پٹنہ 5 مارچ (سیاست ڈاٹ کام) چیف منسٹر بہار نتیش کمار نے آج اپنے پیشرو جتن رام مانجھی کے عہدہ چھوڑنے سے ایک دن قبل کئے گئے 34 مقبول عام فیصلوں کی تنسیخ کو حق بجانب قرار دیا ہے اور کہاکہ بنیادی طور پر یہ کوئی فیصلے تھے اور نہ ہی کسی طریقہ کار پر عمل درآمد کیا گیا۔ اُنھں نے میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے بتایا کہ قانونی رائے کی بنیاد پر سابق چیف منسٹر مانجھی کے فیصلوں کو منسوخ کردیا گیا جبکہ ماہرین قانون کا استدلال ہے کہ یہ فیصلے کرتے وقت مروجہ طریقہ کار کو پیش نظر نہیں رکھا گیا اور عجلت پسندی میں شہرت حاصل کرنے کیلئے فیصلے کردیئے گئے۔ اُنھوں نے بتایا کہ ان فیصلوں کی منظوری کیلئے کابینہ میں کوئی نوٹ پیش نہیں کیا گیا جس کے باعث عاملانہ اختیارات کی سنگین خلاف ورزی کی گئی ہے۔ اُنھوں نے مزید بتایا کہ راشٹریہ جنتادل کے بعض قائدین اور حامیوں نے بھی مانجھی حکومت کے فیصلوں پر نظرثانی کا اصرار کیا ہے جس کے بعد متعلقہ محکموں سے میرٹ کی بنیاد پر ان فیصلوں کا جائزہ لینے کی ہدایت دی گئی ہے۔ اُنھوں نے کہاکہ میرا یہ عزم مصمم ہے کہ بہترین حکمرانی فراہم کروں لیکن میں بے قاعدہ فیصلوں پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرسکتا ۔