امجد خان
ہمارے وزیر اعظم مودی نے براہ راست راہول گاندھی کا مذاق اڑانے کی کوشش میں صاف طور پر ڈسلیکسیا (Dyslexia) کے شکار طلبہ کا ہی مذاق اڑا دیا۔ اس کے بعد لوگوں کا غصہ سمجھ میں آنے لائق ہے۔سب سے خراب بات یہ ہے کہ انہوں نے یہ افسوس ناک تبصرہ ایک اسکل انڈیا مقابلہ کے فائنل میں پہنچے کھلاڑیوں کے ساتھ ایک ویڈیوکانفرنس سیشن کے دوران کیا، جب ایک طالبہ اپنے پروجیکٹ کے بارے میں تفصیلات فراہم کررہی تھی، جو ڈسلیکسیا سے متاثر بچوں کی مدد کر سکتا ہے۔ یہاں اس بات کا تذکرہ بھی اہم ہے ڈسلیکسیا سے مراد تعلیم میں طلبہ مشکلات کا جو سامنا کرتے ہیں وہ ہے۔ راہول گاندھی پر تنقید کرنے کا کوئی بھی موقع نہ گنوانے والے مودی نے موقع بھانپتے ہوئے مذاق اڑانے کے لہجے میں پوچھا کہ کیا اس سے 40 تا50 سال کی عمر کے طلبہ کو بھی مدد ملے گی۔ جب اس طالبہ نے ہاں میں جواب دیا، تب انہوں نے کہا، اگر ایسا ہے تو یہ ایسے بچوںکی ماؤں کے لئے خوشخبری ہے۔ اس پر سامعین قہقہہ لگانے لگے۔ اب یہ سوال پیدا ہوتا ہے کس اسکول یا یونیورسٹی میں 50 سالہ طلبہ پڑھتے ہیں؟ ڈسلیکسیا یا کسی بھی طرح کا عذر ہنسنے کی بات نہیں ہے۔ ہندوستان میں معذور افراد پر ہنسنا عام بات ہے۔ عام چلن میں کوئی بھی آدمی جو ظاہری طور پر معذور ہو، بھدے مذاق کا نشانہ ہوا کرتا ہے لیکن حالیہ برسوں میں لوگوں کو حساس بنانے کی کوششوں نے اس صورت حال کو تبدیل کرنا شروع کیا ہے۔ یقینی طور پر اونچے عوامی عہدے پر بیٹھے لوگ کسی معذورکا مذاق ہی نہیں اڑائیںگے-ان سے تو مثال قائم کرنے کی امید کی جاتی ہے۔ لیکن بلاشبہ، مثالیں پھربھی مل جاتی ہیں۔ نومبر 2015 میں اس وقت صدر کے عہدے کے امیدوار ڈونالڈ ٹرمپ نے نیویارک ٹائمس کے ایک بے حد معذور نامہ نگار کا مذاق بنایا تھا۔ اس پوری مہم کے دوران ٹرمپ ناشائستگی کا مجسمہ بنے رہے۔کبھی انہوں نے میکسیکن لوگوں کو ریپسٹ کہا، تو کبھی یہ جتایا کہ ایک خاتون اینکر ان سے مشکل سوال اس لئے پوچھ رہی تھی کیونکہ اس کے پیریڈس چل رہے تھے لیکن خواتین اور اقلیتوں کے خلاف اپنی توہین آمیز تنقیدوں کے باوجود وہ انتخاب جیت گئے اب جبکہ ہندوستانی عوام انتخابات کے لئے کمرکس رہے ہیں، نریندر مودی عالمی سطع پر حکمرانوں کے ساتھ ملنے جلنے والے عالمی رہنما ہونے کے بچے-کھچے لبادے کو بھی اتار پھینک رہے ہیں اوراکثر اپنے پسندیدہ نشانے مسلمان، کانگریس اور نہروگاندھی فیملی پر تنقیدیںکرتے ہوئے بھونڈے پن کی مثالیں پیش کررہے ہیں۔ ان کے ‘50 کروڑ کی گرل فرینڈ‘، قبرستان ،سونیا گاندھی اور راہول گاندھی کے لئے‘ جرسی گائے اور اس کا ہائبرڈ بچھڑا ‘ جیسے سارے بیان کسی نہ کسی انتخابی تشہیر کے دوران کے ہی سامنے آئے ہیں۔ ان میں سے کچھ بیانات یقینی طور پر احتیاط سے تیار کیے گئے ہوںگے اور بھیڑ کے جذبات کو جگانے کے لئے اور رائے دہندگان کو صحیح وقت پر اشارہ دینے کے مقصد سے تقریروں میں شامل کیے گیے ہوںگے لیکن، اس کا مقصد یقینی طور پر پارٹی کارکنان کو یہ بتانا بھی رہا ہے کہ ان کی حکمت عملی جارحانہ طورپر اقلیت مخالف اورگاندھی فیملی کو مسلسل طریقے سے گالیاں دینے والی ہونی چاہیے۔ نہرو اور ان کی اولاد کے خلاف سنگھی نفرت کوئی چھپی ہوئی چیز نہیں ہے، حالانکہ گناہوں کی پوری فہرست کے لئے خاص طور پر نہرو ،سونیا اور راہول گاندھی کو نفرت کا نشانہ بنایا جاتا ہے لیکن، مسلسل طریقے سے کی گئی بے عزتی کے باوجود اس کا نتیجہ خواہش کے مطابق نہیں رہا ہے۔ ہندوستان کی جدیدکاری کرنے والے کے طور پر نہرو کا مقام اپنی جگہ قائم و دائم ہے اور ان کی وراثت کی تردید کی کوشش پوری طرح سے کامیاب نہیں ہوئی ہے۔ جہاں تک راہول گاندھی کا سوال ہے، تو انہوں نے سب کو چونکایا ہے اور تین بڑی ریاستوں میں اسمبلی انتخابات میں کامیابی درج کرنے کے بعد انہوں نے مودی کی نیند اڑادی ہے۔ مودی کے حالیہ بیان سے اس بات کی تصدیق ہوتی ہے کہ کانگریس صدر نے ان کے سامنے پریشانی کھڑی کر دی ہے۔ لیکن صرف مذاق اڑانا یا غیرمہذب تبصرہ کرنا ہی مودی کے مخصوص انداز کا حصہ نہیں ہے۔ وزیر اعظم کے طور پر پورے ہورہے قریب پانچ سال سے، انہوں نے چونکانے والی تعداد میں غلطیاں کی ہیں اور کئی عجیب دعوے کئے ہیں۔ انہوں نے ڈاکٹروں اور سیلیبرٹیوں سے بھرے ایک جلسہ میں یہ دعویٰ کیا کہ قدیم دور میں جینٹک سائنس اور پلاسٹک سرجری کا وجود تھا۔ انہوں نے آب وہواکی تبدیلی کو مستردکر دیا اور کہا‘آب وہوا میں تبدیلی نہیں ہو رہی ہے، دراصل ہم بدل رہے ہیں۔ نالے سے باورچی خانہ کی گیس نکالنے کی بات بھی انہوں نے ہی دنیا کو بتائی۔ تاریخی حقائق پر بھی ان کی گرفت مشکوک ہی ہے۔ میڈیا میں ان کی طرف کئی بار توجہ دلائی گئی ہے اور ٹوئٹر پر ہزاروں چٹکلے بن چکے ہیں لیکن ان سب سے بھکتوں کو کوئی فرق نہیں پڑتا۔ یہاں تک کہ ویسے لوگ بھی جو خود کومہذب شہری سمجھتے ہوںگے، وہ بھی ان کے مذاق یا جھوٹی باتوں سے پریشان نہیں ہوتے ہیں۔ وہ بس ان کو نظرانداز کر دیتے ہیں ۔