بی جے پی رکن کے ریمارک پر سمرتی ایرانی کی برہمی

نئی دہلی ۔ 11 مارچ (سیاست ڈاٹ کام) بی جے پی کے ایک رکن نے ملک میں خواندگی کی سطح پر ’’شرم آنی چاہئے، کہتے ہوئے آج خود اپنی ہی پارٹی کی حکومت کو الجھن میں ڈال دیا اور اس رکن کو مرکزی وزیر سمرتی ایرانی کی ڈانٹ کا سامنا کرنا پڑا۔ جب انہوں نے رکن سے کہا کہ وہ احتیاط کے ساتھ الفاظ کا انتخاب کریں۔ لوک سبھا میں وقفہ سوالات کے دوران بی جے پی رکن نشیکانت دوبے نے اقوام متحدہ کے ادارہ برائے تعلیم، معاشرہ و ثقافت (یونیسکو) کی ایک رپورٹ کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ ملک میں خواندگی کی کم سطح پر حکومت ہند کو ’’شرم آنی چاہئے‘‘۔ لیکن بی جے پی رکن نے فوری طور پر یہ بھی کہہ دیا کہ یہ ان کی پارٹی کی زیرقیادت موجودہ حکومت کی غلطی نہیں ہے بلکہ سابق یو پی اے حکومت کی غلطی ہے۔ ان کے ریمارک پر عملاً برہم وزیر فروغ انسانی وسائل سمرتی ایرانی نے کہا کہ رکن کو چاہئے کہ وہ خطاب کے دوران محتاط رہیں۔ سمرتی ایرانی نے کہا کہ ’’آپ جلد سوال کریں۔ جب آپ یہ کہتے ہیں کہ حکومت ہند کو شرام آنی چاہئے تو آپ کو احتیاط سے کام لینا ہوگا کیونکہ اس صورت میں موجودہ حکومت کا احاطہ بھی ہوتا ہے‘‘۔ سمرتی ایرانی نے کہا کہ رکن موصوف سوال کرنے کے بجائے طویل تقریر کررہے ہیں۔ اسپیکر سمترا مہاجن نے بھی کہا کہ ہر کسی کو ذمہ داری کے ساتھ مخاطب کرنا چاہئے۔ زبان اور الفاظ کے انتخاب کے بارے میں ارکان کو خبردار کرتے ہوئے اسپیکر نے کہا کہ تعلیم جیسے مسائل پر اظہارخیال کرتے ہوئے جب ہم ہندوستان کو شرم آنی چاہئے جیسے الفاظ کرتے ہیں تو ذمہ داری سے بات چیت کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ ’’ہم عوامی نمائندے ہیں۔ ہم عام افراد نہیں ہیں۔ جب آپ سوال کرتے ہیں تو برائے مہربانی تھوڑی توجہ مرکوز کریں۔