ترک جمہوریت و عوام کیخلاف 15 جولائی کی ناکام بغاوت

سیاست فیچر
سال 2016ء میں 15 جولائی کی شام ترک مسلح افواج کے ایک گروہ نے ترکی کے مختلف شہروں بالخصوص انقرہ اور استنبول میں بغاوت کی کوشش کی۔ جلد ہی سمجھ میں آگیا کہ یہ ترکی میں جمہوریت اور قومی سلامتی کو تباہ کردینے کی دہشت گردانہ مہم تھی۔ اس کے مرتکبین نے خود اپنے ہم وطن لوگوں پر فائرنگ کی، اپنے کمانڈروں سے دغا کی اور قومی پارلیمان اور دفتر صدارت پر بم پھینکے۔ اس پورے گھناؤنے عمل میں 249 ترک مارے گئے اور زائد از 2,000 دیگر زخمی ہوئے۔ بغاوت کی اس صدمہ انگیز کوشش کی قیادت ملٹری آفیسرز کے نٹ ورک نے کی اور انھیں غیرفوجی افراد اور ایسے گروپوں کی تائید و حمایت حاصل ہوئی جن کا تعلق سے فتح اللہ گولن یعنی فتح اللہ کی دہشت گرد تنظیم (FETO) سے رہا ہے۔
ترک تاریخ میں 15 جولائی کی بغاوت ماضی کی بغاوتوں سے مختلف رہی۔ اس مرتبہ ترک ملٹری کی اعلیٰ قیادت اور مسلح افواج کی زبردست اکثریت نے ترکی کی جمہوری طور پر منتخب حکومت کو معزول کرنے کی کوشش کے خلاف ٹھوس طور پر حائل ہوئے۔ پولیس اور پبلک پراسکیوٹرز دونوں نے فوری ضروری اقدامات کرتے ہوئے بغاوت کی کوشش کو ناکام بنایا۔ ان سب سے بڑھ کر ترک قوم نے اس منصوبے کو ناکام بنا دیا۔ انھوں نے تاریخی یگانگت کا مظاہرہ کیا جیسا کہ وہ سڑکوں پر نکل آئے اور پُرجوش انداز میں مزاحم ہوئے۔ وہ توپوں کے آگے شجاعت کے ساتھ کھڑے ہوگئے اور اپنے جمہوری حقوق دوبارہ حاصل کرلئے۔ اس طرح بغاوت کی کوشش محض چند گھنٹوں میں ختم کردی گئی۔
گولن جو مبلغ اور پرائمری اسکول کا فارغ ہے جس کا کوئی مذہبی علوم کا پس منظر نہیں، اُس نے اپنی تحریک دہا 1970ء کے اوائل میں قائم کی۔ اُس نے ایک خطرناک خفیہ گروپ ترکی کے علاوہ امریکہ اور دنیا بھر کے دیگر ملکوں میں تشکیل دیا۔ اُس نے خود کو ایک فرقہ کا رہنما باور کرایا، جو اِس ایقان پر مبنی ہے کہ وہ وہی مسیحا ہے جس کا انتظار تھا۔ اُسے اُس کے گروہ نے ’’امامِ کائنات‘‘ قرار دیا۔ چنانچہ سخت جان گولن کا نٹ ورک آج ہندوستان کے بشمول زائد از 160 ملکوں میں موجود ہے۔ اپنی نوعیت کی اس عجیب مجرمانہ تنظیم کے ارکان اپنی شناختوں کو چھپاتے ہیں اور خود کو دستیاب حالات کے مطابق بائیں بازو والے، دائیں بازو والے، آزادخیال، سکیولر، مذہبی، سخی وغیرہ کے طور پر پیش کرتے ہیں۔ اس کا اصل مرکز امریکہ میں پنسلوینیا کے سیلرسبرگ میں واقع اسٹیٹ ہے جبکہ اس کی شاخیں بہت دور دور تک پھیلی ہوئی ہیں، جہاں غربت، خوف، جمہوری خامیوں اور کرپشن کا استحصال کرتے ہوئے اپنے مفادات کی تکمیل کی جاتی ہے۔ گولن کا نٹ ورک امریکہ میں بدستور اسکولس چلاتا ہے اور مشکوک بزنس معاملتوں سے نفع حاصل کرتا ہے۔ وہ اپنے پروپگنڈے کو پنسلوینیا سے پھیلاتے ہیںجبکہ انھیں چارٹر اسکولس کا وسیع نٹ ورک چلانے پر وفاقی، ریاستی اور مقامی بجٹوں سے فنڈز حاصل ہوتے ہیں۔
موجودہ طور پر فتح اللہ گولن خود مختلف مجرمانہ معاملوں میں کلیدی مشتبہ ملزم ہے۔ فیٹو کی سرگرمیوں کی پبلک پراسکیوٹرز آفس کے ذریعے حالیہ تحقیقات سے ظاہر ہوا ہے کہ خدمت خلق، رواداری اور انسانیت نوازی کی تنظیموں کے بیانر کی آڑ میں فتح اللہ گولن اور فیٹو نے ایک غیرقانونی آرگنائزیشن قائم کرلی ہے اور اسے چلا رہے ہیں۔ وہ اسٹیٹ سے متعلق راز کی معلومات کو سیاسی یا فوجی جاسوسی کے مقاصد کیلئے آشکار کرتے ہیں، نجی زندگی کی رازداری کو ظاہر کرتے ہوئے خلاف ورزی کرتے ہیں، شخصی معلومات کی غیرقانونی ریکارڈنگ کرتے ہیں، سرکاری دستاویزات کی جعلسازی میں ملوث ہوتے ہیں، من گھڑت فوجداری کیسیس وضع کرتے ہیں، ثبوت مٹاتے ہیں، غیرقانونی رقمی لین دین اور قتل میں تک ملوث ہوتے ہیں۔
ترک حکام نے اس جرم کے تمام مرتکبین کو کیفرکردار تک پہنچانے کا عزم کررکھا ہے۔ تب سے دو سال میں ترکی نے ان مرتکبین کی مستعدی سے تحقیقات کی ہے۔ ملٹری پرسونل، جہدکاروں، عہدے داروں، صحافیوں کے ساتھ ساتھ ایجوکیشنل ورکرس کے نمائندہ زائد از 50,000 نمائندوں کو گرفتار کیا گیا اور زائد از 140,000 عہدے داران برطرف کئے جاچکے ہیں۔ ترکی نے مزید 18,632 افراد کو 7 جولائی 2018ء کو شائع فرمان کے مطابق سیول سرویس سے برطرف کردیا ہے۔ ترکی کے عوام کو پوری توقع ہے کہ امریکی حکام فتح اللہ گولن اور فیٹو کے خلاف مؤر قانونی اقدامات کریں گے جیسا کہ کسی حلیف کو کرنا چاہئے۔ ترکی اور امریکہ جمہوریت اور قانون کی حکمرانی کی مدافعت اور دہشت گردی اور منظم جرائم سے لڑائی میں کئی دہوں سے پیش پیش رہتے ہوئے شانہ بہ شانہ کام کرتے آرہے ہیں۔