نئی دہلی ۔ 8 مئی (سیاست ڈاٹ کام) کئی ماہرین تعلیم، فنکاروں، ثقافتی اور ادبی شخصیتوں نے آج عوام سے اپیل کی کہ بی جے پی اور اس کے وزارت عظمیٰ کے امیدوار نریندر مودی کو مسترد کردیں۔ انہوں نے کہا کہ ان کا مقصد فرقہ وارانہ نفرت پھیلا کر اقتدار پر قبضہ کرنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مغربی بنگال کے ایک انتخابی جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے نریندر مودی نے کہا کہ بنگلہ دیش سے دراندازی کرنے والوں کو ان کا ایک مخصوص مذہبی فرقہ سے تعلق ہے، واپس بھجوادینا چاہئے۔ دانشوروں کے مشترکہ بیان میں کہا گیا ہیکہ یہ تبصرہ نہ صرف غیرانسانی ہے بلکہ ہمیں اندیشہ ہیکہ ایک ایسے ملک میں جس کا ہر شہری شہریت کے دستاویزی ثبوت نہیں رکھتا، اس قسم کا اقدام صرف عام مظالم کی شکل میں ظاہر ہوگا۔
ایک مخصوص مذہبی برادری سے تعلق رکھنے والے افراد کو واپس بھجوا دیا جائے گا یا ان پر مظالم ڈھائے جائیں گے۔ مودی نے ان افراد کو واپس بھجوانے کی جو وجہ بیان کی ہے، وہ یہ ہیکہ یہ درانداز مقامی نوجوانوں سے ان کے روزگار کے مواقع چھین لیتے ہیں جس کی وجہ سے یہ نوجوان بیروزگار ہوجاتے ہیں۔ یہ بالکل اسی قسم کی دلیل ہے جیسی کہ نسل پرست، فسطائی اور نسلی جنونی پیش کیا کرتے ہیں۔ پورے یوروپ میں اس قسم کے گروپ موجود ہیں۔ دانشوروں نے کہا کہ ہندوستانی نژاد افراد اکثر ایسے حملوں کا نشانہ بنتے ہیں حالانکہ وہ اسی ملک میں پیدا ہوئے اور اس پر ان کا جائز حق ہے۔ انہوں نے کہا کہ یوروپ میں شمالی اٹلی کی لیگ، فرانس میں قومی محاذ، برطانیہ میں نیشنل پارٹی ایسی سماجی تحریکیں ہیں۔ اسپین میں مومنٹو سوشل اسپانول، قومی جدیدکاری پارٹی پرتگال میں اور بلجیم میں فلیمش فلاک تارکین وطن پر حملوں کیلئے بدنام ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں ان کو اپنا مثالی نمونہ سمجھ کر ان کی تقلید نہیں کرنی چاہئے۔
اس ملک میں تارکین وطن کے ساتھ اگر ایسا سلوک کیا جائے تو وہ قابل مذمت ہوگا۔ ہندوستانی تارکین وطن کے ساتھ ردعمل کے طور پر کسی قسم کا سلوک ممکن ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک مجبور تارک وطن اقلیت پر ایک ناقص معاشی نظام کی کوتاہیوں کیلئے جو کافی تعداد میں روزگار کے مواقع ہمارے نوجوانوں کیلئے فراہم نہیں کرسکتا، الزام عائد کرنا قابل مذمت ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ ناقص معاشی نظام ہے بلکہ زیادہ درست طور پر یہ کہا جاسکتا ہیکہ موجودہ معاشی نظام میں صاحبان اقتدار چاہتے ہیں کہ وہ ان کی باتوں پر یقین کرلیں۔ بیان میں کہا گیا ہیکہ ہم عوام سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ اس دعوت کو جس میں ایک مخصوص مذہبی اقلیت کو نشانہ بنانے کی دعوت دی گئی ہے، مسترد کردیں اور ان پر زور دیتے ہیں کہ ان تمام افراد کو مسترد کردیں جن کا مقصد فرقہ وارانہ نفرت پھیلا کر اقتدار پر قبضہ کرنا ہے۔ اس بیان پر سابق وزیرفینانس مغربی بنگال اشوک مترا، مؤرخ رومیلا تھاپر، ڈی این جھا اور عرفان حبیب ماہرین تعلیم امیا کام بانچی، ہربنس مکھیا، مشیرالحسن اور پربھات پٹنائک فلمی شخصیتوں گریش کرناٹ، نیلماشیخ، کمار شاہ آبادی، سعید مرزا، فنکاروں ویون سندرم، ارپناکور، تھیٹر کی شخصیات این کے رائنا اور انورادھا کپور کے علاوہ ذرائع ابلاغ کے نمائندے انترادیو سین نے دستخط کئے ہیں۔
نیچ ذات تبصرے پر سونیا کی تنقید
خوشی نگر 8 مئی (سیاست ڈاٹ کام) نریندر مودی پر آج اُن کے نیچ ذات تبصرے پر تنقید کرتے ہوئے صدر کانگریس سونیا گاندھی نے کہاکہ اِس طرح وہ راجیو گاندھی کی توہین کو کم اہم ظاہر کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ اُنھوں نے کہاکہ اِس قسم کے پست خیالات اور باتیں قومی سیاست کے اور وزارت عظمیٰ کے امیدوار کی شان کے خلاف ہیں۔