تلنگانہ و مہاراشٹرا کے آبی تنازعہ کی یکسوئی متوقع

نظام آباد : 18؍ فروری (سیاست ڈسٹرکٹ نیوز)چیف منسٹر مسٹر چندر شیکھر رائو مہاراشٹرا حکومت کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے ضلع نظام آباد کے زیر التواء لینڈی، پرانہیتا چیوڑلہ پراجیکٹوں کی عاجلانہ تکمیل کی راہ ہموار ہونے پر ضلع کی عوام میں مسرت پائی جارہی ہے۔ چیف منسٹر مسٹر چندر شیکھر رائوکی کل مہاراشٹرا کے چیف منسٹر دیویندرا فڈنویس ، گورنر مہاراشٹرا سی ایچ ودیا ساگرائو کے ساتھ لینڈی پراجیکٹ، پرانہیتا چیوڑلہ کی عاجلانہ تکمیل پر ہوئی بات چیت پر چیف منسٹر مہاراشٹرا نے ان پراجیکٹوں کی تکمیل کیلئے بھی رضامندی ظاہر کی ہے۔ گوداوری ندی سے 160 ٹی ایم سی پانی کے استعمال پر بھی اتفاق کیا ہے۔ لینڈی پراجیکٹ کے ذریعہ 6 ٹی ایم سی پانی دونوں ریاستوں کی آبی اغراض کی تکمیل کیلئے رضامندی ظاہر کی ہے۔

لویرپینو گنگا پراجیکٹ کے تیسرے مرحلہ میں تین بیاریجس کی تعمیر کی عاجلانہ تکمیل اور گوداوری ندی پر تعمیر کئے جانے والے پراجیکٹس کی جلدا ز جلد تکمیل کرتے ہوئے آبی سہولتوں کی فراہمی اور دونوں ریاستوں کے ماہرین کی کمیٹی کی تشکیل اور اس کے ذریعہ مسائل کے حل کیلئے فیصلہ کیا گیا ہے۔ چیف منسٹر مسٹر چندرشیکھر رائو مہاراشٹرا چیف منسٹر دیویندرا فڈنالیس کو واقف کراتے ہوئے بتایا کہ پرانہیتا چیوڑلہ پراجیکٹ کو قومی پراجیکٹ قرار دینے کیلئے مرکزی حکومت سے نمائندگی کی گئی ہے اور مرکزی حکومت نے اس سلسلہ میں سنجیدہ اقدامات کرنے کا تیقن دیا ہے۔ لہذا اس پراجیکٹ کی تکمیل کیلئے مہاراشٹرا حکومت کا تعاون ناگزیر ہے جس پر دیویندر فڈناویس نے پرانہیتا چیوڑلہ پراجیکٹ کیلئے مکمل تعاون کرنے کا ارادہ ظاہر کیااس کے علاوہ گوداوری ندی سے 160 ٹی ایم سی پانی کے استعمال کیلئے رضامندی ظاہر کرتے ہوئے بتایا کہ پرانہیتا چیوڑلہ پراجیکٹ کے ڈیزائن میں چند خامیاں ہیں۔ مہاراشٹرا کے گڑچارولی، چندرا پورضلع کے 30 دیہات کے740 ہیکٹر اراضی متاثر ہورہی ہے جس پر چیف منسٹر نے پرانہیتا چیوڑلہ پراجیکٹ کے ڈیزائن میں تبدیل کرنے اور بغیر متاثر کے ڈیزائن میں تبدیل عمل میں لانے کا ارادہ ظاہر کیا۔ لینڈی پراجیکٹ کے معاہدہ کے مطابق 2003ء میں یہ معاہدہ متحدہ آندھرا پردیش اور مہاراشٹرا حکومت کے درمیان معاہدہ طئے پایا تھا اور گوداوری ندی سے دونوں ریاست کی آبی اغراض کیلئے معاہدہ طئے پایا تھا مہاراشٹرا کے 12 دیہات متاثر ہورہے ہیں ۔ لینڈی پراجیکٹ کے ذریعہ 62 فیصد مہاراشٹرا 38 فیصد تلنگانہ کیلئے آبی اغراض کی تکمیل کیلئے منصوبہ بندی کی گئی تھی اور اس وقت 64.50 کروڑ روپئے سے تخمینہ کیاگیا تھااور لینڈی پراجیکٹ کی تعمیر کے دوران مہاراشٹرا حکومت نے 6 متاثرہ دیہاتوں کو حکومت نے ہرجانہ ادا کیا تھا۔

مزید 6 دیہاتوں کا مسئلہ جوں کا توں تھااور 11دیہاتوں میں اراضی کا حصول کیا گیاتھا اس درمیان مہاراشٹرا عوام کی جانب سے لینڈی پراجیکٹ کے خلاف تحریک چلاتے ہوئے متاثرہ افراد کے ہر گھر کو ملازمت فراہم کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔ اس سے مسئلہ پیدا ہونے پر یہ پراجیکٹ کی تعمیر ادھوری ہوگئی تھی۔ متحدہ آندھرا پردیش میں معاہدہ کے مطابق بچکندہ، مدنورمنڈلوں کے کسانوں کو 44 کروڑ روپئے ادا کئے گئے۔ مہاراشٹرا حکومت کی جانب سے اس پراجیکٹ کی تعمیر پر 355.19 کروڑ روپئے خرچ کئے گئے۔ ان میں سے آندھرا پردیش حکومت کی جانب سے 183 کروڑ روپئے ادا کئے گئے۔ جدید تخمینہ کے مطابق 1038 کروڑ روپئے کا تخمینہ کیا گیا۔ 14گیٹوں میں سے 10 گیٹ نصب کئے گئے اور 40 فیصد کام تکمیل کئے گئے اور 60 فیصد کام زیر التواء ہے تلنگانہ کی حکومت کے بجٹ میں لینڈی پراجیکٹ کیلئے 3 کروڑ روپئے خرچ کئے گئے۔ ناندیڑ ضلع کے مدکھیڑ تعلقہ کے گونے گائوں میں تعمیر کئے جانے والے اس پراجیکٹ سے جملہ 49 ہزار ایکر اراضی کو پانی سیراب ہوگا۔ ان میں سے تلنگانہ 22 ہزار ایکر اراضی کو پانی سیراب ہوگا۔ ضلع نظام آباد کے مدنور، بچکندہ منڈلوں کے 22 ہزار ایکر اراضی کو 2.43 ٹی ایم سی پانی حاصل ہوگا۔ لینڈ پراجیکٹ کے مین کنال سے 12 ذیلی کنال کے ذریعہ دو منڈلوں کو پانی حاصل ہوگا۔ پرانہیتا چیوڑلہ پراجیکٹ کی تعمیر کا 2012ء میں مہاراشٹرا آندھراپردیش کی حکومت میں فیصلہ کیا گیا تھا اور تلنگانہ کے 7 اضلاع کو آبی سہولتوں کی فراہمی کیلئے مرکز سے اجازت حاصل کی گئی تھی۔ پراجیکٹ کی تعمیر سے متاثرہ دیہاتوں میں عوامی رائے کے ذریعہ اراضی کے حصول کی ذمہ داری مہاراشٹراحکومت کو دی گئی تھی اور عادل آباد ضلع کے توماڑی ہتھی میں بیاریج کی تعمیر سے مہاراشٹرا کے چندرا پور، گھڑچڑولی 1850 ایکر اراضی متاثر ہورہی ہے

اور اس اراضی کا حصول باقی ہے۔ ضرورت پڑنے پر پرانہیتا بیاریج پر بیاک واٹر مہاراشٹرا کو استعمال کیلئے تلنگانہ حکومت مکمل تعاون کرنے کا چیف منسٹر کے ساتھ ہوئی بات چیت میں ارادہ ظاہر کیا گیا۔ ضلع نظام آباد میں پرانہیتا چیوڑلہ مرحلہ نمبر20,21,22 زیر تعمیر ہے۔ ان مرحلوں میں تعمیر مکمل کی گئی تو ضلع کو 3.04 ٹی ایم سی پانی حاصل ہوگااور تلنگانہ کے 7 اضلاع کو 16.40 لاکھ ایکر اراضی کو سیراب کا پانی حاصل ہوگا۔ ضلع نظام آباد میں تعمیر کئے جانے والے مرحلہ نمبر 20,21,22 کی تعمیر سے نظام آباد کے علاوہ کریم نگر ، میدک ضلع کو بھی پانی حاصل ہوگا۔ لویر پینو گنگا پراجیکٹ کی تعمیر 1975ء میں آندھر اپردیش اور مہاراشٹرا حکومت کے درمیان معاہدہ طئے ہوا تھا اس معاہدہ کے تحت ودربھا کے 395185 ایکرپر عادل آباد ضلع کے 47486 ایکر اراضی کو سیراب کا پانی پینے کا پانی پہنچانے کا فیصلہ کیا گیا تھا اور اس فیصلہ کے مطابق مرکزی حکومت سے منظوری حاصل کرنا اور عدالت میں زیر التواء مقدمات کی یکسوئی اور دیگر امور پر بھی دونوں حکومتوں کے درمیان ہوئی بات چیت مکمل تعاون پیش کرنے کیلئے ارادہ ظاہر کیا گیا ۔ چیف منسٹر نے اپنے دورہ کے موقع پر برقی مسئلہ پر بھی مرکزی حکومت سے بات چیت کرتے ہوئے ڈچپلی تک راست طور پر برقی پہنچانے کی بھی نمائندگی کی گئی ۔ چیف منسٹر کے دورہ کے موقع پر کئے گئے فیصلہ میں کامیابی ہونے کی صورت میں ضلع نظام آباد کو آبی سہولتوں کے ساتھ ساتھ برقی مسائل بھی حل ہونے کے امکانات ہے اور اس سے ضلع کی عوام کو زبردست فائدہ حاصل ہوگا۔