ممبئی 15 اگسٹ ( سیاست ڈاٹ کام ) کانگریس لیڈر ششی تھرور نے آج مرکز کی بی جے پی حکومت پر تنقید کی اور الزام عائد کیا کہ پارٹی کے برسر اقتدار آنے کے بعد سے فرقہ وارانہ تشدد کے معاملات میں منظم انداز میں اضافہ ہوگیا ہے ۔ مسٹر تھرور نے کہا کہ بی جے پی اپنی سیاسی شناخت اور اپنے سیاسی ایجنڈہ کو آگے بڑھانے کیلئے ہندو ازم کا استعمال کر رہی ہے ۔ مسٹر تھرور یہاں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ فرقہ واراانہ تشدد پر پارلیمنٹ میں گذشتہ دو دن سے مباحث ہو رہے ہیں اور ان کی پارٹی مسلسل یہ واضح کر رہی ہے کہ بی جے پی کے برسر اقتدار آنے کے بعد سے ان واقعات میں منظم اضافہ ہوگیا ہے ۔ یہاں مختلف فرقوں کو تقسیم کیا جارہا ہے خاص طور پر اتر پردیش میں ایسا کیا جارہا ہے جہاں ضمنی انتخابات ہونے والے ہیں۔ یہ واضح طور پر سیاسی ایجنڈہ ہے ۔ نریندر مودی حکومت کی کارکردگی کے تعلق سے انہوں نے کہا کہ جہاں تک عام آدمی کے تحفظ کا سوال ہے حکومت اقل ترین حکمرانی پر بھی پوری نہیں اتر رہی ہے ۔ گذشتہ دو ماہ میں جو کچھ ہوا ہے فرقہ وارانہ فسادات میں اضافہ ہوگیا ہے اور وزیر اعظم اس طرح کے سنگین اور اہمیت کے مسائل پر خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ بہت کم سطح پر حکمرانی ہے اور حکومت عام آدمی کے تحفظ میں بری طرح ناکام ہے ۔ زیادہ سے زیادہ اختیارات صرف ایک شخص کے ہاتھ میں آگئے ہیں اور یہ پریشانی کی بات ہے ۔ انہوں نے این ڈی اے حکومت کے پارلیمنٹ میں پیش کردہ اولین بجٹ پر بھی تنقید کی ۔