بی سی سی آئی کو حق معلومات قانون کے تحت لانے کا مطالبہ

نئی دہلی۔19 اپریل(سیاست ڈاٹ کام)دنیا کے طاقتور اور امیر ترین کرکٹ بورڈ بی سی سی آئی کوقابو کرنے حکومت خود میدان میں آگئی ہے۔ لا کمیشن چاہتا ہے کہ بی سی سی آئی کوملک کے دیگر اسپورٹس تنظیموں کی طرح سرکاری ادارہ مانا جائے۔لا کمیشن نے حکومت کو سفارشات بھیجی ہیں کہ تمام ملکی اسپورٹس اداروں کی طرح کرکٹ بورڈ کو رائٹ ٹو انفارمیشن (حق معلومات )قانون کے تابع کیا جائے۔ اس سلسلے میں حکومت کو باقاعدہ خط بھی ارسال کردیا گیا ہے جس میں تحریر ہے کہ جب ملک کی دیگر اسپورٹس اسوسی ایشنز آر ٹی آئی کے تحت آتے ہیں، تو پھر بی سی سی آئی کیوں اس سے باہر رہے؟ کمیشن کی 275 ویں رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ نہ صرف بی سی سی آئی بلکہ کرکٹ کے اعلی اداروں کی شرائط پوری کرنے والی اسٹیٹ کرکٹ اسوسی ایشنوں کو بھی آر ٹی آئی کے دائرے کے تحت لانا چاہئے۔ ساتھ ہی اس بات کی سفارش کی ہے کہ بورڈ کے بعض معاملات میں بے لگام حکمت عملی پر اعتراض سامنے آتے ہیں، جس سے بہت سی چیزیں متا ثر ہوتی ہیں، حکومت نے یہ قانون منظورکردیا تو پھر بورڈ حکام بھی عام شہری تک کو جوابدہ ہونگے۔ اس طرح کوئی بھی شخص سلیکشن سے لیکر کرکٹ کے تمام معاملات میں بذریعہ عدالت بورڈ سے جواب طلب کرسکے گا۔ بی سی سی آئی اس وقت خود مختار ادارے کی حیثیت سے تامل ناڈو سو سائٹیز رجسٹریشن ایکٹ کے تحت کام کر رہا ہے۔سپریم کورٹ کے سابق جج بی ایس چوہان کی سربراہی میں لاء کمیشن نے رپورٹ قانون و انصاف کے وزیر روی شنکر پرساد کے سپرد کردی ہے۔