نظام آباد میں جلسہ اصلاح معاشرہ، جناب محمد نعیم الدین کا خطاب
نظام آباد۔/14مئی، ( ذریعہ فیاکس ) تم دنیا سے محبت رکھتے ہو اور آخرت کو چھوڑ بیٹھے ہو (قرآن حکیم )۔ انسان صبح سے شام تک کئی منصوبے تکمیل کرکے واپس لوٹتا ہے یہ ایسا سفر ہے جو ختم ہونے والا ہے لیکن انسان آخر ت کی طرف سفر کرتا ہے لیکن وہ ناآشنا ہے کہ مر کر کہاں جانا ہے، دنیا سے محبت کم اور آخرت کی فکر سے ہی ہمارے قلب کا تزکیہ ہوگا۔ ان خیالات کا اظہارجناب محمد نعیم الدین خادم اصلاح معاشرہ و سابق خادم الحجاج نے اجتماع تزکیہ نفس ، دردو شریف و توبہ استغفار منعقدہ مسجد خلیل بودھن روڈ نظام آباد میں مخاطب کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ میدان حشر میں حضرت انسان اللہ کے حضور کئی حالتوں میں پیش ہوں گے۔ بھکاریوں کے طبقے اللہ کے حضور ایسی حالت میں پیش ہوں گے کہ چہرے پر گوشت کی ذرا سی بوٹی تک نہ ہوگی۔ ایسا شخص جس کی دو بیویاں ہوں گی جو ناانصافی کرنے والا ہوگا ، اللہ کے حضور ایسی حالت میں پیش ہوگا کہ اس کا ایک پہلو گرا ہواہوگا۔ بے نمازی اس حالت میں پیش ہوں گے کہ ان کا حشر فرعون، قارون ہامان کے ساتھ ہوگا۔ مقتول ناحق قاتل کا سر اور پیشانی پکڑ کر اللہ کے حضور حاضر ہوگا اور عرش کے قریب پہنچ کر بدلے کیلئے فریاد کرے گا۔ عہد توڑنے والا حشر میں اللہ کے حضور اس حال میں آئے گا کہ ایک جھنڈا اس کے دُبر( پاخانہ کے مقام پر ) لگا ہوا ہوگا۔ زکوٰۃ نہ دینے والا اس حال میں پیش ہوگا کہ اس کا مال گنجا سانپ بنادیا جائے گا جس کے آنکھوں پر دو نقطے ہوں گے اور وہ طوق بناکر گلے میں ڈال دیا جائے گا۔ خوب کھاکر ڈکاریں لینے والا اس حال میں پیش ہوگا کہ وہاں سب سے زیادہ بھوکا ہوگا۔ دو چہرے والا دوغلے پن کا انسان اس حال میں ہوگا کہ اس کی زبان آگ میں ہوگی ایسا آدمی جو تکبر اور اترانے والا لباس پہنتا ہے وہ اس حال میں پیش ہوگا کہ اس کو ذلت کالباس پہنایا جائے گا۔ علم والے علم کی بات چھپائیں اور دوسروں کو نہ بتائیں تو وہ اس حال میں پیش ہوں گے کہ ان کے منہ میں آگ کی لگام ہوگی۔ نیک بخت جو غصے کو پینے والاہے اس کو جنت کی حوروں میں اختیار دیا جائے گا کہ جنت کے حوروں میں جس حور کو چاہے پسند کرلے۔ حج کرتے ہوئے مرجائیں تو احرام کے کپڑوں میں دفن کردیا جائے وہ اس حال میں پیش ہوگا کہ اس کی زبان پر تلبیہ جاری رہے گی۔ نمازی جو اندھیروں میں مساجد جاتے ہیں ان کیلئے وہاں نور کا محل ہوگا۔اذان دینے والوں کی حالت یہ ہوگی کہ ان کی گردنیں اونچی ہوں گی۔ اللہ سے محبت کرنے والے وہاں نور کے منبر پر ہوں گے۔ حلال کمانے والے اس حال میں پیش ہوں گے کہ ان کے چہرے چودھویں کے چاند کی طرح چمکتے ہوں گے۔ لیڈرس بھٹکے ہوئے جن کے پیچھے لوگ چلتے ہیں وہاں اس حال میں پیش ہوں گے کہ وہاں اپنی لیڈری اور ان سے بیزاری کا اعلان کردیں گے اور دوزخ سے نکل نہ سکیں گے۔ ڈاکٹر عبدالقوی پروفیسر تلنگانہ یونیورسٹی نے شرکت کی اور حامد بن سعید ، سید رفیق احمد، عیسیٰ خان منیار والے نے انتظامات کئے۔ عوام کی کثیر تعداد موجود تھی۔ ذکر و درود شریف ، توبہ استغفار کا جہری ورد کروایا گیا۔ دعاء پر اجتماع اختتام کو پہنچا۔