وزیراعظم سے ملاقات میں مسلم اور قبائیلی طبقات کے مسائل یکسر نظر انداز ، ذاتی فوائد پر توجہ
جگتیال17؍جون (سیاست ڈسٹرکٹ نیوز ) جگتیال رکن اسمبلی و کانگریس ڈپٹی فلور لیڈر مسٹر ٹی جیون ریڈی نے آج شام اپنی رہائش گاہ پر پریس کانفرنس کومخاطب کرتے ہوئے ریاستی چیف منسٹر کو تنقید کا نشانہ بنایا ۔ انہوں نے کہا کہ مسلم تحفظات پر چیف منسٹر کے سی آر کی نیت میں کھوٹ ہے ۔وزیراعظم سے ملاقات میں ریاست کے اہم مسائل پر بات چیت میں مسلم تحفظات اور قبائیلی تحفظات کا تذکرہ نہ کرنا باعث افسوس ہے ،جبکہ انتخابات سے قبل ٹی آرا یس پارٹی چیف منسٹر کے سی آر نے ٹی آر ایس کو اقتدار ملنے پر اندرون چار ماہ 12%فیصد مسلم تحفظات کی فراہمی کا وعدہ کیا تھا ۔ اور بابا صاحب امبیڈکر کی جانب سے آبادی کی تنا سب سے سماجی پسماندہ طبقا قبائیلوں کو دستوری حق کے مطابق دس فیصد تحفظات کی فراہمی کو بھی نظر انداز کردیا ،اقتدار حاصل ہوکر چار سال گذر گئے ابھی چھ ماہ باقی ہے، یعنی ، ڈسمبر2018یا فبروری2019میں انتخابات ہونے جارہے ہیں تحفظات پر کسی قسم کی پیشرفت نہیں ،اگر انتخابات سے قبل مسلمانوں کو اور قبائلی طبقہ کو تحفظات فراہم نہ کیا جائے تو کے سی آر کو ان سے ووٹ مانگنے کا اخلاقی حق نہیں ہے، انہوں نے کہا کہ اسمبلی میں انہوں نے کہا کہ اسمبلی میں تحفظات کے سلسلہ میں قرارداد منظور کرتے ہوئے پارلیمنٹ میں صرف پلے کارڈ اُٹھانے سے تحفظات حاصل نہیں ہوتے جبکہ کے سی آر نے کہا تھاکہ مودی وزیر عظم اس کی تائید میں ہے، اورجلد از جلد عمل آوری کا وعدہ کیا تھا اور دیڑھ سال قبل چیف منسٹر کے حلقہ اسمبلی گجویل میں وزیر اعظم کی آمد پر کے سی آرنے کہا تھا کہ مجھے کچھ نہیں چاہئے تمہارا پیار چاہئے کیاتمہارے پیار میں مسلم تحفظات نہیں ہے ؟وزیر اعظم سے ملاقات پر کئی علاقائی سیاسی پارٹیاں اور میڈیا نے یہ توقع رکھی تھی کہ تحفظات کے مسائل پر نمائندہوگی لیکن بجائے اسکے اپنی ذاتی فوائد رعیتو بندھو اور ،رعیتو اسکیم گوداموں کی تعمیر ،اور دیگر اپنی تعاریف کے پل باند کر اہم مسائل کو نظر انداز کردیا جب کہ ان کی حلیف جماعت بہار چیف منسٹر نتیش کمار نے ریاست کے اہم مسائل پر مرکز سے دوٹوک انداز میں آواز اُٹھائے۔ افسوس کہ ریاست کے اہم مسائل میں مسلمانوں کے اہم مسئلہ 12%فیصد تحفظات جو اندرون چار ماہ میں فراہمی کا تھا چار سال گذر گئے کچھ ہئے تو مسلمانوں کو کپڑا کھانا ،دینے کی بات کرتے ہیں جب کہ پڑوسی ریاست میں غریب معاشی پسماندہ خاندانوںکو چیف منسٹر چندرابابو نائیڈو نے گھر گھر شکر ،گھی ،آٹا،کو تقسیم کیا ، جبکہ تلنگانہ میں دی جانے والی شکر کو ہی بند کردیا گیا ۔اب مسلمانوںکو کہاں کا شیر خورما ۔ ریاست کے اہم مسائل لاکھوں بے روزگاروں کو روزگار فراہم کرنے والے بیارم نمک فیاکٹری ، قاضی پیٹ رائیلوے کوچ، آئی ٹی ٹی پراجکٹ ،کے سلسلہ میں وزیر اعظم سے ملاقات میں نظر انداز کردیا گیا ۔ اس کے بجائے کالیشورم پراجکٹ کو ری ڈیزائنگ اور تعمیر نو کے نام پر ریاست کو قرض کے بوجھ تلے دفن کردے اجارہا ہے، گذشتہ 58سا ل میں متحدہ ریاست میں 60ہزار کروڑ قرض تھا تلنگانہ ریاست قیام کے چار سال میں 2لاکھ 10ہزار کروڑ روپیوں کا قرض کردیا گیا ۔ اپنی غلطیوں کوچھپانے کیلئے چیف منسٹر پر کھیل کھیلنے کا الزام لگایا ۔جب کہ کے سی آر کو تحفظات کی فراہمی کے کئی ایک مواقع حاصل ہونے پر اس سے فائدہ اُٹھانے سے نا کام رہے ، اور تیسرے محاذ کے قیام کے بلند بانگ دعوے کرنے والے تمام سیاسی پارٹیوں کے چیف منسٹر س کے اجلاس میں کے سی آر کی عدم شرکت پر انہوں نے کہا کہ کے سی آر ٹی آر ایس Bپارٹی یعنی بی جے پی پارٹی کا ایک حصہ قرارد یا۔اس موقع پر سابقہ بلدیہ چیر پرسن گری ناگابھوشنم،چیر پرسن ٹی ۔وجیہ لکشمی ، وائس چیرمین سراج الدین منصور، بنڈا شنکر ، گاجولا راجیندر،مکثر علی نہال، خواجہ کمال، محمد ریاض اور دیگر موجود تھے۔