گمبھی راؤ پیٹ /12 فروری ( سیاست ڈسٹرکٹ نویز ) گمبھی راؤ پیٹ کے سرکاری دواخانے میں زچگی کیلئے آئی ہوئی حاملہ خاتون کے ساتھ مجرمانہ لاپرواہی بے رحمانہ سلوک کرنے والی ڈیوٹی ڈاکٹر کے خلاف کی جانے والی کارروائی برف دان کی نذر ہوگئی ۔ واضح رہے کہ جنوری کی 28 تاریخ کو ممتاز بیگم نامی حاملہ خاتون اپنی تیسری زچگی کیلئے گمبھی راؤ پیٹ کے سرکاری دواخانے سے رجوع ہوئیں تھیں ۔ افراد خاندان کا الزام تھاکہ دواخانے میں موجود ڈیوٹی ڈاکٹر نے حاملہ خاتون کو بغیر کسی تشخیص کے جسم میں ہیموگلوبین کے کم ہونے اور پھر زچگی کیلئے مزید وقت ہے کہتے ہوئے ایریا ہاسپٹل سرسلہ منتقل ہونے کی ہدایت دی تھی ۔ اس اثناء حاملہ خاتون کو دواخانے کے بیت الخلاء میں ہی ایک لڑکا تولد ہوا ۔ ایسی صورت میں بھی ڈیوٹی ڈاکٹر اور دواخانے کے عملہ نے بے رحمی کا مظاہرہ کرتے ہوئے نہ صرف بیت الخلاء صاف کرنے کو کہا بلکہ افراد خاندان پر برہمی کا ابھی اظہار کیا اور الٹا ڈیوٹی ڈاکٹر نے انہیں پولیس کے حوالے کرنے کی دھمکی دی ۔ جیسے ہی یہ واقعہ منطر عام پر آیا ۔ مقامی مسلمانوں کی ایک کثیر تعداد جن کی قیادت مقامی سرپنچ و دیگر سیاسی قائدین کر رہے تھے ۔ دواخانے کے باب الداخلہ پر زچہ ، بچہ کے ساتھ ا حتجاجی دھرنا منظم کیا اور محکمہ ہیلت کے کئی اعلی عہدیدیاروں سے ربط پیدا کرتے ہوئے حاملہ غریب خاتون کے ساتھ مجرمانہ لاپرواہی ، بے رحمانہ سلوک کرنے والی ڈیوٹی ڈاکٹر کو ان کی خدمات سے معطل کرنے کا پرزور مطالبہ کیا تھا ۔ جس کا سخت نوٹ لیتے ہوئے محکمہ کے اعلی عہدیدار ڈیوٹی ڈاکٹر کے خلاف کی گئی شکایت کی انکوائری کیلئے ٹی بی کنٹرول آفیسر کو دواخانہ روانہ کیا تھا ۔ ٹی بی کنٹرول پروگرام آفیسر راجیشم نے 30 جنوری کو سرکاری دواخانہ گمبھی راؤ پیٹ کا دورہ کرتے ہوئے متاثرہ خاتون سمیت ان کے افراد خاندان کے علاوہ ڈیوٹی ڈاکٹر اور دواخانہ کے دیگر عملہ سے بیان قلم بند کرتے ہوئے اس کی ایک تفصیلی رپورٹ ضلع کلکٹر، ڈسٹرکٹ میڈیکل ہیلت آفیسر کریم نگر روانہ کرنے کی بات بتلائی تھی ۔ لیکن تعجب ہے کہ انکوائری کو ہوئے ہفتہ گذر گئے لیکن کوئی مناسب کارروائی انجام نہیں دی گئی ۔ ایم پی ٹی سی رکن گمبھی راؤ پیٹ محمد حمیدالدین خالد نے بتایا کہ یہ انکوائری برف دان کی نذر ہوگئی ۔ خالد نے نمائندہ سیاست سے بات چیت کرتے ہوئے بتایا کہ اس واقعہ کی شکایت ڈائل یوور سی ایم میں بھی کی گئی ۔ اس کے علاوہ ڈاکٹر کے خلاف کارروائی کے مطالبہ پر ڈائل یوور کلکٹر کو بھی فون کیا جائے گا ۔ اگر وہاں بھی متاثرہ خاتون کو انصاف نہ ملا تو اس معاملے کو انسانی حقوق کمیشن سے رجوع کیا جائے گا تاکہ پھر اس قسم کا واقعہ کسی غریب کے ساتھ رونما نہ ہوسکے ۔