بی جے پی اور اپوزیشن مانسون اجلاس کیلئے تیار

قائد ایوان اور وزیراعظم کو تعاون کیلئے مکتوب کے بارے میں اسپیکر سے اپوزیشن کا استفسار
نئی دہلی ۔ 17 جولائی (سیاست ڈاٹ کام) پارلیمنٹ کے مانسون اجلاس کا کل سے آغاز ہورہا ہے جبکہ برسراقتدار بی جے پی اور اس کی حلیف پارٹیاں اپوزیشن اور اس کے حلیفوں کا سامنا کرنے کیلئے تیار ہیں۔ بجٹ اجلاس میں کئی مسائل حکومت اور اپوزیشن کے درمیان ہنوز حل طلب باقی ہیں جن کے اپوزیشن کی جانب سے دوبارہ اٹھائے جانے کا امکان ہے۔ اپوزیشن قائدین نے آج اسپیکر لوک سبھا کو ایک مکتوب روانہ کرتے ہوئے کہا کہ گذشتہ اجلاس میں جو مسائل حل طلب باقی رہ گئے تھے وہ امکان ہیکہ مہلک ثابت ہوں گے کیونکہ اگر ان مسائل پر قابو نہ پایا جائے تو یہ دستوری جمہوریت کیلئے تباہ کن ہوسکتے ہیں۔ گذشتہ بجٹ اجلاس 2000ء کے بعد سے اب تک اقل ترین فائدہ مند اجلاس ثابت ہوا۔ کاویری مسئلہ، آندھراپردیش کیلئے خصوصی موقف اور پنجاب نیشنل بینک اسکام کے سلسلہ میں روزانہ شوروغل ہوتا رہا۔ برسراقتدار بی جے پی اور اپوزیشن کانگریس نے اجلاس کے ضائع ہوجانے کا ایک دوسرے کو ذمہ دار قرار دیا۔ کل جماعتی اجلاس میں وزیراعظم نریندر مودی نے آج تمام سیاسی پارٹیوں سے تعاون طلب کیا اور ان سے اپیل کی کہ وہ مانسون اجلاس کو ایک پیداواری اجلاس بنانے کو یقینی بنانے کیلئے حکومت سے تعاون کریں۔ بی جے پی ذرائع نے کہا کہ تاہم وہ مسائل پر اپوزیشن کے آگے گھٹنے نہیں ٹیکے گی۔ راہول گاندھی کے مبینہ تبصروں پر برسراقتدار پارٹی برہم ہے حالانکہ کانگریس نے ایسا کوئی تبصرہ کرنے کی تردید کی ہے۔ کانگریس نے مودی پر الزام عائد کیا کہ وہ آئندہ انتخابات میں کامیابی حاصل کرنے اور اپنی حکومت کی کوتاہیوں کی پردہ پوشی کیلئے انتشار پسند سیاست پر عمل پیرا ہیں۔ اپوزیشن پارٹیوں کے ارکان نے مانسون اجلاس سے قبل اپنی صفوں کو درست کرلیا ہے۔ ان میں کانگریس، سی پی آئی ایم، سماج وادی پارٹی، این سی پی، آئی یو ایم ایل، سی پی آئی، آر جے ڈی اور بعض دیگر پارٹیاں ہیں۔ انہوں نے اسپیکر سمترامہاجن کو مکتوب روانہ کیا ہے۔ برسراقتدار بی جے پی اس بات کی تردید کرتی ہے کہ اس نے دستور ہند کی اہمیت کو کم کیا ہے جبکہ انہوں نے پارلیمنٹ کے اجلاس میں خلل اندازی پر اظہارتشویش کیا اور سیاسی پارٹیوں کو خوداحتسابی کا مشورہ دیا۔ اپوزیشن نے اسپیکر سے سوال کیا کہ کیا اس سلسلہ میں کوئی مکتوب قائد ایوان، وزیراعظم اور دیگر برسراقتدار جماعت کی حلیف پارٹیوں کو بھی روانہ کیا ہے۔