بی ایس پی نشستوں کی بھیک نہیں مانگے گی : مایاوتی

باوقار اتحاد نہ ہو تو پارٹی چناؤ تنہا لڑنا پسند کرے گی، بی جے پی کے خلاف جدوجہد جاری
نئی دہلی ۔ 9 اکٹوبر (سیاست ڈاٹ کام) بی ایس پی سربراہ مایاوتی نے آج ادعا کیا کہ ان کی پارٹی کسی بھی اتحاد میں نشستوں کیلئے بھیک مانگنے کے بجائے اپنے بل بوتے پر انتخابات لڑنا چاہے گی۔ ان کے ریمارکس کی اہمیت ہے کیونکہ انہوں نے گذشتہ ہفتہ تین ریاستوں میں ہونے والے اسمبلی چناؤ میں کانگریس کے ساتھ مل کر لڑنے کیلئے جاری بات چیت ختم کرتے ہوئے کہا تھا کہ بی ایس پی کو اس کے مطالبہ کے مطابق نشستیں حاصل نہیں ہوئی۔ اسی لئے دونوں پارٹیوں میں اتفاق رائے پیدا نہیں ہوسکا۔ بی ایس پی کے ایک بیان میں مایاوتی کے حوالہ سے کانگریس اور بی جے پی پر تنقید بھی کی گئی اور کہا گیا کہ بی ایس پی دلتوں، قبائیلیوں، پسماندہ طبقات، مسلمانوں ، دیگر اقلیتوں اور اونچی ذاتوں کے غریبوں کے عزت نفس کے معاملہ میں کبھی مفاہمت نہیں کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ یہ دونوں پارٹیوں کی حکومتوں میں ان تمام برادریوں کے ساتھ سوتیلا سلوک ہورہا ہے۔ اسی وجہ سے بی ایس پی نے کسی بھی انتخابی اتحاد میں شریک ہونے کیلئے معقول تعداد میں نشستیں دیئے جانے کی شرط رکھی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس کا واضح مطلب یہی ہیکہ بی ایس پی کسی اتحاد میں نشستوں کے لئے بھیک نہیں مانگے گی۔ اگر معقول تعداد میں نشستیں نہیں ملتی ہیں تو وہ چناؤ اپنے بل بوتے پر لڑے گی۔ بانی بی ایس پی کانشی رام کی برسی کے موقع پر خطاب میں مایاوتی نے کہا کہ نہ تو کانگریس اور نہ ہی بی جے پی اونچی ذاتوں کے غریبوں اور بقیہ عسکریت کے مفادات میں کام کرتے ہیں۔ تاہم مایاوتی نے یہ بھی کہا کہ ان کی پارٹی بی جے پی حکومت کو بیدخل کرنے کی کوشش کرتی رہے گی کیونکہ وہ ذات پات پر مبنی سیاست کرتی ہے، فرقہ پرست ہے، سرکش، کینہ پرور اور کوتاہ ذہن والی پارٹی ہے۔ دلتوں اور قبائیلیوں کے خلاف مظالم سے متعلق قانون کے اصل سخت دفعہ کو بحال کرنے کیلئے نریندر مودی حکومت کے فیصلہ کے خلاف اونچی ذات والی گروپوں کی جانب سے احتجاجوں کے درمیان مایاوتی نے کہا کہ ان کی پارٹی نے کوئی بھی قانون کے بیجا استعمال کی کبھی حمایت نہیں کی۔ بی ایس پی نے یقینی بنایا کہ اترپردیش میں اس کی چار میعادوں کے دوران قانون کا بیجا استعمال نہ ہونے پائے۔ اترپردیش میں بی ایس پی اور سماج وادی پارٹی کا ممکنہ اتحاد بی جے پی کیلئے خطرہ ہے۔ اس ریاست سے لوک سبھا کے 80 ارکان منتخب ہوتے ہیں جن میں سے 2014ء میں زعفرانی پارٹی نے 71 نشستیں جیتے۔ ایس پی ۔ بی ایس پی اتحاد کے نتیجہ میں تین لوک سبھا نشستوں کے ضمنی چناؤ میں بی جے پی کو ذلت آمیز شکستیں ہوئی ہیں۔ ماہرین کی رائے ہیکہ اتحاد قائم رہے تو بی جے پی کو نقصان ہوگا۔