کاغذ نگر۔ 15 اپریل (سیاست ڈسٹرکٹ نیوز) جناب محمد رضی حیدر حلقہ سرپور کے امیدوار و مہا جنا سوشلسٹ پارٹی کے ڈسٹرکٹ کوآرڈینیٹر نے نمائندہ سیاست سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ ضلع عادل آباد میں جملہ 10 اسمبلی حلقہ ہیں اور باسر سے لے کر بجور تک ڈھائی لاکھ مسلمان ووٹرس موجود ہیں لیکن تمام سیاسی پارٹیاں مسلمانوں کو نظرانداز کررہی ہیں اور ان کی آبادی کے لحاظ سے اسمبلی الیکشن میں ٹکٹ سے محروم رکھ رہی ہیں جس کی وجہ مسلمانوں کے ساتھ ناانصافی ہورہی ہے۔ تلنگانہ راشٹرا سمیتی کے سربراہ چندر شیکھر راؤ نے محبوب نگر کے سید ابراہیم سے لے کر کاغذ نگر کے جبار خاں تک مسلمانوں کو دھوکہ دیا ہے حالانکہ مسلمان تلنگانہ تحریک میں مساوی حصہ لیا اور اپنی جانوں کی قربانی دے کر حب الوطن ہونے کا ثبوت بھی دیا۔ کانگریس پارٹی نے آزادی کے بعد سے آج تک صرف ایک مسلمان امیدوار جناب مسعود احمد خورشید کو 1972ء میں عادل آباد سے موقع دیا۔ مسٹر کونیرو کونپا سابق رکن اسمبلی بھی مسلمانوں کے مسائل کی یکسوئی میں ناکام رہے۔ تلگو دیشم پارٹی کے دور حکومت میں مسلمانوں کے ساتھ سراسر ناانصافی ہوئی ہے۔ این ٹی آر اور چندرا بابو نائیڈو نے مسلمانوں کو صرف شادی خانوں اور مساجد کی تعمیر تک ہی محدود رکھا۔ جناب رضی حیدر نے کہا کہ تلنگانہ کا یہ پہلا اسمبلی الیکشن ہے اور ضلع عادل آباد میں حلقہ اسمبلی سرپور بھی نمبر 1 ہے، اسی لئے کانگریس، تلگو دیشم پارٹی اور تلنگانہ راشٹرا سمیتی کے امیدواروں کو شکست دے کر انہیں سبق سکھانا ضروری ہے۔ جناب رضی حیدر نے حلقہ اسمبلی سرپور کے ووٹرس سے اپیل کی کہ انہیں بھاری اکثریت سے الیکشن میں کامیابی دلوائیں ۔ وہ 18 سال کے طویل عرصہ سے خدمت خلق کرتے چلے آرہے ہیں۔ اگر انہیں موقع دیا گیا تو وہ اپنے آپ کو عوام کی خدمت کے لئے وقف کردیں گے۔ اس موقع پر جناب حافظ سید غوث، جناب محمد ارشد علی، جناب سجاد انصاری، حافظ ہاشمی، جناب سید اظہر علی، جناب شہباز حیدر، جناب سمیع خاں، مسٹر ارلہ ستیش اور دیگر موجود تھے۔