بہروں کا علاقہ ہے ذرا زور سے بولو

مودی کا برت کس کے خلاف…گجرات نسل کشی فراموش
ملک میں مظالم…کرناٹک میں دلتوں سے ہمدردی

رشیدالدین

سیاسی فائدے اور عوام کی توجہ حاصل کرنے کیلئے پارٹیاں کچھ بھی کرنے کو تیار ہوجاتی ہیں کیونکہ انہیں تو محض پبلسٹی چاہئے ۔ عام طور پر احتجاج ، بھوک ہڑتال یا پھر برت اپوزیشن کی جانب سے کیا جاتا ہے لیکن وزیراعظم نریندر مودی نے خود برت رکھا۔ آزاد ہندوستان کی تاریخ میں ایسی مثال نہیں ملتی جہاں کسی وزیراعظم نے برت رکھا ہو۔ حکومت اور اس کی پالیسیوں کے خلاف اپوزیشن احتجاج کرتا ہے لیکن اگر برسر اقتدار پارٹی اور حکومت میں شامل افراد برت رکھیں تو یقیناً عجیب لگے گا۔ برسر اقتدار پارٹی اپنی حکومت کے خلاف کیوں احتجاج کر رہی ہے۔ مسئلہ چاہے کچھ ہو حکومت پر اس کی یکسوئی کا فرض بنتا ہے۔ اقتدار میں آپ ہیں پھر اپوزیشن کے خلاف احتجاج کیا معنی رکھتا ہے۔ یہ حکومت کی کمزوری اور نااہلی کو ثابت کرتا ہے ۔ برت کے ذریعہ حکومت اپنی ناکامی کو تسلیم کر رہی ہے ۔ بی جے پی کو پارلیمنٹ کی کارروائی نہ چلنے کا دکھ ہے اور برت کے ذریعہ اپوزیشن کو عوام کے روبرو ملزم کے طور پر پیش کرنا چاہتی ہے لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ایوان کی کارروائی چلانا کیا حکومت کی ذمہ داری نہیں ہے؟ ایوان میں ہنگامہ آرائی سے نمٹنے کیلئے پارلیمانی قواعد کے تحت کارروائی کی گنجائش موجود ہے۔ حکومت نے ایوان چلانے کی کوشش کی ہوتی تو اسے اپوزیشن پر تنقید کا حق تھا لیکن یہاں خود حکومت ملک کو درپیش سنگین مسائل پر مباحث سے فرار چاہتی تھی۔ اپنی ناکامی کو چھپانے کیلئے الزام اپوزیشن کے سر ڈال دیا۔ ویسے بھی پارلیمنٹ کی کارروائی میں خلل کوئی نئی بات نہیں۔ ایوان کی کارروائی روکنے کے معاملہ میں بی جے پی دودھ کی دھلی نہیں ہے۔ بی جے پی اور وزیراعظم اور مرکزی وزراء کا برت ایک تلگو محاورہ کی طرح ہے کہ ’’شیطان ویدوں کا درس دینے لگے‘‘ اپوزیشن پر ناراضگی سے زیادہ خود اپنی ناکامی پر یہ برت تھا ۔ جب حکومت خود کو اپوزیشن کے آگے بے بس تصور کر رہی ہے تو اسے اقتدار میں رہنے کا اخلاقی حق نہیں۔ مودی اور امیت شاہ جس طرح جملہ بازی ، ڈرامہ بازی اور سیاسی کرتب بازی میں مہارت رکھتے ہیں۔ ایک روزہ برت بھی اسی کا حصہ ہے۔ ملک کی دو بڑی پارٹیوں میں برت رکھنے کی مسابقت چل رہی ہے۔ راہول گاندھی کی قیادت میں دلتوں سے ہمدردی کے اظہار کیلئے کانگریس نے ملک بھر میں برت رکھا، جس کے جواب میں پارلیمنٹ کی کارروائی کے عنوان پر بی جے پی نے برت کی سیاست کی ہے۔ حقیقت تو یہ ہے کہ دونوں کی سیاسی ڈرامہ بازی ہے۔ کانگریس کو دلتوں سے ہمدردی ہے نہ بی جے پی کو پارلیمنٹ کی کارروائی نہ چلنے کا غم ہے۔ بی جے پی کو یہ غم اس وقت کیوں نہیں ہوا جب وہ اپوزیشن میں تھی ۔ یو پی اے دور حکومت میں 2G اور دوسرے اسکامس کے نام پر ایسے کئی دن ضائع کئے گئے تھے اور پارلیمنٹ کو ٹھپ کردیا تھا۔ اس وقت ایوان کے وقار اور عوامی رقومات کے ضائع ہونے کا خیال نہیں آیا۔ چند گھنٹے بھوکے رہنے سے مسائل حل تھوڑی ہوجائیں گے۔ اتنا ہی نہیں غریبوں کی بھوک کا احساس بھی نہیں ہوپائے گا۔ دونوں پارٹیوں کے برت پر عوام یہاں تک تبصرہ کررہے ہیں کہ ملک کو لوٹ کر قائدین سب کچھ ہضم کرچکے ہیں، ان کے چند گھنٹوں بھوکا رہنے سے کیا ہوگا؟

نریندر مودی نے سرکاری مصروفیات جاری رکھتے ہوئے برت رکھا اور برت کی حالت میں ٹاملناڈو کا دورہ کیا جبکہ امیت شاہ کرناٹک پہنچ گئے۔ بی جے پی نے جس طرح ارکان پارلیمنٹ کو اپنے اپنے انتخابی حلقوں میں برت کی ہدایت دی ، اس سے وسط مدتی انتخابات کے اشارے مل رہے ہیں۔ کہیں ایسا تو نہیں کہ بی جے پی مرکز میں حکومت کے خلاف عوامی ناراضگی میں مزید اضافہ سے قبل چناؤ کرانا چاہتی ہے۔ شمال مشرقی ریاستوں میں حالیہ کامیابی کی لہر برقرار رکھنے کیلئے یہ تجویز ہوسکتی ہے۔ مبصرین کے مطابق کرناٹک کے نتائج پر وسط مدتی چناؤ کا انحصار ہوگا ۔ بی جے پی پر کانگریس اور دیگر اپوزیشن کا خوف واضح دکھائی دے رہا ہے ، جہاں تک پارلیمنٹ کے تعطل کا سوال ہے ، اس مسئلہ سے عوام کو کوئی دلچسپی نہیں۔ پارلیمنٹ کی کارروائی نہ چلنے سے عوام کی صحت پر کوئی اثر پڑنے والا نہیں۔ عوام کا موجودہ پارلیمنٹ پر سے اعتماد اٹھنے لگا ہے کیونکہ عوام کے حق میں فیصلوں اور قانون سازی کے بجائے صرف سیاسی مقصد براری کیلئے ایوان کا استعمال ہورہا ہے ۔ پارلیمنٹ کے تعطل پر فکرمند نریندر مودی کو اس وقت برت کا خیال نہیں آیا ، جب ان کے دورِ چیف منسٹری میں گجرات میں 3,500 سے زائد معصوموں کو ہلاک کردیا گیا۔ ہزاروں متاثرہ خاندان آج بھی انصاف کو ترس رہے ہیں لیکن ان کے حق میں برت کرنے کا خیال کسی کو نہیں آیا۔ گجرات فسادات ہوں کہ فرضی انکاؤنٹرس، اترپردیش کے فسادات یا پھر گاؤ رکھشا کے نام پر سرعام انسانوں کا شکار ، ان مسائل پر کسی پارٹی کو برت کی توفیق نہیں ہوئی لیکن ووٹ بینک سیاست کے تحت دلتوں کے حق میں برت رکھا گیا۔ پارلیمنٹ کی کارروائی چلے یا نہ چلے اس سے عوام کو کوئی دلچسپی نہیں۔ برخلاف اس کے گجرات فسادات کے اثرات سے آج تک ملک ابھر نہیں سکا ہے۔ دنیا بھر میں ہندوستان کی جو بدنامی ہوئی ، وہ داغ شاید ہی کبھی دھل پائے۔ ہندوستان کی کسی بھی فیکٹری کا صابن اور ڈیٹرجینٹ مودی کے دامن کے دھبوں کو صاف نہیں کرپائے گا۔ مودی کو کس بات کیلئے برت رکھنا چاہئے اور کس عنوان پر برت رکھا ہے ۔ ملک کی دولت لوٹ کر فرار ہونے والوں کو پکڑنے میں ناکامی پر برت رکھیں۔

جارحانہ فرقہ پرست طاقتوں پر کنٹرول میں ناکامی ، عوام سے کئے گئے وعدوں سے انحراف ، نوٹ بندی اور جی ایس ٹی کے ذریعہ عوام پر بوجھ ، اچھے دن لانے میں ناکامی ، سب کا ساتھ ، سب کا وکاس نعرہ کے خلاف کام کرنے اور بیٹی بچاؤ نعرے کے باوجود کمسن لڑکیوں اور خواتین پر مظالم پر اظہار ندامت کیلئے برت رکھنا چاہئے ۔ کم از کم انہیں غریبوں کی بھوک کا احساس تو ہوگا لیکن یہاں تو برت کا معاملہ کچھ اس طرح ہے ’’غم لیڈر کو بہت ہے مگر آرام کے ساتھ ‘‘۔ گاندھی جی کا تعلق گجرات سے تھا لیکن مودی نے ان کے برت کو بھلادیا۔ فرقہ وارانہ فسادات کے بعد گاندھی جی نے ہندوؤں اور مسلمانوں میں بھائی چارہ اور امن کیلئے برت رکھا تھا۔ گاندھی کے نام لیوا اور خود کو گاندھی وادی کہنے میں فخر تو کیا جاتا ہے لیکن گاندھی کے برت کے مقصد کو فراموش کردیا گیا۔ کاش مودی کو گجرات کے فسادات اور متاثرین یاد ہوتے۔ ذکیہ جعفری کی فریاد انہیں سنائی دیتی۔ امریکہ نے گجرات فسادات کے بعد مودی کو ویزا کے سلسلہ میں بلیک لسٹ کردیا تھا لیکن وزیراعظم بنتے ہی امریکی حکمرانوں سے ٹوٹ کر گلے ملنے لگے۔ ٹرمپ سے پہلی ملاقات میں مودی اتنی بار بغلگیر ہوئے کہ ٹرمپ حیرت سے دیکھتے رہ گئے کہ یہ بے موقع اور بے محل کیوں بار بار گلے پڑ رہے ہیں۔

کرناٹک میں انتخابی سرگرمیوں کے تیز ہوتے ہی دلتوں پر سیاست گرم ہوچکی ہے۔ بی جے پی اور کانگریس دونوں 19 فیصد دلت ووٹ حاصل کرنے ہر ممکنہ پینترے استعمال کر رہے ہیں۔ کانگریس کے صدر راہول گاندھی ملک میں پارٹی کے آخری مورچہ کو بچانے کیلئے میدان میں ہے ، دوسری طرف امیت شاہ کرناٹک کے ذریعہ جنوبی ہند میں بی جے پی کے داخلہ کی تیاری کر رہے ہیں۔ دلتوں کے نام پر کانگریس نے ملک گیر سطح پر برت رکھا اور دوسری طرف امیت شاہ نے اعلان کیا کہ آئندہ پانچ برسوں میں کرناٹک کے ہر دلت اور غریب کو پکا مکان دیا جائے گا ۔ امیت شاہ کا یہ اعلان 2014 ء کے اس سیاسی جملہ کی طرح ہے جس میں وزیراعظم نے ہر شخص کے اکاؤنٹ میں 15 لاکھ روپئے کا وعدہ کیا تھا۔ کرناٹک میں امیت شاہ کو عوام پر گرفت نہیں مل پارہی ہے ۔ عام جلسوں اور پریس کانفرنس میں امیت شاہ ایک سے زائد مرتبہ اپنی پارٹی کے قائد یدی یورپا کا نام بھول گئے اور کئی ایسی غلطیاں کیں جس سے واضح ہورہا تھا کہ امیت شاہ کرناٹک کے بارے میں پرامید نہیں ہیں۔ انتخابی مہم میں نریندر مودی کے داخلہ کے بعد صورتحال کیا رہے گی، ہر کسی کی نگاہیں منتظر ہے۔ کانگریس کے چیف منسٹر سدا رامیا کی مقبولیت پارٹی سے زیادہ ہے ۔ اگر یوں کہا جائے تو غلط نہ ہوگا کہ کرناٹک میں کانگریس پیچھے ہے اور سدا رامیا آگے چل رہے ہیں۔ سیکولر ووٹ کی تقسیم کو روکنے کیلئے راہول گاندھی نے جو حکمت عملی تیار کی ہے ، اس کا انکشاف بہت جلد کیا جائے گا۔ بی جے پی کو بہار ، اترپردیش اور مہاراشٹرا کی طرح کرناٹک میں سیکولر ووٹ تقسیم کرنے کا موقع شائد نہیں ملے گا۔ ہوسکتا ہے کہ بی جے پی انتخابات کو فرقہ وارانہ رنگ دینے کی کوشش کرے کیونکہ پارٹی کے لئے یہ آخری حربہ ہوگا جس کے ذریعہ وہ ہندوؤں کے ووٹ متحد کرسکتی ہے۔ بی جے پی نے چیف منسٹر کے امیدوار کی حیثیت سے جس شخصیت کا نام پیش کیا ہے ، وہ چیف منسٹر کی حیثیت سے کئی بے قاعدگیوں میں ملوث ہونے کے الزامات کا سامنا کر رہے ہیں۔ یدی یورپا کے مقابلہ عوام کی اولین ترجیح سدا رامیا رہے گی۔ سدا رامیا کرناٹک میں این ٹی آر کی طرح علاقائی جذبات کو ہوا دے کر عوام کو اپنے حقوق کیلئے باشعور بنانے میں مصروف ہے۔ انہوں نے کرناٹک کیلئے علحدہ پرچم کی مہم شروع کی ہے جس سے ان کی مقبولیت میں مزید اضافہ ہوا۔ دیکھنا یہ ہے کہ کیا مودی۔امیت شاہ جوڑی سدا رامیا کو شکست دے پائے گی ؟ ڈاکٹر راحت اندوری نے سیاسی صورتحال پر کیا خوب کہا ہے ؎
جو طور ہے دنیا کا اسی طور سے بولو
بہروں کا علاقہ ہے ذرا زور سے بولو