لکھنؤ۔/13فبروری، ( سیاست ڈاٹ کام ) بہوجن سماج پارٹی سربراہ مایاوتی نے آج بی جے پی پر الزام عائد کیا کہ وہ بہار میں صدر راج نافذ کرنے کی کوشش میں ہے تاکہ آئندہ اسمبلی انتخابات میں سیاسی فائدہ اٹھایا جاسکے۔ انہوں نے میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ بی جے پی نے اقتدار پر قبضہ کی سازش تیار کی ہے جس کے تحت عقبی دروازہ سے بہار میں صدر راج نافذ کرنے کی کوشش میں ہے تاکہ آئندہ اسمبلی چناؤ میں انتخابی فوائد حاصل کرسکے۔ بہار میں جاریہ سال کے اواخر میں اسمبلی انتخابات منعقد ہونے والے ہیں ۔
حالیہ اختتام پذیر دہلی اسمبلی انتخابات میں بی جے پی کی شکست فاش پر مایاوتی نے کہا کہ نتائج نے یہ ثابت کردیا کہ ملک کے عوام محض وعدے اور بلند بانگ دعوے پسند نہیں کرتے۔ انہوں نے کہا کہ دہلی میں ناقص مظاہرہ پر عبرت حاصل کرنے کی بجائے بی جے پی قدیم روش پر گامزن ہے اور جھار کھنڈ میں ارکان اسمبلی کو انحراف کی ترغیب دے رہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ بی جے پی محض جھوٹے وعدوں کے ذریعہ 31فیصد ووٹ حاصل کرتے ہوئے مرکز میں برسر اقتدار آئی ہے حتیٰ کہ بی جے پی کی رکنیت سازی کو حد سے زیادہ بڑھا چڑھا کر پیش کیا جارہا ہے لیکن عوام سے کئے گئے وعدوں کی تکمیل میں ناکامی پر دہلی میں بی جے پی کو شکست اٹھانی پڑی ہے
جبکہ وہ اقتدار میں آنے کے بعد سرمایہ داروں کی ہمدرد نکلی۔ بی ایس پی لیڈر نے کہا کہ بی جے پی کو عوام دشمن پالیسیوں اور فرقہ وارانہ ایجنڈہ پر عمل آوری اور تکبر و خود ستائی کی وجہ سے اس کے مضبوط گڑھ دہلی میں مسترد کردیا گیا جبکہ اس شکست سے نہ صرف ملک بلکہ امریکہ میں بھی بی جے پی کا امیج خراب ہوگیا ہے۔ہندوستان میں مذہبی آزادی پر امریکی صدر بارک اوباما اور امریکی اخبارات کے منفی تبصروں کے بعد اب یہ مسلئہ بین الاقوامی بن گیا ہے۔ دہلی کے انتخابات میں بی ایس پی کی ناکامی پر انہوں نے کہا کہ چونکہ عوام پر بی جے پی کو سبق دکھانے کا بھوت سوار تھا جس کے باعث پارٹی امیدواروں کو شکست اٹھانی پڑی۔ دہلی کے انتخابی نتائج کو اتر پردیش کی مثبت علامت قرار دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سماج وادی پارٹی حکومت بھی بی جے پی کی طرح کام کررہی ہے اور اشتہارات کے ذریعہ بلند دعوے اور عوام کو گمراہ کررہی ہے۔