جموں ، 24 اکتوبر (سیاست ڈاٹ کام) بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) جموں وکشمیر یونٹ کے صدر رویندر رینہ نے کہا کہ ان کی جماعت وادی کشمیر میں ہندو مذہب کی دو مقدس کتابیں ‘بھگوت گیتا’ اور ‘رامائن’ کو اردو میں دستیاب کرائے گی۔ انہوں نے کہا کہ وادی میں یہ کتابیں بی جے پی دفاتر پر مفت تقسیم کی جائیں گی۔ رویندر رینہ کا یہ بیان ریاستی گورنر انتظامیہ کی طرف سے ‘بھگوت گیتا’ اور ‘رامائن’ سے متعلق حکم نامہ واپس لینے کے بعد سامنے آیا ہے ۔ انتظامیہ نے 22 اکتوبر کو اپنے ایک حکم نامے میں اسکولوں، کالجوں اور پبلک لائبریریوں سے کہا تھا کہ وہ ہندو مذہب کی دو مقدس کتابیں ‘بھگوت گیتا’ اور ‘رامائن’ کی اردو ترجمہ والی کاپیاں وافر تعداد میں خریدیں۔ تاہم انتظامیہ کا یہ حکم نامہ شدید تنقید کی زد میں آگیا تھا۔ رویندر رینہ نے حکم نامے کو واپس لئے جانے پر کہا ‘چاہے کسی کو کتنی تکلیف ہو، ہم وادی میں بھگوت گیتا اور رامائن کو اردو میں دستیاب کرائیں گے ۔ بی جے پی دستیاب کرائے گی۔ ہم بی جے پی کے دفاتر میں بھگوت گیتا اور رامائن کو مفت تقسیم کریں گے ‘۔ ان کا کہنا تھا ‘جموں وکشمیر کے کچھ سیاستدان بشمول عمر عبداللہ یہ متنازعہ بیان دیتے ہیں کہ ریاست میں بھگوت گیتا اور رامائن کو اردو میں متعارف نہ کیا جائے ۔ ریاست کی سرکاری زبان اردو ہے ۔ ریاست کے اندر بہت سارے لوگ ایسے ہیں جو اردو جانتے ہیں۔ وہ سنسکرت اور ہندی پڑھ نہیں پاتے ہیں۔ وہ کئی برسوں سے مانگ کررہے تھے کہ بھگوت گیتا اور رامائن کو اردو میں متعارف کیا جائے ۔ جب اس کی کوشش کی گئی تو عمر عبداللہ کو تکلیف ہوئی۔ کیا جموں وکشمیر میں مقدس قرآن اردو میں نہیں ہے ؟ کیا بائبل اردو میں نہیں ہے ؟ یوپی ، بہار میں چلے جاؤ تو آپ کو وہاں مقدس قرآن ہندی میں بھی ملے گا’۔ رویندر رینا نے الزام لگایا کہ عمر عبداللہ جیسے لوگ ریاست میں نظام مصطفی نافذ کرنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا ‘یہ بات صاف ہوگئی کہ عمر عبداللہ جیسے لوگ چاہتے ہیں کہ جموں وکشمیر کے اندر نظام مصطفی نافذ ہو۔ یہ چاہتے ہیں کہ جموں وکشمیر کے اندر طالبان کا راج ہو۔ انہوں نے مزید کہا ‘عمر عبداللہ کی ماں عیسائی ہے ، اس میں کوئی دقعت نہیں۔ عمر عبداللہ کی بہن ہندو کے گھر میں بیاہی گئی ہے ۔ بہن کی جب شادی کی تو کوئی مسئلہ نہیں ہوا۔ عمر عبداللہ نے جب شادی کی تو پائل نامی ہندو لڑکی سے کی۔ تب کوئی تکلیف نہیں ہوئی۔ جب یہاں بھگوت گیتا اور رامائن کو اردو میں متعارف کرنے کا قدم اٹھایا گیا تو انہیں تکلیف ہوئی’۔