کرائسٹ چرچ ۔19فبروری(سیاست ڈاٹ کام ) پاکستانی ٹیم کے کوچ وقار یونس نے اعتراف کیا ہے کہ ٹیم نے ہندوستان کے خلاف میچ میں دباؤ زیادہ لیا تھا‘ شکست کی ذمہ دار بیٹنگ لائن کی ناکامی تھی۔ انہوں نے شائقین کرکٹ کو دوبارہ باور کروایا کہ پاکستانی ٹیم ورلڈ کپ کی پسندیدہ ٹیم نہیں ہے۔ ہیگلے اوول میں پاکستانی میڈیا کے ایک گروپ سے بات چیت کرتے ہوئے وقار یونس نے کہا کہ ابھی تو ٹورنمنٹ شروع ہوا ہے اور بہت مقابلے باقی ہیں۔ امید ہے کہ ٹیم واپسی کرتے ہوئے پرستاروں کی توقعات پوری کریں گے۔جو چیزیں خراب ہوئیں وہ سب کے سامنے ہیں۔ ہمارے مقابلے میں ہندوستان نے بہت بہتر کھیلا اور پارٹنرشپ بنائیں، اس کے تین بیٹسمینوں نے بڑے اسکور کئے۔ میں اب بھی اپنی اس بات پر قائم ہوں اور یہ نہیں کہتا کہ ہم پسندیدہ نہیں ہیں۔
تاہم جب آپ پر ایسی چھاپ نہ لگی ہو تو کھلاڑیو ں پر دباؤ کم بھی ہوتا ہے اور کھلاڑی کوشش کرتے ہیں کہ اچھا کھیلیں۔ اب نئے ونڈے قوانین اور آسٹریلیا و نیوزی لینڈ کے حالات میں 300 رنز کا دفاع بھی مشکل ہے۔ اگلے میچوں میں ہمارے خلاف 300 سے زاید رنز بھی بن سکتے ہیں۔ اس لئے ہماری بیٹنگ لائن کو بڑے اسکور بنانے کے لئے تیار رہنا چاہیے۔ سابق کپتان نے کہا کہ کھلاڑیوں کی ذہنوں سے ورلڈ کپ کی پہلی شکست کو نکالنے کی کوشش کر رہے ہیں، یہ نیا دن ہے اور نیا میچ ہے۔ نئی سوچ کے ساتھ ویسٹ انڈیز جنوبی افریقہ کے خلاف کھیلیں گے۔ ہم نے دیکھا ہے کہ کمزور اور اسوسی ایٹ ٹیمیں بھی بہت اچھا کھیل رہی ہیں۔ ہم کسی ٹیم کو کمزور تصور نہیں کرتے اور ہر میچ کے لئے تیار ہیں۔ وقار یونس نے کہا کہ ہندوستان کے خلاف میچ ضرور ختم ہوا ہے لیکن کوئی بھی میچ پرسکون انداز میں نہیں کھیلا جاسکتا۔ پہلا میچ اہم تھا اور ہم نہ جیت سکے بولروں نے بہت اچھی بولنگ کی ہمیں 300 رنز کے نشانے کو حاصل کرنا چاہیے تھا۔