تلنگانہ کی تاریخ اور تہذئب پر جامع تحقیق کی ضرورت

ورنگل 21فبروری (سیاست ڈسٹرکٹ نیوز)تلنگانہ علاقہ کی تاریخ پر جامع تحقیقات کی جائے‘ میڈرام جاترا کو قومی سطح پر متعارف کروانے کیلئے مرکزی حکومت سے سفارش کی جائے گی‘ ان خیالات کا اظہار ریاستی وزیر قبائیلی بہبود و سیاحت اجمیرا چندولال نے کاکتیہ یونیورسٹی ورنگل میں منعقدہ 35 ویں سالانہ ساوتھ انڈین ہسٹری کانگریس کے سہ روزہ قومی سمینار کے افتتاحیت قریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ کی تاریخ اور تہذیب سے عوام کو واقف کروانے کی ضرورت ہے ۔ تلنگانہ کی تاریخ بہت ہی قدیم ہے۔ یہ کاکتیہ راجاؤں کی راجدھانی رہی۔ کئی تاریخی مقامات اور عمارتیں موجود ہیں۔ انہوں نے ریسرچ اسکالرس سے کہا کہ یہاں کی تاریخ اور تہذیب پر جامع تحقیقات کی جائے ۔ انہو ںنے کہا کہ کاکتیہ مشن ملک میں نئی تاریخ رقم کرے گی۔ آنے والی نسلوں کو تلنگانہ کی تاریخ سے واقف کروانے کی ہم سب پر ذمہ داری ہے۔ انہوں نے کہا کہ قبائیلی طبقات کی تہذیب پر بھی جامع ریسرچ کرنے کی ضرورت ہے ۔ اس موقع پر انڈین کونسل آف سیٹاریکل ریسرچ پروفیسر وائی سدرشن راو نے کہا کہ تلنگاہ تاریخ پر ریسرچ کیلئے تمام تر تعاون کیا جائے گا ۔ اس موقع پر یونیورسٹی انچارج رجسٹرار ایم وی رنگا راو‘ پروفیسر سید ایوب علی جنرل سکریٹری ساوتھ انڈین ہسٹری کانگریس‘ محبوب آباد ایم پی پروفیسر ستیا رام نائک ‘پروفیسر سدا نندم‘ پروفیسر وجئے بابو و دیگر موجود تھے ۔ واضخ رہے کہ کاکتیہ یونیورسٹی ورنگل کے شعبہ جات تاریخ اور سیاحت کے زیر اہتمام جنوبی ہند کی تاریخ کے زیر عنوان سہ روزہ 35 واں قومی سمینار میں سماجی‘ سیاسی ‘تہذیبی‘ معاشی اور تاریخ سے متعلق موضوعات پر تبادلہ خیال کیا جائے گا جس میں جنوبی ہند کی تاریخ سے متعلق ملک کی یونیورسٹیز کے علاوہ مختلف تعلیمی اداروں سے وابستہ 500 مندوبین شرکت کریںگے ۔ اس سمینار کی نگرانی پروفیسر بی سی رائے ‘پروفیسر ٹی آر رام چندرم ‘ڈاکٹر ایس جانکی کریں گے ۔ اس سہ روزہ سمینار میں شریک مندوبین جنوبی ہند کی تاریخ پر مقالات بھی پیش کریں گے ۔