بی جے پی کی انتخابی کامیابی مرکزی حکومت پر عوامی فیصلہ نہیں: مایاوتی

لکھنو ۔ 21 ۔ اکتوبر (سیاست ڈاٹ کام) مہاراشٹرا اور ہریانہ کے انتخابات میں بی جے پی کی کارکردگی کا مظاہرہ مرکزی حکومت کے بارے میں عوامی فیصلہ نہیں ہے۔ یہ ادعاء کرتے ہوئے بہوجن سماج پارٹی کی صدر مایاوتی نے آج کہا کہ عوام مودی کے دلائل سے متاثر ہوگئے تھے کہ ان کی حکومت کے پاس اپنی کارکردگی کے مظاہرہ کیلئے بہت کم وقت ملا۔ چنانچہ عوام نے مرکزی حکومت کی کارکردگی کی بنیاد پر بی جے پی کی تائید نہیں کی ہے۔ یہ مرکزی حکومت کے بارے میں عوام کا فیصلہ نہیں ہے۔ تاہم یہ بات ہر شخص جانتا ہے کہ بی جے پی نے کوئی ٹھوس اقدامات نہیں کئے ہیں، جن سے لوک سبھا انتخابات کے دوران انتخابی مہم میں اس کے دیئے ہوئے تیقنات کی تکمیل ہوسکی اور نہ بی جے پی کے پاس اس مقصد کے حصول کیلئے کوئی لائحہ عمل ہے۔ مایاوتی نے کہا کہ افراط زر ، بیروز گاری ا، کالے دھن کو وطن واپس لانا اور اسے ملک کی ترقی کیلئے استعمال کرنا وہ تیقنات ہیں جو بی جے پی نے لوک سبھا کی انتخابی مہم کے دوران دیئے تھے لیکن تاحال اس سلسلہ میں کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔ غیر ملکی بینکوں میں جمع کالے دھن کے بارے میں بی جے پی نے شتر مرغ کا رویہ اختیار کر رکھا ہے اور سابق کانگریس زیر قیادت حکومت کے نقش قدم پر چل رہی ہے۔ یہ اس کے تیقنات کے بالکل برعکس ہے۔ اپنا موقف برعکس کرتے ہوئے بی جے پی نے ڈیزل اور پٹرول کی قیمتوں کو حکومت سے آزاد کردیا ہے ۔ یہ اقدام عوام دشمن اور کاشتکار دشمن ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سوچھ بھارت ابھیان کے نام پر ناٹک کیا جارہا ہیتاکہ عوام کی توجہ حقیقی مسائل کی جانب سے ہٹائی جاسکے۔ وہ یو پی اور اتراکھنڈ کے بی ایس پی کارکنوں سے خطاب کر رہی تھیں۔