بودھن /24 جنوری ( سیاست ڈسٹرکٹ نیوز ) ایک مشتبہ عورت کے رضاکارانہ طور پر اقدام قتل انجام دینے کا پولیس اسٹیشن پہونچکر اقرار کرنے پر خودکشی کا واقعہ قتل میں تبدیل ہوگیا۔ جبکہ متوفی کی نعش کو دفن کرنے کے بجائے نذر آتش کردیا گیا ۔ تفصیلات کے بموجب ایڑپلی منڈل کے موضع پوچارام سے تعلق رکھنے والے متوفی جی پوشٹی اپنے چھوٹے بھائی جی سنجیو کے قتل کے الزام میں 13 سال تک جیل کی سزا کاٹ کر 20 ڈسمبر 2013 کو جیل سے رہا ہوکر اپنے گاؤں پہونچا جہاں بیوی بچوں کو ناپاکر پڑوسی منڈل رنجل کے موضع دھوپلی میں اپنی ہمشیرہ نرسماں کے پاس ٹھکانہ بنالیا تھا ۔ موضع پوچارام میں موجود آبائی زرعی اراضی میں اپنا حصہ طلب کرنے متوفی نے گاؤں کی پنچایت بٹھائی تھی ۔ اس پنچایت کے دوران بھتیجوں نے پوشٹی کو کسی قسم کا حصہ دینے سے سخت اعتراض کیا تھا ۔
اس پنچایت کے دوسرے دن پوشٹی کی لاش گھر میں چھت سے لٹکی پائی گئی ۔ اس واقعہ کو خودکشی قرار دیتے ہوئے آخری رسومات ادا کردی گئی لیکن گاؤں کے بعض افراد نے ضلع کے اعلی پولیس عہدیداروں سے ملاقات کرتے ہوئے سزا یافتہ قیدی پوشٹی کی موت کو قتل قرار دیا اور نعش پر موجود شدید زخموں کے نشانات کو مٹانے نعش کو دفن کرنے کے بجائے نذر آتش کئے جانے کے واقعہ کی مخبریوں نے انکشاف کیا ۔ ضلع عہدیادروں نے اس واقعہ کی ازسر نو تحقیقات کرنے کرائم برانچ و انٹلی جنس کو تحقیاقت کرنے کی ہدایت دی ۔ تحقیقات کا آغاز ہوئے 24 گھنٹوں کے اندر اندرا نامی ایک خاتون بودھن سرکل انسپکٹر شکریا سے ملاقات کرتے ہوئے جی پوشٹی کے قتل کا اعتراف کرتے ہوئے اپنے آپ کو پولیس کے حوالے کیا ۔ خودکشی کا واقعہ قتل میں تبدیل ہونے اور ڈرامائی طور پر ایک خاتون قتل کا الزام اپنے سر لینے کے اس واقعہ پر کرائم برانچ کے عہدیدایر چوکنا ہوگئے اور انہوں نے متوفی کے بہنوائی راجیا اور بہن کو پوچھ تاچھ کیلئے طلب کیا ۔