بی جے پی اور شیوسینا میںپھر اختلاف

ممبئی۔ 19 مارچ (سیاست ڈاٹ کام) برسراقتدار مہاراشٹرا کی مخلوط حکومت میں شریک بی جے پی اور شیوسینا کے درمیان زبردست لفظی جھڑپ ہوگئی جبکہ شیوسینا کے قائد ادھو ٹھاکرے نے الزام عائد کیا کہ ایل ای ڈی لیمپس 100 شہروں میں نصب کرنے کے پراجیکٹ میں ’’غلطیاں‘‘ کی گئی ہیں۔ ممبئی کے بشمول جہاں کی مجلس بلدیہ پر شیوسینا کا قبضہ ہے، 100 شہروں میں ایل ای ڈی لیمپس نصب کرنے کا پراجیکٹ تیار کیا گیا ہے۔ شیوسینا کے ترجمان اور رکن پارلیمنٹ سنجے راوت نے روزنامہ ’’سامنا‘‘ میں ایک اداریہ تحریر کرتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ شہر میں ایل ای ڈی لائیٹس نصب کرنے کے شیوسینا کے منصوبے کا بی جے پی نے اغوا کرلیا ہے۔ شیوسینا چاہتی ہے کہ مجلس بلدیہ نئے سفید ایل ای ڈی قمقمے میرین ڈرائیو کے زرد سوڈیم بخارات کے قمقموں کی جگہ لگائے جائیں۔ راوت نے کہا کہ مرکزی وزیر پیوش گوئل ایل ای ڈی قمقمے ملک گیر نصب کرنے کے سلسلے میں آلہ کار بن گئے ہیں۔ اس پراجیکٹ پر 25 ہزار کروڑ تا 30 ہزار کروڑ روپئے صرف ہوں گے۔ راوت نے کہا کہ اگر تحقیقات کا حکم دیا جائے تو کم از کم ’’2 بی جے پی وزراء‘‘ اپنی سرکاری گاڑیوں پر سرخ بتی لگانے کے حق سے محروم ہوجائیں گے۔ راوت کے الزامات پر سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے بی جے پی کی شاخ مہاراشٹرا کے صدر راؤ صاحب ڈانڈوے نے کہا کہ ہم ان الزامات کو سنجیدہ نہیں سمجھتے ۔ ایسا اس لئے ہے کہ صرف آج انہیں اس کا احساس ہوا ہے حالانکہ حکومت کو برسراقتدار آئے کئی دن ہوچکے ہیں، لیکن شیوسینا نے آج ہی ایسے الزامات عائد کئے ہیں۔ شیوسینا اپنے الزامات میں سے کسی کو بھی ثابت نہیں کرسکی۔ اس لئے ہم اپنے دوستوں (شیوسینا) سے کہنا چاہتے ہیں کہ وہ ایسے بے بنیاد الزامات عائد کرنا بند کردیں۔ راوت کی جانب سے مرکزی وزیر پیوش گوئل کا نام اپنے مضمون میں شائع کرنے کے بارے میں سوال کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ راوت ایک صحافی ہیں اور انہیں اپنے اخبار میں ایسا مضمون تحریر کرنے کے بجائے انا ہزارے کو یہ مسئلہ اٹھانے کیلئے کہنا چاہئے تھا۔