جاسوسی مسئلہ پارلیمنٹ میں اٹھانے کا اعلان

گجرات کی طرح اپوزیشن قائدین پر مرکزکی کڑی نظر : کانگریس
نئی دہلی ۔/15 مارچ (سیاست ڈاٹ کام) راہول گاندھی کی رہائش گاہ پر پولیس عہدیداروں کی آمد کے مسئلہ نے مزید شدت اختیار کرلی اور کانگریس نے دیگر اپوزیشن قائدین کی بھی گجرات طرز پر ’’جاسوسی ‘‘ کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ پارٹی کل پارلیمنٹ میں یہ معاملہ اٹھائے گی ۔ پارٹی ترجمان آنند شرما نے آج اے آئی سی سی آفس پر ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ شہریوں کی نجی زندگی کے حق کا جہاں تک سوال ہے موجودہ حکومت کو کوئی جوابات دینے ہوں گے ۔ اب تک جو ایک ریاست میں ہورہا تھا وہ اسے ہر جگہ کرنے کی کوشش کررہے ہیں ۔ دونوں مودی اور امیت شاہ اب یہاں موجود ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح کی کارروائی کسی ایک شخص تک محدود نہیں ۔ اس کی جڑیں کافی گہری ہیں اور گجرات میں انہوں نے جو کچھ کیا وہ ہر جگہ کرنے کی کوشش کررہے ہیں ۔ انہوں نے ایک انٹرویو میں کئے گئے ریمارکس کی مدافعت کی جس میں انہوں نے یہ دعویٰ کیا تھا کہ سینئر اپوزیشن قائدین کے فون ٹیاپ کئے جارہے ہیں اور ان پر نظر رکھی جارہی ہے ۔ جب ان سے اس دعویٰ کے ثبوت کے بارے میں پوچھا گیا انہوں نے کہا کہ سیاسی قائدین ، ججس اور دیگر کے فون ٹیاپ کرنے کیلئے مکتوب جاری نہیں کئے جاتے ۔یہ اس وقت ثابت کیا جاسکتا ہے جب وزیراعظم ، وزیر داخلہ ، اپوزیشن قائدین کو ان کے فون ٹیاپنگ کے بارے میں مکتوب دیں ۔ کانگریس ترجمان نے کہا کہ قائدین اپوزیشن نے گزشتہ سیشن میں یہ مسئلہ اٹھاتے ہوئے کہا تھا کہ ان کے فون ٹیاپ ہورہے ہیں لیکن وزیر داخلہ نے کہا کہ ایسا کچھ نہیںہے ۔