سپریم کورٹ میں مرافعہ داخل کرنے کا فیصلہ
نئی دہلی ۔ 17اپریل ۔( سیاست ڈاٹ کام ) اعلیٰ پارٹی قیادت سے اشارہ ملنے کے بعد تین بی جے پی حکمرانی والی ریاستوں میں سپریم کورٹ کے ایس سی ؍ ایس ٹی ایکٹ پر حکمنامہ پر عمل آوری کو معرض التواء رکھنے کا فیصلہ کیا ہے اور اس حکمنامہ کے خلاف مرافعہ بھی داخل کیا جائیگا، ایک سرکردہ لیڈر نے آج یہ بات کہی ۔ چھتیس گڑھ ، مدھیہ پردیش اور راجستھان نے اس حکمنامہ پر عمل آوری کے اقدامات شروع کردیئے تھے لیکن اُنھوں نے اب فیصلہ کیا ہے کہ اس پر عمل درآمد کو روک دیا جائے اور فاضل عدالت سے نظرثانی کیلئے رجوع کیا جائے ۔ پارٹی لیڈر نے شناخت مخفی رکھنے کی شرط پر کہا ہے کہ ہم نے ان ریاستوں کے چیف منسٹروں اور اُن کی حکومتوں سے بات کی ہے اور وہ عنقریب عدالت میں مرافعہ داخل کریں گے ۔ یہ فطری بات ہے کہ اس حکمنامہ پر عمل آوری کو عدلیہ کی جانب سے قطعی فیصلے تک روک دیا جائے ۔ عدالت نے حال ہی میں رہنمایانہ خطوط جاری کرتے ہوئے درج فہرست طبقات اور درج فہرست قبائیل کے خلاف مظالم کے انسداد سے متعلق قانون کے بیجا استعمال کو روکنے کی بات کہی تھی ۔ تاہم دلت گروپوں نے عدالتی فیصلے کی پرزور مخالفت کرتے ہوئے احتجاج کیا اور بھارت بند منایا ۔ اُن کا کہنا ہے کہ اس قانون کو نرم بنانے کی کوشش کی جارہی ہے جس سے درج فہرست طبقات اور قبائیل کے خلاف مظالم کے معاملوں میں اضافہ ہوگا ۔ مرکز نے پہلے ہی سپریم کورٹ کے حکمنامہ پر مرافعہ داخل کرتے ہوئے نظرثانی چاہی ہے کیونکہ دلت تنظیموں کی جانب سے بڑے پیمانے پر احتجاج ہوئے ہیں۔ فاضل عدالت نے 20 مارچ کو اپنے حکمنامہ میں کہا تھا کہ اس قانون کا بے قصور شہریوں کے خلاف بیجا استعمال ہوسکتا ہے ، چنانچہ ضروری ترمیم کے ذریعہ اس کا سدباب کیا جانا چاہئے ۔ اپوزیشن پارٹیوں نے اس مسئلہ کو استعمال کرتے ہوئے برسراقتدار بی جے پی پر شدید لفظی حملے کئے جو وزیراعظم نریند رمودی اور پارٹی صدر امیت شاہ کی قیادت میں دلتوں کو راغب کرنے کی مسلسل کوشش کرتی رہی ہے ۔ اطلاعات کے مطابق چھتیس گڑ ھ ، مدھیہ پردیش اور راجستھان کی حکومتوں نے حال ہی میں باقاعدہ احکام جاری کرتے ہوئے اپنے پولیس سربراہوں کو 20 مارچ کے سپریم کورٹ آرڈر پر عمل کرنے کی ہدایت دی تھی ۔ اس فیصلے کے بعد این ڈی اے سے تعلق رکھنے والے مختلف دلت ایم پیز نے عدالتی حکمنامہ کو چیلنج کرنے کی اپیل کی تھی ۔