جامعہ نظامیہ کے آڈیٹوریم کی تعمیر کے لئے رقمی امداد

چیف منسٹر کے اقدام کا خیرمقدم، لئیق الدین ایڈوکیٹ کا بیان
بیدر۔21؍مارچ۔(سیاست ڈسٹرکٹ نیوز)۔جناب محمد لئیق الدین ایڈوکیٹ سابق چیرمن وقف بورڈ کرناٹک اسٹیٹ ‘و سابق رکن اسمبلی بیدر نے اپنے ایک خیر مقدمی صحافتی بیان میں بتایا کہ وزیر اعلی ریاستِ تلگانہ کے چندر شیکھر رائو کے اس جرأت مندانہ اقدام کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ انھوں نے 9.60کروڑ روپیے رقم جی او کے کی اجرائی مورخہ17؍مارچ 2015کے تحت سرزمینِ دکن کی سب سے قدیم اسلامی عربی یونیورسٹی جامعہ نظامیہ حسینی علم حیدرآباد کو آڈیوٹیوریم کی تعمیر کیلئے جاری کرتے ہوئے جی او پا س کرکے شیخ الجامعہ نظامیہ مولانا مفتی خلیل احمد کے حوالے کیا اور اس کے علاوہ انھو ںنے یہ بھی تیقن دیا ہے کہ اقلیتوں کے ساتھ کوئی ناانصافی نہیں ہوگی۔ایک نہایت ہی خوش آئند بات ہے کہ انھوں نے حکومت سنبھالنے کے فوری بعدپہلے بجٹ میں اس کا اعلان کیا ہے ۔یقینا مسلمان اقلیتوں کیلئے ان فیصلو ںکو تاریخ میں سنہری الفاظ میں لکھا جانا چاہئے ۔میرا ذاتی خیال ہے کہ دیگر ریاستوں میں بھی اس قسم کے اعلانات کے ذریعے مسلم اقلیتوں کی مدد کی جانی چاہئے ‘کیونکہ مسلمان اِس وقت اس قسم کی امداد کے مستحق ہیں ۔اُردو کے ضمن میں جو اعلانات چندر شیکھر رائو نے کیا ہے وہ نہایت ہی قابلِ تعریف ہیں۔ اُردو ہی ایک ایسی زبان ہے جو سارے ہندوستان میں ہندی کے ساتھ برابر بولی جاتی ہے بلکہ یہ کہنا غیر واجبی نہ ہوگا کہ اُردو کا چلن نا صرف ہندوستان بلکہ پاکستان ‘ بنگلہ دیش ‘سعودی عربیہ ‘برطانیہ اور امریکہ اور دنیا کے کونے کونے میں اس کا چلن ہے اور اس کی اشاعت اور ترویج میں وہاں کے اُردو طبقے کا ساتھ وہاں کی حکومتیں دے رہی ہیں ۔جناب محمد لئیق الدین نے کہا کہ مسٹر چندر شیکھر رائو کے ان ہی معقول اقدامات کی وجہ سے ریاستِ تلنگانہ میں کامیابی حاصل ہوئی ‘ہمیں اُمید ہے کہ وہ مسلمانوں کی جان و مال ‘ عزت و آبرو ‘تعلیمی ‘معیشت کی از روئے دستور ہند یقینی بنانے میں معاون و مددگار رہیں گے۔