بی جے پی ۔ شیوسینا مخلوط حکومت کی اُمیدیں روشن

ممبئی ۔22 اکٹوبر۔ ( سیاست ڈاٹ کام ) کئی روز کے تعطل کے بعدشیوسینا اور بی جے پی نے آج مصالحتی رویہ اختیار کیا جبکہ دہلی میں اُن کے قائدین کے درمیان کل شام کی بات چیت نے مہاراشٹرا میں زعفرانی مخلوط حکومت کی امیدیں بڑھادی ہیں۔ مصالحت کی ظاہر طورپر کوشش میں سینا کے سربراہ اُدھو ٹھاکرے نے راجیہ سبھا ایم پی انیل دیسائی اور سبکدوش اسمبلی میں پارٹی کے لیڈر سبھاش دیسائی کو کل شام قومی دارالحکومت کو روانہ کیا تھا۔ ’’ہم اگلی حکومت کی ملکر تشکیل کے سلسلے میں ہماری بات چیت کو آگے بڑھانے کیلئے دہلی گئے تھے ۔ ہم بی جے پی کے ساتھ اتحاد کیلئے تیار ہیں تاکہ حکومت تشکیل دی جاسکے اور اس ضمن میں بات چیت مثبت رہی ہے ‘‘ سبھاش دیسائی نے دن میں اُدھو کو نئی تبدیلیوں کے بارے میں واقف کرانے کے بعد اخباری نمائندوں سے یہ بات کہی۔ انھوں نے بتایا کہ ہماری فی الحال غیررسمی بات چیت ہوئی ہے اور دوشنبہ سے باضابطہ مباحث شروع ہوں گے ۔ سردست ہم نے بی جے پی کو کوئی تجویز نہیں دی بلکہ صرف ساتھ ملکر چلنے اور حکومت تشکیل دینے کا فیصلہ کیا ہے ۔ دیسائی نے کہاکہ اُنھوں نے مرکزی وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ سے ملاقات نہیں کی ، جنھیں بی جے پی لیجسلیچر پارٹی لیڈر کے انتخاب کیلئے مبصر مقرر کیا گیاہے ۔ اگرچہ انھوں نے سینا کے بی جے پی مذاکرات کاروں کے نام نہیں بتائے لیکن ذرائع کا کہنا ہے کہ ان میں مرکزی وزیر دھرمیندر پردھان اور گجرات کے ایم پی چندرکانت پاٹل شامل ہیں۔ اُدھو کے بتایا جاتا ہے کہ سابق صدر بی جے پی راجناتھ کے ساتھ اچھے شخصی روابط ہیں ۔ یہ پوچھنے پر کہ آیا اُدھو وزیراعظم نریندر مودی سے ملاقات کریں گے ، دیسائی نے کہا کہ جیسے ہی باضابطہ بات چیت شروع ہوجائے یہ طئے کیا جائے گا کہ آیا اُدھو جی دہلی کو وزیراعظم سے ملاقات کیلئے جائیں گے یا بعض بی جے پی قائدین ہمارے لیڈر سے بات چیت کیلئے ممبئی آئیں گے ۔