پٹنہ ۔ 18 فبروری (سیاست ڈاٹ کام) بہار میں اپوزیشن بی جے پی نے آج چیف منسٹر جتن رام مانجھی کی 20 فبروری کو تحریک اعتماد کے دوران تائید میں ووٹ دینے کا اشارہ دیا ہے۔ پارٹی کے تمام ارکان اسمبلی نے اس کی تائید کی تاکہ نتیش کمار کو ایک مہادلت کی توہین کا مؤثر جواب دیا جاسکے۔ سینئر بی جے پی لیڈر سشیل کمار مودی نے آج بتایا کہ پارٹی ارکان اسمبلی کی متفقہ طور پر یہ رائے تھی کہ تحریک اعتماد کے دوران جتن رام مانجھی کی تائید کی جانی چاہئے۔ اس طرح سابق چیف منسٹر نتیش کمار کو ایک مہا دلت کی توہین کا مؤثر جواب دیا جاسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ اقدام مہادلت کی توہین کا انتقام ہوگا۔
نتیش کمار کو سبق سکھانا ضروری ہے۔ بی جے پی ارکان اسمبلی کا کل دوبارہ اجلاس ہوگا جس میں لائحہ عمل پر غوروخوض کے بعد قطعی فیصلہ کیا جائے گا۔ سشیل کمار مودی نے کہا کہ پارٹی کی مرکزی قیادت کو ارکان اسمبلی کی رائے سے واقف کرایا جائے گا اور اس کے بعد ہی کوئی فیصلہ ہوگا۔ بی جے پی ارکان اسمبلی کی تائید نے چیف منسٹر مانجھی کو اخلاقی حوصلہ فراہم کیا ہے۔ بہار اسمبلی میں بی جے پی کے 87 ارکان ہیں۔ اگر یہ تمام مانجھی کی تائید کرتے ہیں تو انہیں ایوان میں 117 کی درکار تائید حاصل کرنے کیلئے مزید 30 ارکان کی حمایت درکار ہوگی۔ ایوان کی موجودہ مجموعی تعداد 233 ہے۔
اس دوران بی جے پی نے نتیش کمار پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وہ اقتدار کے بھوکے ہیں اور وہ مانجھی کی توہین کرتے ہوئے دلتوں کے اعتماد سے محروم ہوگئے ہیں۔ اس دوران جے ڈی (یو) یا بی جے پی میں سے کون اپوزیشن پارٹی ہوگی اس کا فیصلہ کرنے سے قاصر رہنے پر کل جماعتی اجلاس نے اسپیکر ادئے نارائن چودھری کو اس کا اختیار دے دیا جبکہ بی جے پی نے اس فیصلہ کے خلاف بطور احتجاج واک آوٹ کیا۔ 20 فبروری کو موجودہ چیف منسٹر بہار جیتن رام مانجھی خط اعتماد حاصل کریں گے۔ آج سے مختلف پارٹیوں کی ڈنر ڈپلومیسی کا آغاز ہوگیا ہے۔ جے ڈی (یو) مقننہ پارٹی کے قائد وجئے چودھری نے اسپیکر سے پرزور اپیل کی کہ ان کی پارٹی کو اپوزیشن کا موقف دیا جائے اور انہیں قائد اپوزیشن تسلیم کیا جائے۔ سابق چیف منسٹر نتیش کمار نے جے ڈی (یو) کے قائد کی تائید کی۔ تاہم موجودہ قائد اپوزیشن بی جے پی کے نند کشور یادو نے فیصلہ کی مخالفت کی۔