تیونس کے اولین صدر کا انتخاب

تیونس۔23نومبر ( سیاست ڈاٹ کام ) تیونس کے شہریوں نے آج پہلی بار 2011ء کے انقلاب کے بعد صدارتی انتخابات میں حق رائے دہی سے استفادہ کیا ۔ یہ رائے دہی جمہوری طریقہ سے اقتدار کی منتقلی کو درپیش خطروں کا خاتمہ کردیتی ہے ۔27امیدوار مقابلہ میں تھے ۔ سابق وزیر اعظم بیجی قائد ایسبسی جن کی عمر 87سال ہیں اور جو مخالف اسلامی ندا تیونس پارٹی کے امیدوار تھے ‘ پارلیمانی انتخابات میں کامیاب ہوئے ۔ اسی پارٹی کو گذشتہ ماہ منعقدہ عام انتخابات میں بھی اکثریت حاصل ہوئی ہے۔ صدارتی عہدہ کیلئے مقابلہ کرنے والوں میں سبکدوش صدر منصف مرزوقی ‘ کئی وزراء جو سابق ڈکٹیٹر زین العابدین بن علی کے ماتحت رہ چکے ہیں ‘ بائیں بازو کے حماحمامی اور تجارتی طبقہ کی مشہور شخصیت سلیم ریاہی اور ایک خاتون امیدوار مجسٹریٹ خیطوم کونو شامل تھے ۔ کم از کم 83لاکھ اہل رائے دہندے ہیں ۔ لاکھوں پولیس اور فوج کے ارکان صیانتی انتظامات کیلئے تعینات کئے گئے تھے کیونکہ اندیشہ تھا کہ اسلامی عسکریت پسند رائے دہی میں خلل اندازی کریں گے ۔ ملک کے بیشتر علاقہ میں رائے دہی کا آغاز 8بجے صبح ہوا اور اختتام 10گھنٹے بعد ہوا ۔ رائے دہی صرف پانچ گھنٹے جاری رہی اور 50علاقوں میں جو الجیریا کی سرحد سے متصل ہے اور جہاں مسلح گروپس سرگرم ہیں۔ رائے دہی زیادہ دیر تک جاری نہیں رکھی جاسکی ۔ ڈسمبر کے اختتام پر ضروری ہوتو دوسرے مرحلے کی صدارتی رائے دہی ہوگی۔