نیویارک،09 ستمبر (سیاست ڈاٹ کام ) ناومی اوساکا نے فائنل میں پہنچنے کے بعد کہا تھا کہ ان کے بچپن کی مثالی سرینا ولیمز کے ساتھ یو ایس اوپن میں کھیلنے کا خواب پورا ہونے جا رہا ہے ۔ لیکن پھر انہیں بھی توقع نہیں رہی ہوگی کہ 23 بار کی گرینڈ سلیم چمپئن پر مسلسل سیٹوں میں آسان جیت کے ساتھ وہ اپنے ملک جاپان کی پہلی میجر چمپئن بن جائیں گی۔20 سال کی اوساکا نے امریکی کھلاڑی سرینا کو خواتین کے سنگلز فائنل میں مسلسل سیٹوں میں 6-2 6-4 سے شکست دے کر نہ صرف اپنے بچپن کا خواب پورا کر لیا بلکہ وہ گرینڈ سلیم جیتنے والی جاپان کی پہلی کھلاڑی بن گئیں۔متنازعہ فائنل میں سرینا کو قوانین کی خلاف ورزی کے لئے پھٹکار بھی لگی۔ پہلی بار گرینڈ سلیم فائنل میں پہنچی اوساکا اور چھ بار کی چمپئن سرینا کے درمیان فائنل یکطرفہ ہونے کے بجائے مہم جوئی اور تنازعہ سے بھرا رہا۔جہاں ایک طرف اوساکا جاپان کی خواتین اور مرد کسی بھی کلاس میں گرینڈ سلیم جیتنے والی پہلی کھلاڑی بننے کے لیے کھیل رہی تھیں تو سرینا کی نگاہیں مارگریٹ کورٹ کے 24 سنگلز میجر خطاب کی برابری کر تاریخ میں اپنا نام درج کروالے کی ہڑبڑاہٹ دکھائی دے رہی تھی۔اس طرح امریکی شہر نیویارک میں رواں برس ٹینس کے آخری گرینڈ سلیم ٹورنامنٹ میں ویمنزچمپئن شپ جاپان کی ناؤمی اوساکا نے جیت لی ہے ۔ ہفتے کو کھیلے گئے چمپئن شپ کے فائنل میچ میں سیرینا ولیمز کو شکست ہوئی۔بیس سالہ ناؤمی اوساکا پہلی جاپانی خاتون ہیں جنہوں نے ٹینس کا کوئی گرینڈ سلیم ٹائٹل جیتا ہے ۔سیرینا ولیمز چوبیسواں گرینڈ سلیم ٹورنامنٹ جیتنے کی کوشش میں تھیں۔ انہیں مسلسل دوسرے گرینڈ سلیم ٹورنامنٹ میں شکست ہوئی ہے ۔ اگر انہیں کامیابی حاصل ہوتی تو وہ سب سے زیادہ گرینڈ سلیم ٹورنامنٹ جیتنے والی مارگریٹ کورٹ کے ہم پلہ ہو جاتیں۔ دو ماہ قبل وہ لندن میں کھیلے جانے والے ومبلڈن ٹینس ٹورنامنٹ کے فائنل میں جرمن کھلاڑی اینجلیک کیربر سے ہار گئی تھیں۔یُو ایس اوپن کے فائنل میچ کے دوران سیرینا ولیمز کی ریفری کے ساتھ بدمزگی بھی ہوئی۔ میچ ریفری کارلوس راموس نے امریکی کھلاڑی کو متنبہ کیا کہ وہ باہر بیٹھے اپنے کوچ سے کھیل کی ہدایات مت لیں کیونکہ یہ قواعد کے منافی ہے ۔ اسی طرح ایک پوائنٹ ہارنے پر امریکی کھلاڑی نے اپنا ریکٹ زمین پر مارا اور ریفری نے اسے کھیل کے ضابطہ اخلاق کے منافی قرار دیا۔ریفری کی دوسری وارننگ پر سیرینا ولیمز نے چیختے ہوئے ریفری کو جھوٹا اور چور تک کے القابات سے نواز ڈالا۔ اس چیخنے پر ریفری نے سیرینا کو ایک اور یعنی تیسری وارننگ دیتے ہوئے اُن کے پوائنٹس میں کٹوتی بھی کر دی۔ اس کٹوتی پر وہ پہلا گیم ہار گئیں۔میچ میں بدمزگی کے بعد نیویارک کے ٹینس کمپلیکس میں امریکی شائقین کی جانب سے جاپانی کھلاڑی کو ٹرافی دینے پر قدرے ناپسندیگی کا اظہار کیا گیا۔ اس پر سیرینا ولیمز نے آرتھر ایش اسٹیڈیم کے شائقین سے کہا کہ وہ نوجوان چمپئن کا احترام کریں۔ امریکی لیجنڈ کا درجہ رکھنے والی سیرینا ولیمز نے اوساکا کو شاندار الفاظ میں خراجِ تحسین پیش کیا۔یہ امر اہم ہے کہ جاپانی کھلاڑی اپنی امریکی حریف سے سولہ برس چھوٹی ہیں۔ ٹرافی حاصل کرنے کے بعد ناؤمی اوساکا نے کہا کہ سیرینا ولیمز کے ساتھ میچ کھیلنا ایک بہت بڑے اعزاز کے مساوی ہے ۔آتھر ایش اسٹیڈیم میں کھیلے گئے اس میچ میں جاپان کی ناؤمی اوساکا نے ابتدا سے ہی امریکی اسٹار کھلاڑی کو اپنے دباؤ میں رکھا۔امپائر نے سرینا ویلیمز پر الزام عائد کیا کہ انہوں نے دورانِ میچ اپنے کوچ سے کوچنگ (اشارے میں) لی ہے ، جس کے بعد ان کے خلاف ریکٹ کے غلط استعمال کا الزام عائد کیا گیا اور ان کی حریف کھلاڑی کو ایک پوائنٹ دے دیا گیا۔ میچ کے بعد پریس کانفرنس کے دوران انہوں نے کہا کہ ان کے کوچ نے انہیں کوئی اشارہ نہیں دیا تھا، اگر ایسا کوئی اشارہ دیا بھی ہوگا تو اس میں یہ پیغام ہوگا کہ ‘تم بہت اچھا کھیل رہی ہو’۔امریکی ٹینس اسٹار نے کہا کہ اگر انہیں شاباشی کا اشارہ ملتا بھی ہے تو وہ اس میں میچ کے لیے اپنی حکمت عملی کا اشارہ کیسے اخذ کریں گی؟ایک سوال کے جواب میں سرینا ویلیمز نے اپنی حریف کھلاڑی کو اس کے کھیل پر داد بھی دی۔واضح رہے کہ سرینا ویلیمز نے اپنا آخری یو ایس اوپن ٹائٹل 2014 میں جیتا تھا، اور اس کے بعد سے اب تک یہ ان کا پہلا فائنل مقابلہ تھا، جبکہ وہ اس سے قبل 6 مرتبہ یہ ٹائٹل اپنے نام کرچکی ہیں۔