پارلیمنٹ میں مودی کی بوکھلاہٹ
زخمی بیوی کی نہیں منہ بولی بہنوں کی فکر
رشیدالدین
ناکامی اور مایوسی انسان کو بوکھلاہٹ کا شکار کردیتی ہے جس کا اظہار اکثر اس کے لہجہ سے ہوجاتا ہے۔ بوکھلاہٹ کا شکار شخص احساسِ کمتری کو احساس برتری میں تبدیل کرنے کیلئے مخالف پر الزام تراشی کرنے لگتا ہے۔ ایک عام آدمی اور سیاستداں کے بوکھلاہٹ کے تیور مختلف ہوتے ہیں۔ اگر حکمران وقت بھی مایوسی اور احساس کمتری کا شکار ہوجائے تو اس کی حالت نریندر مودی کی طرح ہوجاتی ہے ۔ راجستھان میں بدترین شکست اور گجرات میں معمولی فرق سے اقتدار کی برقراری بی جے پی کیلئے خطرہ کی گھنٹی ہے۔ اس صورتحال سے پریشان نریندر مودی نے پارلیمنٹ میں اپنی بوکھلاہٹ کا مظاہرہ کیا۔ صدر جمہوریہ کے خطبہ پر تحریک تشکر پر مباحث کا جواب دیتے ہوئے نریندر مودی نے وہ سب کچھ کہہ دیا جس کا صدر جمہوریہ کے خطبہ سے کوئی تعلق نہیں تھا۔ گجرات کے نتائج سے کانگریس کی واپسی اور بی جے پی کے زوال کے آثار دیکھ کر مودی آپے سے باہر ہوگئے اور کانگریس کی دشمنی میں یہاں تک کہہ دیا کہ جمہوریت ہندوستان میں ہزاروں برسوں سے ہے اور یہ آزادی کے بعد کانگریس کی دین نہیں ۔ بادشاہت میں جمہوریت کا تصور نہیں کیا جاسکتا اور پھر انگریزوں نے 200 برس تک ہندوستان کو غلام بناکر رکھا۔ مودی اس دور کو بھی جمہوریت قرار دے رہے ہیں ۔ ظاہر ہے کہ مودی جس نظریہ کے ماننے والے ہیں، ان کے قائدین اور سنگھ پریوار کے رہنماؤں نے جدوجہد آزادی میں انگریزوں کیلئے کام کیا تھا ۔ مجاہدین آزادی کی جاسوسی کرتے ہوئے انگریزوں کے نور نظر بنے رہے ۔ ان کے ماننے والے مودی کیلئے انگریزوں کا دور بھی جمہوریت ہی کہلائے گا۔ مودی نے کم علمی کی بنیاد پر یہ بیان دیا یا پھر وہ کانگریس کی دشمنی میں اندھے ہوچکے ہیں ۔ دراصل نریندر مودی نے آزاد ہندوستان میں آنکھ کھولی اور وہ تاریخ سے کیا واقف ہوں گے۔ وہ کوئی اسکالر نہیں کہ اعلیٰ تعلیم کے حصول کے دوران تاریخ ہند مطالعہ میں آئی ہو۔ جس شخص نے آزادی کی جدوجہد کو نہیں دیکھا ، وہ مجاہدین آزادی کی قدر کیوں اور کیسے کرسکتا ہے ؟ دنیا بھر کے ممالک میں نریندر مودی وہ واحد وزیراعظم ہوں گے جو ملک کے رائے دہندوں کی تعداد سے واقف نہیں ۔ جس وزیراعظم کو 600 ملین اور 600 کروڑ میں فرق نہیں ، وہ جمہوریت اور ملک کی تاریخ کو کیا سمجھیں گے۔
پارلیمنٹ میں وزیراعظم کی تقریر سے ایسا محسوس ہورہا تھا کہ وہ ملک کے قانون ساز ادارہ سے نہیں بلکہ بی جے پی کے جلسہ سے خطاب کر رہے ہوں۔ جب کبھی نریندر مودی جملہ بازی کی تیاری کرتے ہیں تو پلیٹ فارم چاہے ملک کا ہو یا بیرون ملک کا ، انہیں بی جے پی کا جلسہ دکھائی دیتا ہے۔ مودی نے اپنی تقریر میں جدوجہد آزادی کے سورماؤں اور آزادی کے بعد تعمیر وطن میں اہم رول ادا کرنے والوں کو تنقید کا نشانہ بنایا ۔ وزیراعظم جن نظریات میں پلے بڑے اور جو کچھ انہیں سکھایا گیا، اس اعتبار سے ان کے جملے محض مجبوری کے سوا کچھ نہیں۔ ظاہر ہے کہ جس ماحول میں تربیت ہوگی، اس کا اثر تو ہوگا ہی۔ ویسے بھی نریندر مودی کا وزارت عظمیٰ تک پہنچنا محض اتفاق ہے۔ بی جے پی کے سینئر قائدین کو منظم انداز میں پس منظر میں کرتے ہوئے جارحانہ فرقہ پرستی کے چہرے کے طور پر نریندر مودی کو آگے کردیا گیا۔ گجرات میں 3000 سے زائد بے قصوروں کی ہلاکت کا تجربہ رکھنے والے شخص سے بہتر کوئی اور ہندوتوا کا چہرہ نہیں بن سکتا تھا ۔ وزیر باتدبیر امیت شاہ سے بولیوں اور جملہ بازی سیکھ کر مودی ہندو راشٹر کے پیام کیلئے نکل پڑے ۔ ملک بھر میں فرقہ وارانہ سیاست کی کچھ ایسی لہر چلی کہ رائے دہندوں نے مودی پر بھروسہ کیا لیکن اقتدار کے تین برسوں میں عوام اصلیت جان چکے ہیں۔ مودی کی مقبولیت کا گراف تیزی سے گرنے لگا ہے۔ بی جے پی مودی کے نام سے کامیابی کا تصور کر رہی تھی اور انہیں کامیابی کی ضمانت قرار دیا گیا لیکن راجستھان کے رائے دہندوں نے یہ بھرم توڑ دیا ۔ لوک سبھا کی دو اور اسمبلی کی ایک نشست کے ضمنی چناؤ میں بی جے پی کو شرمناک شکست سے دوچار کرتے ہوئے عوام نے یہ پیام دیا کہ مودی کا جادو اپنا اثر کھونے لگا ہے۔ راجستھان میں حکومت ، سرکاری مشنری ، پولیس ، طاقت اور دورلت کے استعمال کے باوجود رائے دہندوں نے بی جے پی کو چاروں خانے چت کردیا۔ بی جے پی کے رکن پارلیمنٹ اور فلم اسٹار شتروگھن سنہا نے راجستھان کی شکست پر فلمی انداز میں تبصرہ کرتے ہوئے رائے دہندوں کی جانب سے بی جے پی کو ’’تین طلاق‘‘ قرار دیا۔ بی جے پی کی نظریں اب کرناٹک پر جم گئی ہیں اور وہ کانگریس سے اقتدار چھیننے کا خواب دیکھ رہی ہے۔ لوک سبھا اور راجیہ سبھا میں مودی میں صدر جمہوریہ کے خطبہ پر جوابی تقریر میں کرناٹک اسمبلی انتخابات کو پیش نظر رکھا۔ ایوان پارلیمنٹ اور سیاسی جلسوں میں فرق ہونا چاہئے۔ ہر فورم اور پلیٹ فارم کو مقصد براری کیلئے استعمال کرنا نقصان دہ ہوسکتا ہے۔ کرناٹک میں اقتدار پر واپسی کے ذریعہ مودی جنوبی ہند میں بی جے پی کی انٹری چاہتے ہیں۔ مبصرین کا ماننا ہے کہ چیف منسٹر کرناٹک سدا رامیا کو صورتحال پر مکمل کنٹرول حاصل ہے ۔ اور یہ سب کچھ کانگریس کی وجہ سے نہیں بلکہ ان کی کارکردگی اور شخصی مقبولیت کی بنیاد پر ہے۔ سدا رامیا جارحانہ پرست طاقتوں سے نمٹنا اچھی طرح جانتے ہیں۔ مودی اور امیت شاہ اگر کرناٹک میں کیمپ کرلیں تب بھی بی جے پی کی اقتدار میں واپسی ممکن نہیں۔ دونوں کی یہ جوڑی آبائی ریاست گجرات میں اقتدار کو مشکل سے بچا پائی اور عوامی ناراضگی کے چلتے حکومت کیلئے خطرہ ابھی بھی برقرار ہے۔ گجرات میں بی جے پی جیت کر بھی ہار گئی اور اس کا اثر راجستھان میں دیکھنے کو ملا ۔ راجستھان ، مدھیہ پردیش اور چھتیس گڑھ میں بی جے پی کے لئے اقتدار بچانا آسان نہیں ہوگا۔
پارلیمنٹ میں وزیراعظم نے جس اوچھے انداز میں نہرو اور ان کے خاندان پر تنقید کی ہے، وہ عہدہ کے وقار کو زیب نہیں دیتا۔ اس بات سے کون انکار کرسکتا ہے کہ دنیا پنڈت جواہر لال نہرو کو جدید ہندوستان کے معمار کی حیثیت سے تسلیم کرتی ہے۔ غریبی کے خاتمہ کیلئے اندرا گاندھی کو بھلایا نہیں جاسکتا۔ اندرا گاندھی وہ خاتون آہن تھیں جنہوں نے ہندوستان کو نیوکلیئر طاقت بنایا ۔ پوکھرن تجربہ اندرا گاندھی کے دور میں ہوا تھا لیکن اٹل بہاری واجپائی دور میں کئے گئے تجربہ کا بی جے پی کریڈٹ لیتی ہے۔ ملک کی ترقی اور دفاعی شعبہ میں نیوکلیئر طاقت بنانے کا سہرہ نہرو خاندان کے سر جاتا ہے۔ اسی خاندان نے چونکہ ملک پر زائد مدت تک حکومت کی، لہذا ہر اچھے اور برے کیلئے وہی ذمہ دار ہوں گے ۔ اس دور میں بھی سنگھ پریوار اور اس کی تنظیموں نے فسادات کے ذریعہ ملک کو کمزور کرنے کی کوشش کی تھی ۔ اگر نریندر مودی سمیت بی جے پی قائدین کا ضمیر زندہ ہے تو انہیں ملک کیلئے گاندھی خاندان کی دو قربانیوں کو یاد کرنی چاہئے ۔ اندرا گاندھی اور راجیو گاندھی نے ملک کیلئے قربانی دی جس کی مثال کوئی اور خاندان پیش نہیں کرسکتا۔ مودی کو غیر جانبداری اور عصبیت کی عینک اتار کر ملک کی تاریخ کا مطالعہ کرنا چاہئے۔ ملک میں انفارمیشن ٹکنالوجی کو متعارف کرنے کا سہرا راجیو گاندھی کے سر جاتا ہے جبکہ ڈاکٹر منموہن سنگھ نے ہندوستان کو معاشی اصلاحات کا تحفہ دیا۔ 2008 ء میں جس وقت دنیا کے اہم ممالک معاشی بحران سے دوچار تھے، منموہن سنگھ کی پالیسیوں کے نتیجہ میں ہندوستان محفوظ رہا۔ کانگریس اور اس کے قائدین پر تنقید سے قبل بی جے پی کیا اس حقیقت کو فراموش کرچکی ہے کہ جن سنگھ کو ضم کرنے کے بعد جنتا پارٹی کی جو حکومت تشکیل دی گئی تھی، اس کے وزیراعظم مرارجی دیسائی کا تعلق کانگریس سے تھا۔ سنگھ پریوار اور بی جے پی میں ایک بھی قائد ایسا نہیں جس کی خدمات ملک و قوم کیلئے یاد رکھی جاسکے۔ ہاں نریندر مودی جو 20 سال تک وزارت عظمیٰ کا خواب دیکھ رہے ہیں ، ان کے دامن پر گجرات میں 300 سے زائد بے گناہوں کے خون کے دھبے ہیں جو شائد ہی کبھی دھل پائیں گے ۔ وزیراعظم کو چاہئے کہ وہ پارلیمنٹ کو جلسہ عام تصور کرنے کے بجائے اپوزیشن نے جو سوالات اٹھائے ہیں ، ان کا جواب دیں۔ داخلی اور خارجی دونوں محاذوں پر مودی حکومت ناکام ہوچکی ہے۔ حلف برداری میں سارک ممالک کے وزرائے اعظم کو مدعو کرتے ہوئے ڈھونگ رچایا گیا لیکن آج بھی کسی ایک پڑوسی ملک سے ہندوستان کے تعلقات خوشگوار نہیں ہے ۔ امریکہ اور اسرائیل کے سواء کوئی اور ملک ہندوستان کو اپنا حقیقی دوست تسلیم نہیں کرتا۔ ملک میں کوئی طبقہ حکومت سے خوش نہیں ، مخصوص صنعتی گھرانے اور مفادات حاصلہ کو مودی حکومت کی سرپرستی حاصل ہو۔ نریندر مودی نے طلاق ثلاثہ بل کی تائید کرتے ہوئے ریمارک کیا کہ اگر کسی ہندو کو دوسری شادی پر جیل ہوتی ہے تو سب خوش ہوتے ہیں لیکن تین طلاق پر مسلمان کو جیل بھیجا جائے تو تکلیف ہورہی ہے۔ مسلم خواتین جو مودی کی منہ بولی بہنیں ہیں ، ان کی بھلائی کی فکر سے پہلے مودی کو اپنی حقیقی شریک حیات کا خیال کرنا چاہئے جو ان دنوں زخمی ہیں۔ جس وقت مودی پارلیمنٹ سے خطاب کر رہے تھے، اسی وقت یشودھا بین ٹریفک حادثہ میں زخمی ہوگئیں۔ مودی نے عیادت تو دور کی بات ہے ہمدردی کا اظہار تک نہیں کیا اور صحت کے بارے میں معلومات حاصل نہیں کیں۔ جس شخص کو اپنی شریک حیات سے ہمدردی نہ ہو وہ اپنی منہ بولی بہنوں کا ہمدرد کس طرح ہوسکتا ہے۔ باہر کی منہ بولی بہنوں سے پہلے مودی کو گھر والی کی فکر کرنی چاہئے ۔ حامد بھنساولی نے کچھ اس طرح تبصرہ کیا ہے ؎
خفا ہے اس لئے تجھ سے زمانہ
تو کرتا کچھ نہیں کہتا بہت ہے