سید ابراہیم کو ٹکٹ نہ دینے پر علماء و مشائخین محبوب نگر کا رد عمل
محبوب نگر۔/14مارچ، ( فیکس ) ضلع محبوب نگر سے بحیثیت ایم پی کے سی آر کی جیت سید ابراہیم کو ٹکٹ دینے کی وجہ سے ہوئی تھی ورنہ کے سی آر کا ایم پی بننا مشکل ہی نہیں ناممکن تھا۔ سید ابراہیم نے پچھلے پانچ سال میں ٹی آر ایس کیلئے جو قربانیاں دی ہیں اس کی مثال ملنا مشکل ہے۔ اس کے باوجود سید ابراہیم کو ٹکٹ نہ دے کر اورضلع انچارج کے عہدے سے بغیر کسی وجہ کے معطل کرکے کے سی آر نے محبوب نگر کے عوام خصوصاً مسلمانوں سے دھوکا کیا ہے۔ کے سی آر کا سید ابراہیم کو ایم ایل سی بنانے کا وعدہ سبز باغ دکھانے اور مسلمانوں کے تئیں اندرونی جذبات کا غماز ہے۔ کے سی آر کے اس فیصلہ سے مسلمانوں میں ٹی آر ایس کے بارے میں بے چینی اور غم و غصہ بڑھتا جارہا ہے جس کی وجہ سے آنے والے انتخابات میں ٹی آر ایس کو بھاری نقصان ہوسکتا ہے۔ محبوب نگر کی مختلف مسلم جماعتیں اور تنظیمیں کے سی آر کے اس فیصلہ سے سخت ناراض ہیں اور کے سی آر سے اپنا فیصلہ واپس لے کر سید ابراہیم کو ٹکٹ دینے اور سابقہ عہدہ پر بحال کرنے کامطالبہ کررہی ہیں۔ سید ابراہیم نے گذشتہ چند سالوں میں ذات پات اور مذہب و ملت کا لحاظ کئے بغیر انسانیت کی بنیاد پر ہر ایک کی خصوصاً پچھڑے طبقات کی جو خدمت کی ہے
اس کی وجہ سے نہ صرف مسلمان بلکہ ہندو عوام بھی سید ابراہیم کو ٹکٹ نہ دینے پر مایوس ہیں اور ا ن کے ساتھ ہوئی ناانصافی کو کے سی آر کے سیاسی خاتمہ کا پیش خیمہ سمجھ رہے ہیں۔ بیان جاری کرنے والوں میں مولانا شیخ خالد امام قاسمی، مولانا محمد عبدالجواد مظاہری، مولانا محمد مطیع الرحمن مفتاحی، مولانا محمد الیاس انجم قاسمی، مولانا محمد نعیم کوثر رشادی، مولانا عبدالحکیم رشادی گدوال، مولانا محمد طاہر قاسمی شاد نگر، مفتی محمد عبدالرحمن رشادی، مولانا عبدالرشید مظاہری، مولانا ظہیر اللہ خان رشادی، مولانا سید عبدالرحمن رشادی ندوی، مولانا عبدالناصر مظاہری، مولانا محمد نور الدین رشادی، مولانا محمد فخر الدین رشادی، مولانا محمد ظفر الدین قاسمی، حافظ ادریس، حافظ غلام محمد، جناب رشید احمد قریشی، محمد شعیب اور دیگر شامل ہیں۔