز کا معمول بن چکی ہے۔ بی ایس ایف جوان اپنی جان ملک پر قربان کر رہے ہیں اور کئی زخمی ہورہے ہیں۔

فوجی سربراہ کو آسام میں سیاسی پارٹی کی ترقی کی فکر کرنے کے بجائے بہادر جوانوں کی قیمتی جانوں کے بارے میں سوچنا چاہئے۔ روزانہ کے واقعات سے نہ صرف جوانوں کے افراد خاندان بلکہ ملک و جوانوں کی سلامتی کی فکر لاحق ہوچکی ہے۔ فوجی سربراہ کی حیثیت سے بپن راوت سرحدی علاقوں کے فوجی کیمپس میں قیام کرتے ہوئے جوانوں کا حوصلہ بڑھانے کا کام کریں اور دراندازی کا مستقل حل تلاش کریں۔ برخلاف اس کے بی جے پی ذہن کی ترجمانی بپن راوت کے عہدے کے شایان شان نہیں۔ انہوں نے سوچا نہیں کہ اس طرح کی بیان بازی سے جمہوریت کس رخ پر چل پڑے گی ۔ فوجی سربراہ سیاست کیا جانے، وہ اس حقیقت سے بھی واقف نہیں کہ آسام میں سنگھ پریوار کی کوششوں سے مسلم محاذ وجود میں آیا اور اس کا ہوا کھڑا کر کے بی جے پی اقتدار تک پہنچ گئی ۔ حالانکہ آسام میں کانگریس اور علاقائی جماعتوں کا غلبہ تھا۔ جس ریاست میں بی جے پی کا وجود محض ایک ضابطہ کی تکمیل کی طرح تھا، وہاں مسلم جماعت اور مسلمانوں کا خوف دلاکر اقتدار تک پہنچ گئے۔ آسام میں مسلمانوں کے ساتھ جس انداز کا سلوک کیا گیا اس سے خوفزدہ ہوکر مسلمانوں نے اپنی نمائندہ جماعت کی حیثیت سے یونائٹیڈ فرنٹ قائم کیا۔ بی جے پی کی سازش بھی یہی تھی کہ مسلمان کانگریس اور دیگر علاقائی جماعتوں کو چھوڑ کر اپنی علحدہ جماعت بنائے تاکہ بی جے پی کو فرقہ وارانہ سیاست کرنے کا موقع ملے۔ آخرکار یہ سازش کامیاب ہوگئی۔ آسام کی یونائٹیڈ ڈیموکریٹک فرنٹ کے نام میں لفظ مسلم شامل نہیں ہے اور اس پارٹی نے مسلمانوں کے کسی قومی مسئلہ پر اپنے وجود کا احساس نہیں دلایا اور نہ آواز اٹھائی ۔ تین ارکان پارلیمنٹ کے باوجود طلاق ثلاثہ بل پر فرنٹ کے کسی رکن نے لوک سبھا میں تقریر نہیں کی۔ ایسی پارٹی سے مسلمانوں کا کیا تعلق۔ یہ آسام میں بی جے پی کو مذہبی سیاست کرنے میں مددگار ثابت ہوئی ہے۔ بی جے پی ملک بھر میں مسلمانوں سے ڈراکر ہندو ووٹ متحد کرنے کی راہ پر گامزن ہے۔ فوج کو سیاست میں گھسیٹ کر سنگھ پریوار کے اثرات اور سیاسی جراثیم پیدا کرنے کی کوشش کی جارہی ہے ۔ جنرل راوت کو اروناچل پردیش کی سرحد پر کیمپ کرنا چاہئے جہاں چین کے افواج جب چاہے چہل قدمی کی طرح گھس آتی ہیں۔ فوجی سربراہ کے بیان سے ان کے سیاسی عزائم کے اشارے ملتے ہیں۔ سابق فوجی سربراہ جنرل وی کے سنگھ بھی سبکدوشی کے بعد بی جے پی میں شامل ہوگئے اور آج مودی کابینہ میں مملکتی وزیر خارجہ ہیں۔ وی کے سنگھ کی ترقی دیکھ کر شائد دوسرے کمانڈرس کے منہ میں پانی آرہا ہے ۔ وی کے سنگھ نے تو ریٹائرمنٹ کے بعد سیاست میں قدم رکھا تھا لیکن بپن راوت بہت جلدی میں ہے۔ وہ عہدہ پر رہتے ہوئے سیاسی بیانات کا آغاز کرچکے ہیں تاکہ ابھی سے بی جے پی اور سنگھ کی نظر میں آسکیں۔

ان دنوں دہلی میں عام آدمی پارٹی حکومت اور سیول سرویس لابی میں ٹکراؤ کی صورتحال پیدا کردی گئی ہے۔ چیف سکریٹری پر عام آدمی پارٹی ارکان اسمبلی کے مبینہ حملے کی آڑ میں نظم و نسق کو ٹھپ کردیا گیا تاکہ حکومت کی کارکردگی متاثر ہو اور عوام کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑے۔ یہ سازش دراصل بی جے پی کی تیار کردہ ہے تاکہ دہلی میں عام آدمی پارٹی کی مقبولیت کو متاثر کیا جاسکے۔ چیف سکریٹری نے دراصل سنگھ پریوار کے آلۂ کار کا رول ادا کیا ۔ پولیس نے جو مرکزی وزارت داخلہ کے تحت کام کرتی ہے، یکطرفہ کارروائی کرتے ہوئے عام آدمی پارٹی ارکان اسمبلی کو جیل بھیج دیا جبکہ ریاستی وزیر پر حملہ کرنے والے عہدیداروں کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی گئی ۔ حال ہی میں عام آدمی پارٹی کے 20 ارکان اسمبلی کو نااہل قرار دیا گیا ہے ۔ بی جے پی چاہتی ہے کہ ان حلقوں کے ضمنی انتخابات میں بہتر مظاہرہ کرے۔ چیف سکریٹری کے ذریعہ جو سازش رچی گئی ، اس سے عام آدمی پارٹی کی مقبولیت میں مزید اضافہ ہوگا۔ دراصل بی جے پی کو ملک میں بینک گھٹالوں سے عوام کی توجہ ہٹانا ہے۔ حال ہی میں 11000 کروڑ سے زائد کا جو اسکام منظر عام پر آیا ، اس میں نریندر مودی حکومت کے منہ پر کالک جڑدی ہے اور جنرل بپن راوت کے بیان اور دہلی کے چیف سکریٹری کے ڈرامے کے ذریعہ اصل مسائل سے توجہ ہٹانا چاہتے ہیں۔ وجئے مالیا 9000 کروڑ ، للت مودی 1900 کروڑ ، نیروو مودی 13,400 کروڑ کا چونا لگاکر ہندوستان سے فرار ہوگئے ۔ ان کے علاوہ روٹومیک کے وکرم کوٹھاری 3,700 اور جتن مہتا 6,800 کروڑ کا گھٹالہ کرچکے ہیں۔ یہ تمام گھٹالے مودی دور حکومت میں کئے گئے۔ مودی نے الیکشن سے قبل عوام سے اپیل کی تھی کہ انہیں وزیراعظم نہیں بلکہ چوکیدار بنایا جائے اور وہ ملک کو لوٹ سے بچائیں گے۔ انہوں نے ’’کھاؤں گا نہ کھانے دوں گا‘‘ کا نعرہ لگایا تھا۔ ان اسکامس کے بعد یہ ثابت ہوگیا کہ ملک کا چوکیدار سوگیا اور لٹیرے عوامی دولت کو لوٹ کر فرار ہوگئے ۔ ہزاروں کروڑ کے ان گھٹالوں پر سوشیل میڈیا پر دلچسپ تبصرے کئے جارہے ہیں۔ لٹیروں کی فراری کو ’’ہندوستان چھوڑدو تحریک‘‘ سے جوڑدیا گیا ہے ۔ کسی ٹیچر نے طالب علم سے پوچھا کہ ہندوستان چھوڑدو تحریک کا آغاز کس نے کیا تھا، طالب علم نے برجستہ جواب دیا وجئے مالیا۔ کسی نے کہا کہ جس طرح بی جے پی کہتی رہی کہ ہر مسلمان دہشت گرد نہیں لیکن ہر دہشت مسلمان ضرور ہے۔ اسی طرح ہر مودی بینک لٹیرا نہیں ہے لیکن محض اتفاق ہے کہ ہر لٹیرے کا نام مودی ہے ۔ کانگریس نے ملک کو 3 گاندھی دیئے ۔ گاندھی جی ، اندرا گاندھی اور راجیو گاندھی، ان تینوں نے ملک کیلئے جان دیدی جبکہ بی جے پی نے تین مودی دیئے ۔ للت مودی ، نیروو مودی اور نریندر مودی ، ان میں دو ملک کی دولت لوٹ کر فرار ہوگئے اور اب پتہ نہیں نریندر مودی کیا کریں گے۔ ایک عام آدمی نے سوال کیا کہ گھٹالوں کا سلسلہ اگر یونہی جاری رہا تو نریندر مودی کہیں ہر شخص سے 15 لاکھ روپئے مانگ نہ لیں۔ عام آدمی یا کسان 9000 روپئے قرض ادا نہ کریں تو اسے جیل بھیج دیا جاتا ہے لیکن 9000 کروڑ کا قرض لینے والے کو حکومت خود عزت کے ساتھ بیرون ملک بحفاظت روانگی کا انتظام کرتی ہے ۔ ہر شہری کے بینک اکاؤنٹ کو آدھار سے مربوط کرتے ہوئے اکاؤنٹ پر نظر رکھی جارہی ہے لیکن نیروو مودی کا آدھار کارڈ کہاں ہے؟ ملک میں آدھار لنک سے زیادہ بینک عہدیداروں سے لنک کی اہمیت ہے۔ آنے والے دنوں میں مزید کئی مودی اور مالیا پیدا ہوسکتے ہیں جو ملک کو لوٹ کر بیرون ملک عیش کریں گے۔ ڈاکٹر راحت اندوری نے کیا خوب کہا ہے ؎
لال سورج آسماں سے گھر کی چھت پر آگیا
جتنے تھے بیکار سب کاروں کے مالک ہوگئے