بی جے ڈی پر سرکاری مشنری اور فنڈس کے بیجا استعمال کا الزام

بھوبنیشور۔/21اکٹوبر، ( سیاست ڈاٹ کام ) اڈیشہ کے حلقہ کندھامل میں ضمنی انتخابات میں کامیابی حاصل کرنے کیلئے حکمراں جماعت بی جے ڈی پر بی جے پی نے الزام عائد کیا ہے کہ پارٹی نے سرکاری مشنری اور فنڈس کا بیجا استعمال کیا ۔ اس معاملہ میں ریاستی انتظامیہ کاکیا رول رہا اس کی تحقیقات کیلئے بی جے پی نے ایک 6رکنی کمیٹی تشکیل دی ہے۔ بی جے پی یہ جاننا چاہتی ہے کہ ضلع انتظامیہ ، آشا اور آنگن واڑی ورکرس کا کیا رول رہا۔ بی جے پی کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ بی جے پی کمیٹی تشکیل دینے کے بعد سیلف ہیلپ گروپس، چائیلڈ ڈیولپمنٹ پراجکٹ آفیسرس اور آشا اور آنگن واڑی ورکرس کے بیجا استعمال کی پوری طرح تحقیقات کرے گی۔ کمیٹی کی قیادت سمیر موہنتی کریں گے۔ تحقیقات کی تکمیل کے بعد بی جے پی اپنی رپورٹ وزیر اعظم کو پیش کرے گی۔ کل بی جے پی کے دفتری ارکان کا ایک اجلاس منعقد کیا گیا تھا

جس میں کمیٹی کی تشکیل کا فیصلہ کیا گیا۔ اجلاس میں پارٹی کے قومی سکریٹری اور اڈیشہ انچارج ارون سنگھ بھی موجود تھے۔ ارون سنگھ نے الزام عائد کیا ہے کہ بی جے ڈی نے انتخابات کے دوران دھاندلیاں کی گئیں اور سرکاری مشنری اور فنڈس کا بیجا استعمال کیا گیا۔دوسری طرف بی جے ڈی قائدین بشمول پارٹی ترجمان پرتاپ کیسری دیب نے بی جے پی کی جانب سے لگائے گئے الزامات کو بے بنیاد قرار دیا۔ بی جے پی یکم نومبر سے پارٹی میں شمولیت اختیار کرنے والوں کے لئے ایک خصوصی مہم کا آغاز کررہی ہے جہاں کم و بیش 40لاکھ افراد کو بی جے پی کی رکنیت دیئے جانے کا نشانہ مقرر کیا گیا ہے۔