سنگاریڈی /7 جنوری ( سیاست ڈسٹرکٹ نیوز ) ضلع میدک کے ورگل منڈل میں ریاستی وزیر زراعت مسٹر پوچارم سرینواس ریڈی نے ترکاریوں کے فروختگی کے ایک مرکز کا معائنہ کیا ۔ اس موقع پر انہوں نے کہا کہ کسانوں کو چاہئے کہ دیگر فصلوں کو اگانے کے علاوہ ترکاریوں کی کاشت کرنے کیلئے توجہ ضروری ہے ۔ کیونکہ ریاست تلنگانہ کے دارالحکومت حیدرآباد میں دیگر ریاستوں سے تقریباً 85 فیصد ترکاریاں فروخت کیلئے لائی جاتی ہیں ۔ لہذا کسانوں کو چاہئے کہ وہ موسمی کاشت کرنے کے علاوہ تمام اقسام کے ترکاریوں کو اگائیں اور محکمہ زراعت ، محکمہ ہارٹیکلچر کے ماہرین سے اس خصوص میں مشورہ کریں تاکہ منافع بخش کاشت حاصل ہوسکے ۔ انہوں نے کہا کہ ریاست تلنگانہ میں ایک ہزار ایکر اراضی پر پولی ہاوز مراکز کی تعمیر ک یلئے 252 کروڑ روپئے مختص کئے گئے ہیں ۔ دارالحکومت حیدرآباد سے 100 کیلو میٹر کے فاصلے پر پولی ہاوز کی تعمیر عمل میں لائی جائے گی ۔ ایک ایکر اراضی پر پولی ہاوز کی تعمیر کیلئے 33.6 لاکھ روپئے کا خرچ عائد ہوتا ہے ۔ جس میں حکومت کی 25.6 لاکھ روپئے کی سبسیڈی ہوگی ۔ ضلع میدک کیلئے 70 کروڑ روپئے مختص کئے گئے ہیں ۔ پولی ہاوز کے قیام سے ترکاریوں کو تازہ ترین رکھنے میں کسان کامیاب ہوسکتے ہیں ۔ ڈرپ اریگیشن کیلئے 425 کروڑ روپئے مختص کئے گئے ہیں ۔ 17 ہزار کروڑ روپئے قرض معافی پروگرام کے تحت جاری کئے گئے جن میں سے 425 کروڑ روپئے بنک کھاتوں میں جمع کردئے گئے ہیں اور 20 ہزار سولار پمپس سٹس منظور کئے گئے ۔ محکمہ زراعت سے دیہی سطح پر زرعی شعبہ کے تحت مٹی کے نمونے حاصل کرتے ہوئے کسانوں کو زمین کے مطابق کاشت کرنے کا مشورہ دیا جارہا ہے تاکہ کم خرچ سے زیادہ منافع بخش کاشت حاصل ہوسکے اور کسانوں کو زیادہ سے زیادہ فائدہ ہوسکے ۔ ترکاریوں کی پیداوار میں اضافہ کیلئے کسانوں کو مختلف پروگراموں کے تحت تربیت دی جارہی ہے اور سبسیڈی پر بیج اور ادویات و جدید زرعی مشنری بھی دی جارہی ہے ۔