تلگو زبان میں مسلم ناموں کو تلفظ کا مسئلہ

سدی پیٹ 14 اگست (سیاست ڈسٹرکٹ نیوز)محمد ابراہیم بابا کنوینر سماجی فلاحی بہبودی سوسائٹی سدی پیٹ نے اپنی قیامگاہ پر منعقدہ پریس کانفرنس سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ جامع گھر گھر سروے کے فارمس تلگو میں طباعت کی گئی جبکہ حکومت نے اردو کو دوسری سرکاری زبان کا درجہ دیا ہے اس پر عمل ندارد ۔ انہو ںنے کہا کہ تلگو میں مسلمانوں کے نام لکھنے میں اکثر غلطیاں سرزد ہوتی ہیں کیونکہ تلفظ کا صحیح لکھنا کٹھن ہوتا ہے ۔ سابق میں اس کی کئی مثالیں ملتی ہیں جیسا کہ یک محترمہ کا نام رشیدہ ہے لیکن تلگو میں اندراج کیا گیا آدھار کارڈپر Rachidaنام کی تصحیح نہیں ہوسکی ۔ حکومت کے اسکیمات سے استفادہ حاصل کرنے میں ناکام رہیں جبکہ وہ مستحق غریب خاتون اپنے بچوں کی پرورش کیلئے اسکیمات سے استفادہ حاصل کرتے ہوئے اپنے بچوں کو تعلیم دلوانا چاہتی ہیں ۔ جبکہ تلنگانہ کے پہلے چیف منسٹر مسٹر کے چندر شیکھر راو اردو سے محبت رکھتے ہیں۔ انہو ںنے کہا کہ ہمارے وزیر اعلی عہدہ پر فائز ہوتے ہیں یہ بیان دیا تھا دفاتر میں اردو کا چلن ہوگا اور تمام دفاتر پر سائن بورڈس تین زبانوں میں تحریر کئے جائیں گے اور اس کو یقینی بنایا جائے گا ۔ کنوینر محمد ابراہیم نے حکومت سے اپیل کی ہے کہ تلگو فارمس کے ساتھ ساتھ اردو میں بھی طباعت ہوتی تو تلنگانہ میں مسلمانوں میں پھیلی بے چینی دورہوتی ۔ انہوں نے حکومت سے اپیل کی ہے کہ تلگو فارمس کی خانہ پوری انگریزی میں مکمل کرنے کے احکامات یا ہدایت دیں تو تلنگانہ کے مسلمانوں خانہ پوری دشواری نہیں ہوگی ۔ کنوینر ابراہیم نے ڈسٹرکٹ کلکٹر میدک سے اپیل کی ہے کہ ڈسٹرکٹ کلکٹر ورنگل نے تلگو فارمس کی خانہ پوری انگریزی کرنے کی ہدایت دی اس طرح میدک کلکٹر نے بھی ہدایت یااحکامات جاری کریں تا کہ صحیح اندراج ہوسکے اور حکومت کو صحیح معلومات فراہم ہوسکیں ۔ کنوینر ابراہیم نے سنگاریڈی کی انجمن کے عہدیداروں سے خواہش کی ہے اس سلسلے میں کلکٹر میدک سے نمائندگی کریں ۔