کراچی ۔ 21 جولائی (سیاست ڈاٹ کام) پاکستانی کرکٹ ٹیم سے خارج ہونے والے دو بیٹسمینوں اوپنر تو فیق عمر اور مڈل آرڈر بیٹسمین فیصل اقبال نے سلیکشن کمیٹی کے فیصلے پر سوالات اٹھائے ہیں۔تو فیق عمر نے کہا کہ وہ سینٹرل کنٹریکٹ نہ ملنے اور ٹیم سے خارج ہونے پر دلبرداشتہ اور مایوس ہیں۔ لیکن پاکستان ٹیم میں واپس ضرورآئیں گے۔ فیصل اقبال نے سوال کیا ہے کہ ڈومیسٹک کی اچھی کارکردگی کی باوجود صرف انہیں کیوں خارج کیا جاتا ہے اور کون لوگ ہیں جو انہیں ٹیم میں نہیں دیکھنا چاہتے۔تو فیق عمر نے پاکستان کی جانب سے44اور فیصل اقبال نے26 ٹسٹ کھیلے ہیں۔دونوں کھلاڑیوں کی الزام تراشی نے پی سی بی کی غیر جانبداری کو غیریقینی بنادیا ہے۔بائیں ہاتھ کے اوپنر نے کہا کہ مجھے ٹیم سے خارج کرکے آج تک نہیں بتایا گیا کہ مجھے کیوں شامل نہیں کیا گیا ۔میں محنت کررہا ہوں اور پرامید ہوں کہ ٹیم میں واپس آئوں گا۔کوچ وقار یونس سے بھی میری بات ہوئی ہے اور باقاعدگی سے قومی اکیڈمی میں ٹریننگ کررہا ہوں۔فیصل اقبال نے کہا کہ تیسری مرتبہ واپسی کرنے کے باوجود مجھے بغیر کھلائے ٹیم سے باہر کردیا گیا۔میں پاکستان کے نظام پر تنقید نہیں کروں گا بلکہ اپنے باہر ہونے کی وجہ جاننا چاہتا ہوں کیوں کہ میں مسلسل ڈومیسٹک کرکٹ میں کارکردگی دکھا رہا ہوں۔مجھے اس سازش کی وجہ بتائی جائے کہ کیا میں اس لئے تو ٹیم سے باہر نہیں ہوں کہ میں جاوید میاں داد کا بھانجہ ہوں۔ان سوالات کے جواب نہ ملنے سے میں جھنجھلاہٹ کا شکار ہوں۔ مجھے علم ہے کہ میں سازش کا شکار ہوں پہلے ٹیم سے باہر کیا گیا اب سینٹرل کنٹریکٹ کی فہرست میں بھی جگہ نہ مل سکی۔